پاکستان میں رواں سال رمضان کے دوران عسکریت پسندوں کے حملوں میں شدید اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، جو کہ گزشتہ دس سالوں میں سب سے زیادہ ہیں۔
پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق 2025 کے رمضان میں کم از کم 84 حملے ریکارڈ کیے گئے ہیں، جب کہ 2024 کے رمضان میں یہ تعداد 26 تھی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماضی میں بعض عسکریت پسند گروہ رمضان کے دوران حملے روک دیتے تھے، لیکن حالیہ برسوں میں ملک میں تشدد میں مجموعی طور پر اضافہ ہوا ہے۔
کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے نومبر 2022 میں حکومت کے ساتھ یک طرفہ جنگ بندی ختم کرنے کے بعد عسکریت پسند سرگرم ہو گئے ہیں، جب کہ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے بھی اپنے حملوں کی شدت بڑھا دی ہے۔
28 فروری 2025 کو خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ کے شہر اکوڑہ خٹک میں دارالعلوم حقانیہ میں خودکش دھماکے کے بعد سکیورٹی فورسز نے مدرسے کی حفاظت بڑھا دی تھی۔
11 مارچ 2025 کو بلوچستان کے جنوب مغربی علاقے میں بی ایل اے نے ٹرین ہائی جیکنگ کی، جس میں کم از کم 25 افراد ہلاک ہوئے۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کے مطابق رمضان کے پہلے تین ہفتوں میں 61 حملے ریکارڈ کیے گئے، جب کہ گزشتہ سال رمضان میں مجموعی طور پر 60 حملے ہوئے تھے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ یہ رمضان سکیورٹی اہلکاروں کے لیے ایک دہائی میں سب سے زیادہ مہلک ثابت ہوا، جس میں 2 مارچ سے 20 مارچ کے دوران 56 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کے مینیجنگ ڈائریکٹر عبداللہ خان نے کہا کہ ملک میں عسکریت پسند گروہوں کے درمیان اتحاد بڑھ رہا ہے اور شمال مغربی علاقوں میں حافظ گل بہادر گروپ پاکستانی طالبان سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ لشکرِ اسلام جیسے گروہ بھی دوبارہ فعال ہو گئے ہیں۔
خیال رہے کہ پاکستان نے افغانستان میں طالبان حکومت پر ان عسکریت پسندوں کو پناہ دینے کا الزام عائد کیا ہے، تاہم کابل نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔