اپریل 3, 2025 12:49 شام

English / Urdu

Follw Us on:

مہنگائی کے کاغذی اعدادوشمار اور زمینی حقیقت میں تضاد کیوں؟

مادھو لعل
مادھو لعل
معیشت مستحکم ہو رہی ہے اور مہنگائی میں نمایاں کمی آئی ہے۔ (فوٹو: گوگل)

پاکستان میں مہنگائی کی شرح میں حالیہ کمی کے سرکاری دعوے خبروں کی زینت بنے ہوئے ہیں، مگر عام شہریوں کو اب بھی بنیادی ضروریات کی خریداری میں مشکلات کا سامنا ہے۔

حکومت کے مطابق معیشت مستحکم ہو رہی ہے اور مہنگائی میں نمایاں کمی آئی ہے، لیکن عوامی سطح پر اس کا اثر کم ہی محسوس کیا جا رہا ہے۔

پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق جنوری 2025 میں صارفین کی قیمتوں کا اشاریہ (CPI) 2.41 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جو 2024 میں 24 فیصد تھا۔ فروری 2025 میں یہ شرح مزید کم ہوکر 1.5 فیصد تک آ گئی، جو گزشتہ کئی سالوں کی کم ترین سطح ہے۔

مہنگائی کی کمی کے بنیادی عوامل میں عالمی منڈی میں پیٹرول اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں کمی، اسٹیٹ بینک کی سخت مالیاتی پالیسی، جس نے افراط زر کو کم کرنے میں مدد دی، حکومت کے کفایت شعاری کے اقدامات اور اخراجات میں کمی اور درآمدی اشیاء پر پابندیوں کے باعث روپے کی قدر میں استحکام ہے۔

اشیاء پر پابندیوں کے باعث روپے کی قدر میں استحکام ہے۔ (فوٹو: گوگل)

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق پالیسی ریٹ 12 فیصد پر برقرار رکھا گیا ہے تاکہ مہنگائی کو مزید قابو میں رکھا جا سکے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ معیشت درست سمت میں گامزن ہے اور آنے والے مہینوں میں مزید بہتری کی امید ہے۔

اگرچہ سرکاری اعدادوشمار مہنگائی میں کمی ظاہر کر رہے ہیں، لیکن بازاروں میں صورتحال مختلف نظر آتی ہے۔

لاہور، کراچی، اسلام آباد اور دیگر شہروں میں کیے گئے سروے سے معلوم ہوا ہے کہ عوام کو روزمرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں کوئی خاص کمی محسوس نہیں ہو رہی۔

لاہور کی ایک گھریلو خاتون نے شکایت کی ہے کہ اگر مہنگائی کم ہوگئی ہے تو چینی، آٹا اور دالیں کیوں مہنگی مل رہی ہیں؟ گزشتہ سال جو 150 روپے کا تھا، وہ اب 250 روپے میں مل رہا ہے۔

کراچی کے ایک دکاندار نے کہا کہ حکومت کہتی ہے مہنگائی کم ہو گئی، مگر لوگ پہلے کی طرح خریداری نہیں کر رہے۔ عام آدمی کے پاس پیسے ہی نہیں ہیں، جس سے کاروبار متاثر ہو رہا ہے۔

اسلام آباد میں ایک سرکاری ملازم نے کہا ہے کہ تنخواہ تو وہی ہے، مگر بجلی، گیس، بچوں کی اسکول فیس اور دیگر اخراجات بڑھ گئے ہیں۔ جب آمدنی نہیں بڑھے گی تو عام آدمی کیسے محسوس کرے گا کہ مہنگائی کم ہو گئی ہے؟”
بجلی، گیس اور پیٹرول کی قیمتیں کم کیوں نہیں ہو رہیں؟

گزشتہ چھ ماہ میں بجلی کے نرخوں میں کئی مرتبہ اضافہ کیا گیا، جس سے عام گھریلو صارفین کے ماہانہ بل بڑھ گئے ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت کیا گیا، مگر عوام کے لیے یہ ایک بڑا بوجھ بن چکا ہے۔

گزشتہ سال جو 150 روپے کا تھا، وہ اب 250 روپے میں مل رہا ہے۔ (فوٹو: گوگل)

جنوری 2025 میں گھریلو صارفین کے لیے گیس کے نرخوں میں 35 فیصد اضافہ کیا گیا۔ تجارتی اور صنعتی صارفین کو بھی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سامنا ہے، جس سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمت کم ہونے کے باوجود مقامی سطح پر اس کا فائدہ عام شہریوں تک نہیں پہنچا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ڈالر کی قدر میں کمی کے باوجود، ٹیکسز اور دیگر عوامل کی وجہ سے قیمتوں میں نمایاں کمی ممکن نہیں۔

‘پاکستان میٹرز’ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ماہرِ معاشیات ڈاکٹر اشفاق حسن کا کہنا تھا کہ مہنگائی کی شرح میں کمی کا مطلب یہ نہیں کہ ہر چیز سستی ہو گئی ہے، بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ قیمتوں میں اضافے کی رفتار کم ہوئی ہے۔

نجی اور سرکاری شعبے میں تنخواہیں کئی سالوں سے تقریباً جمود کا شکار ہیں۔ کاروباری طبقہ بھی معاشی سست روی کی وجہ سے زیادہ ملازمتیں پیدا نہیں کر رہا۔ افراط زر میں کمی اور مہنگائی میں کمی الگ چیزیں ہیں۔

حکومت جو مہنگائی میں کمی کی بات کر رہی ہے، وہ افراط زر (Inflation Rate) کی شرح میں کمی ہے، جب کہ عوام جو مہنگائی محسوس کرتے ہیں، وہ روزمرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں کمی نہ ہونے کی وجہ سے ہے۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ عوام کو حقیقی ریلیف تب مل سکتا ہے، جب حکومت اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر سخت کنٹرول، ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری روکنے کے لیے سخت اقدامات کرے۔

تنخواہوں اور آمدنی میں اضافہ مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے تنخواہوں میں مناسب اضافہ کرے، بجلی، گیس اور پیٹرول کے نرخ کم کر کے عوام کو ریلیف دے۔

حکومت مہنگائی میں کمی کے دعوے کر رہی ہے، لیکن عوام کو ریلیف محسوس نہیں ہو رہا۔

حکومت مہنگائی میں کمی کے دعوے کر رہی ہے، لیکن عوام کو ریلیف محسوس نہیں ہو رہا۔ (فوٹو: گوگل)

عالیہ حمزہ نے کہا ہے کہ حکومت جو مہنگائی میں کمی کے دعوے کر رہی ہے، وہ صرف کاغذی اور سرکاری رپورٹس تک محدود ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عوام آج بھی آٹے، چینی، گھی اور دیگر روزمرہ اشیاء کے لیے پریشان ہیں۔

جب عام آدمی کی قوتِ خرید ختم ہو چکی ہو، بجلی اور گیس کے بل آسمان کو چھو رہے ہوں اور تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہ ہو تو ایسی ‘مہنگائی میں کمی’ کا کیا فائدہ؟ حکومت چاہے جتنے بھی دعوے کرے، زمینی حقائق اس سے بالکل مختلف ہیں۔

پی ٹی آئی نے اپنی حکومت کے دوران بھی مہنگائی کو ایک بڑا چیلنج قرار دیا تھا۔

ایثار رانا نے کہا ہے کہ حکومت کاغذی دعوے کر رہی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ مہنگائی کم نہیں ہوئی بلکہ عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ افراطِ زر میں کمی صرف اعدادوشمار کا کھیل ہے، جب کہ بازار میں اشیائے خورونوش، بجلی، گیس اور پیٹرول بدستور مہنگے ہیں۔

ایثار رانا کا کہنا ہے کہ ہمارا میڈیا بھی دو حصوں میں بٹا ہوا ہے۔ کچھ ادارے حکومتی بیانیے کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں، جب کہ کچھ صحافی عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن مجموعی طور پر دیکھا جائے تو مہنگائی پر میڈیا کا دباؤ وہ نہیں جو ہونا چاہیے تھا۔

ایثار رانا نے تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو سب سے پہلے بنیادی اشیاء کی قیمتوں پر سخت کنٹرول کرنا ہوگا، بجلی اور گیس کے بلوں میں کمی لانی ہوگی اور روپے کی قدر مستحکم کرنی ہوگی۔

اس کے علاوہ غیر ضروری درآمدات پر پابندی لگا کر مقامی صنعت کو فروغ دینا بھی ضروری ہے تاکہ عوام کو روزگار ملے اور ان کی قوتِ خرید بڑھے۔

مادھو لعل

مادھو لعل

Share This Post:

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ پوسٹس