فرانس کی عدالت نے معروف اپوزیشن سیاست دان اور ‘ریسمبلمنٹ نیشنل’ پارٹی کی سابق رہنما میرین لی پین کو یورپی عوامی فنڈز کے غبن کے مقدمے میں مجرم قرار دیتے ہوئے انہیں چار سال قید، ایک لاکھ یورو جرمانہ اور پانچ سال کے لیے انتخابی نااہلی کی سزا سنا دی ہے۔
عدالت کے مطابق 2004 سے 2016 کے دوران ‘ریسمبلمنٹ نیشنل پارٹی’ نے یورپی پارلیمنٹ کے تقریباً 2.9 ملین یورو کے فنڈز کو غلط طریقے سے قومی سیاسی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا۔
عدالت کے صدر بینیڈیکٹ ڈی پرتھوئس نے کہا کہ لی پین 2009 سے اس “نظام” کا مرکز رہی ہیں اور پارٹی کے معاونین نے یورپی پارلیمنٹ کے بجائے قومی سطح پر پارٹی کے لیے کام کیا۔
عدالتی فیصلے پر لی پین کی پارٹی کے صدر اردن بارڈیلا نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صرف میرین لی پین کی نہیں، بلکہ فرانسیسی جمہوریت کی بھی سزا ہے۔
ان کے مطابق یہ سیاسی انتقام ہے، جس کے ذریعے لی پین کو انتخابی دوڑ سے باہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
اس فیصلے پر عالمی سطح پر بھی ردعمل آیا ہے۔ ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان نے سوشل میڈیا پر “Je suis Marine” (میں میرین ہوں) کا نعرہ بلند کیا، جب کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ترجمان دمتری پیکوکوف نے بھی اس فیصلے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یورپی سیاست میں جمہوری اصولوں کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔
عدالتی فیصلے کے بعد اردن بارڈیلا کو ریسمبلمنٹ نیشنل پارٹی کے آئندہ صدارتی امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
حالیہ سروے کے مطابق اگر آج انتخابات ہوں تو لی پین کو 34% سے 37% ووٹ ملنے کی توقع تھی، لیکن نااہلی کے باعث وہ انتخابی دوڑ سے باہر ہو چکی ہیں۔
واضح رہے کہ اس عدالتی فیصلے کے بعد لی پین 2027 کے صدارتی انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گی، جسے ان کے سیاسی کیریئر کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔