اپریل 3, 2025 12:47 شام

English / Urdu

Follw Us on:

میں روسی تیل خریدنے والے ممالک پر اضافی ٹیکس عائد کر دوں گا، ڈونلڈ ٹرمپ

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک
'میں روسی تیل خریدنے والے ممالک پر اضافی ٹیکس عائد کر دوں گا' ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کے خلاف اپنے غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ماسکو یوکرین کے ساتھ امن معاہدے میں رکاوٹ ڈالتا ہے تو وہ روسی تیل خریدنے والے ممالک پر 25 فیصد سے 50 فیصد تک اضافی ٹیکس عائد کریں گے۔

ٹرمپ نے اتوار کو این بی سی نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ انہیں پوتن کے حالیہ بیان پر غصہ آیا ہے جس میں روسی صدر نے یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی کی قیادت کو مشکوک قرار دیا تھا۔ 

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس صورتحال سے وہ نہایت ناراض ہیں اور اس کا اثر ان کے روس کے ساتھ مذاکرات پر پڑ رہا ہے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ “اگر روس اور میں یوکرین میں خون ریزی روکنے کے لیے کوئی معاہدہ نہیں کر پاتے اور مجھے لگتا ہے کہ روس اس میں رکاوٹ ڈال رہا ہے تو میں روسی تیل خریدنے والے ممالک پر اضافی ٹیکس عائد کر دوں گا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ “اگر کوئی ملک روس سے تیل خریدے گا تو وہ امریکا میں کاروبار نہیں کر سکے گا۔ یہ ٹیکس 25 فیصد تک یا 50 فیصد تک ہو سکتا ہے۔” 

ٹرمپ نے اس بات کا بھی عندیہ دیا کہ وہ اس تجارتی اقدام کو ایک ماہ کے اندر نافذ کر سکتے ہیں۔

ٹرمپ کے ان بیانات پر روس کا فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔ روس نے پہلے بھی مغربی پابندیوں کو غیر قانونی قرار دیا تھا اور انہیں مغربی ممالک کے ساتھ اقتصادی کشمکش کا حصہ سمجھا تھا۔

ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس ہفتے پوتن سے بات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ یوکرین میں جاری جنگ کا جلد خاتمہ ہو۔ تاہم، ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ پوتن کو اس بات کا علم ہے کہ وہ ان سے ناراض ہیں لیکن وہ اپنے تعلقات کو ایک اچھے انداز میں برقرار رکھنے کے حق میں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:امامہ فاطمہ نے امریکی ایوارڈ کو فلسطینیوں کے خلاف قرار دے کر مسترد کر دیا

جب دنیا بھر میں تیل کی قیمتیں ایک نیا دباؤ بن رہی ہیں اور روسی تیل کی خریداری کا مسئلہ عالمی سطح پر زیر بحث ہے، وہیں انڈیا نے 2024 میں روس سے تیل خریدنے میں چین کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور روسی خام تیل اب انڈیا کی کل تیل کی درآمدات کا تقریباً 35 فیصد بنتا ہے۔

ٹرمپ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب وہ یوکرین کے مسئلے کو “فضول جنگ” قرار دے کر اس کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے بقول، روسی تیل پر اضافی پابندیاں چین اور انڈیا جیسے ممالک کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہیں جو روس کے بڑے تیل خریدار ہیں۔

ٹرمپ نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ اگر ایران نے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام پر معاہدہ نہیں کیا تو ان پر بھی اضافی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔

اس صورتحال نے عالمی سطح پر مزید اقتصادی کشیدگی کو جنم دیا ہے اور اب یہ دیکھنا ہوگا کہ ٹرمپ کی یہ دھمکیاں عالمی تجارت اور جغرافیائی سیاست پر کس طرح اثر انداز ہوں گی۔

مزید پڑھیں: ‘امریکا اگر حملہ کرتا ہے تو ایران جوابی کارروائی کے لیے تیار ہے’ آیت اللہ علی خامنہ ای

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ پوسٹس