ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے اعلان کیا ہے کہ کراچی میں جاں بحق ہونے والے شہریوں کے سوگ میں ایم کیو ایم نے فیصلہ کیا ہے کہ عید سادگی سے منائی جائے۔
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کراچی کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس شہر کی سڑکیں رمضان بھر میں خون سے سرخ ہوتی رہیں، مگر حکومت نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔
خالد مقبول کا کہنا تھا کہ اس شہر کے مکین پہلے ڈاکوؤں کے ہاتھوں لٹتے رہے اور اب ڈمپر اور ٹرک مافیا نے کراچی کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ عدالتیں چھوٹے چھوٹے معاملات پر سوموٹو لیتی ہیں، مگر کراچی کے عوام کے لیے کوئی آواز نہیں اٹھتی۔
ایم کیو ایم پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ وہ کراچی میں جاری مسائل اور ناانصافیوں کے خلاف عدالت میں پٹیشن دائر کرے گی۔ خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہم پہلے بھی عدالتوں میں گئے، مگر ہماری لاتعداد پٹیشنز سسک رہی ہیں۔
ڈاکٹر خالد مقبول نے خبردار کیا کہ اگر حالات یونہی چلتے رہے تو کراچی ایک بار پھر 80 کی دہائی کی صورتحال کی طرف جا سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس شہر کو پہلے ڈرگ مافیا اور اسلحہ مافیا نے تباہ کیا اور اب چوروں، ڈاکوؤں کو کھلی چھوٹ دی جا رہی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کراچی کے اصل شہریوں کو ان کے حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے، جب کہ جعلی ڈومیسائل پر نوکریاں حاصل کرنے والوں کو پنشن سمیت تمام سہولیات دی جا رہی ہیں۔
ایم کیو ایم رہنما نے کراچی کے مخیر حضرات سے اپیل کی کہ وہ آگے آئیں اور شہر کے حقوق کے لیے جدوجہد کریں۔
انہوں نے کہا کہ “آج بھی جناح اسپتال سمیت کئی ادارے مخیر حضرات کے تعاون سے چل رہے ہیں، جب کہ کراچی کے شہری پانی کا ٹیکس دینے کے باوجود پانی ٹینکروں سے خریدنے پر مجبور ہیں۔
دوسری جانب ان کا کہنا تھا کہ سندھ ہائیکورٹ اور سندھ حکومت نے چارج پارکنگ ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے، لہٰذا شہری کسی صورت جعلی چارج پارکنگ مافیا کو پیسے نہ دیں۔
آخر میں خالد مقبول صدیقی نے مطالبہ کیا کہ کراچی کے شہریوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا ازالہ کیا جائے اور ڈمپر و ٹینکر حادثات میں جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کے لیے معاوضے کا اعلان کیا جائے۔