راولپنڈی اور اسلام آباد میں افغان مہاجرین کے گرد گھیرا مزید تنگ کردیا گیا ہے، حکومت نے افغان سٹیزن کارڈ (ACC) کے حامل افراد کو آج 31 مارچ تک ملک چھوڑنے کی آخری مہلت دے دی تھی اور جیسے ہی یہ ڈیڈ لائن ختم ہوئی تو پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آگئے ہیں۔
راولپنڈی کے پولیس چیف کی جانب سے تمام افغانیوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا گیا ہے۔ ان احکامات کے تحت، افغان شہریوں کو جنہیں غیر قانونی طور پر یہاں رہنے کی اجازت حاصل ہے، ان سب کو فوری طور پر گرفتار کرکے ملک بدر کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
ان تمام افراد کے خاندانوں کو بھی اس صورت میں ملک سے نکال دیا جائے گا جب ان کے کسی رکن کو جرائم میں ملوث پایا گیا۔
پولیس حکام نے یہ بات بھی واضح کردی ہے کہ افغان شہریوں کو صرف ان کی شناخت کی بنیاد پر گرفتار نہیں کیا جائے گا بلکہ اگر کسی افغان شہری کا کوئی رشتہ دار جرم میں ملوث پایا گیا تو بھی پورا خاندان وطن واپسی کے لیے مجبور ہوگا۔
یہ اقدامات حکومت کی جانب سے افغانیوں کے خلاف سختی میں اضافے کی ایک کڑی کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
تاہم، اس سب کے باوجود حکومت نے افغان پروف آف رجسٹریشن (PoR) کارڈ ہولڈرز کے لیے جون 30 تک کا وقت دے رکھا ہے۔ ان کے خلاف فوری طور پر کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی لیکن ان کے لیے بھی واضح پیغام ہے کہ وہ بھی اس تاریخ تک پاکستان چھوڑ دیں۔
اس کے علاوہ ایسے افغان شہری جو افغان سٹیزن کارڈ (ACC) کے حامل ہیں، ان کے لیے ملک چھوڑنے کی ہدایت دی جا رہی ہے اور اگر وہ اس ہدایت کو نظر انداز کرتے ہیں تو انہیں جبراً ملک بدر کر دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:عید الفطر: ‘ہمیں کشمیر اور فلسطین کے مظلوم بھائیوں کو آج کے دن یاد رکھنا ہوگا’ شہباز شریف
اس مسئلہ کی شدت میں اس وقت اضافہ ہوا جب پولیس کی جانب سے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔ 923 افغان شہریوں کو گرفتار کر کے انہیں گولڑا موڑ کے پناہ گزین مرکز منتقل کیا گیا۔ اس دوران 715 افراد کو جانچ پڑتال کے بعد رہا کیا گیا ہے جبکہ 213 افغان شہریوں کو واپس افغانستان بھیج دیا گیا ہے۔
یہ کارروائیاں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان مہاجرین کے مسئلے پر اقوام متحدہ نے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
UNHCR کی پاکستان میں نمائندہ ‘فلیپا کینڈلر’ نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان کا افغان مہاجرین کے لیے اس قدر طویل عرصے تک پناہ دینے کا عمل قابل تحسین ہے لیکن اب اس مسئلہ کا حل عالمی سطح پر مشترکہ تعاون سے ممکن ہے۔
پاکستان، افغانستان اور عالمی برادری کو مل کر افغان مہاجرین کی مشکلات حل کرنی ہوںگی تاکہ افغان مہاجرین کو واپس اپنے وطن جانے کا محفوظ راستہ مل سکے۔
کینڈلر نے مزید کہا کہ پاکستان کو افغان مہاجرین کے بوجھ کو اپنے وسائل کے ذریعے سہارا دینا انتہائی مشکل ہو رہا ہے کیونکہ اس سے پاکستان کے تعلیمی، صحت اور دیگر عوامی خدمات پر اضافی دباؤ پڑ رہا ہے۔
مزید پڑھیں: ‘مسلم حکمرانوں کے پاس ہر چیز ہے مگر غیرت اور ہمت نہیں’ امیر جماعت اسلا می