جنوبی غزہ کے علاقے خان یونس میں اسرائیلی فضائی حملے نے عید کی خوشیاں سوگ میں بدل دیں، اسرائیلی بمباری میں ایک خیمہ اور ایک گھر نشانہ بنے، جس میں 10 فلسطینی شہید ہو گئے، جن میں معصوم بچے بھی شامل ہیں، جب کہ 20 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔
خان یونس کے سول ڈیفنس ڈائریکٹر یامن ابو سلیمان نے عالمی نشریاتی ادارے سی این این کو بتایا کہ زخمیوں میں کئی کی حالت تشویشناک ہے، جس کے باعث شہادتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
حملے کے بعد سامنے آنے والی ویڈیوز دل دہلا دینے والی ہیں، کچھ بچے عید کے نئے کپڑوں میں خون میں لت پت نظر آئے۔
ایک شخص نے اسپتال کے باہر تڑپتے بچے کو اٹھاتے ہوئے آہ و زاری کرتے ہوئے کہا کہ ‘ان معصوم بچوں کا کیا قصور تھا؟ یہ تو صرف عید منانا چاہتے تھے۔’
غزہ میں اس بار عید خوشیوں کے بجائے غم اور تکلیف کا استعارہ بن گئی ہے۔
ایک اور بے گھر فلسطینی خاتون آمنہ شقلا نے عالمی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ ہر سال میں اپنے بچوں کے لیے عید کی مٹھائی بناتی تھی، لیکن اس بار بمباری اور مہنگائی کے باعث صرف ایک کلو ہی بنا سکی، تاکہ بچوں کو یہ احساس نہ ہو کہ ان کی خوشیاں بھی جنگ کی نذر ہو گئی ہیں۔
دوسری جانب بازاروں میں بھی صورتحال انتہائی خراب ہے۔ دکاندار عبد الفتاح خلیل کرناوی کا کہنا تھا کہ عید کے کپڑوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور بیشتر والدین اپنے بچوں کو نئے کپڑے نہیں دلا سکے۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے دو ہفتے قبل غزہ میں دوبارہ اپنی فوجی کارروائیاں شروع کیں، جس سے دو ماہ سے جاری جنگ بندی ختم ہو گئی۔ اسرائیلی فوج نے نہ صرف غزہ کے مختلف علاقوں پر بمباری بڑھا دی بلکہ انسانی امداد کی ترسیل پر بھی مکمل پابندی لگا دی ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کی فوج غزہ میں ‘مستقل موجودگی’ برقرار رکھے گی، جب تک کہ تمام یرغمالیوں کی رہائی نہیں ہو جاتی۔
الماوسی، جو رفح کے مغرب میں واقع ایک ساحلی علاقہ ہے، بار بار اسرائیلی حملوں کی زد میں ہے، حالانکہ اسرائیل نے خود اسے ‘محفوظ انسانی زون’ قرار دیا تھا۔
یہاں ہزاروں فلسطینی کئی ماہ سے پناہ لیے ہوئے ہیں، جو کپڑے اور پلاسٹک کے عارضی خیموں میں زندگی گزار رہے ہیں، مگر اسرائیلی حملوں نے یہاں بھی لوگوں کو سکون کا سانس لینے نہیں دیا۔
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اپنی حکومت کے اجلاس میں بیان دیا کہ ان کی فوجی مہم کامیاب ہو رہی ہے۔
نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ ہم ایک ساتھ دو کام کر رہے ہیں، حماس کی فوجی اور حکومتی طاقت کو کچل رہے ہیں اور اپنے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے حالات پیدا کر رہے ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم نے مزید کہا کہ ان کی حکومت ٹرمپ پلان – رضاکارانہ ہجرت کے منصوبے پر عمل درآمد کرے گی، جس کے تحت فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
دوسری طرف حماس نے مصر کے ذریعے ایک نئی جنگ بندی تجویز پر رضامندی ظاہر کی ہے، اس معاہدے کے تحت پانچ یرغمالیوں کی رہائی پر اتفاق کیا گیا ہے، جن میں ایک امریکی-اسرائیلی شہری ایڈان الیگزینڈر بھی شامل ہیں۔
اس معاہدے کے بدلے حماس نے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ میں انسانی امداد بحال کی جائے اور جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے لیے اسرائیل مذاکرات کرے۔