پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) نے بعض پاکستانی صحافیوں کے حالیہ اسرائیل کے مبینہ دورے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے صحافتی اخلاقیات اور ملکی خارجہ پالیسی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔
نجی خبررساں ادارے انڈیپینڈنٹ اردو کے مطابق پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ اور سیکریٹری جنرل ارشد انصاری نے ایک بیان میں اس دورے کو انسانی حقوق کی عالمی جدوجہد کے خلاف قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ متعلقہ حکام اس معاملے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کریں۔
صحافیوں کی نمائندہ تنظیم نے تشویش کا اظہار کیا کہ جب پاکستان کی پالیسی واضح طور پر اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کی ہے اور وہاں سفر پر پابندی ہے، تو یہ صحافی کیسے وہاں پہنچے؟ پی ایف یو جے نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس سفر کی تفصیلات سامنے لائے اور اس کے پس پردہ عناصر کو بے نقاب کرے۔
بیان میں کہا گیا کہ ایسے وقت میں جب اسرائیل اب تک 150 سے زائد صحافیوں کو قتل کر چکا ہے اور عالمی سطح پر آزادیٔ صحافت کے لیے ایک خطرناک مقام تصور کیا جاتا ہے۔
پاکستانی صحافیوں کا وہاں جانا اُن بے شمار صحافیوں کی قربانیوں کو کمزور کرنے کے مترادف ہے، جو جنگ زدہ علاقوں میں سچ اور انصاف کے لیے اپنی جانیں قربان کر چکے ہیں۔
دوسری جانب کراچی پریس کلب کی مشترکہ ایکشن کمیٹی نے بھی اس دورے پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اس کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان کا کہنا ہے کہ پاکستانی پاسپورٹ واضح طور پر اسرائیل کے لیے کارآمد نہیں اور اگر کوئی پاکستانی اسرائیل گیا ہے تو ممکنہ طور پر اس نے دوسری شہریت کا استعمال کیا ہوگا۔”
اسرائیلی میڈیا کے مطابق مارچ کے وسط میں 10 رکنی پاکستانی وفد نے تل ابیب اور مقبوضہ بیت المقدس کا دورہ کیا، جس میں صحافیوں، محققین اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے۔
پی ایف یو جے نے پاکستانی میڈیا برادری پر زور دیا کہ وہ آزادیٔ صحافت اور اصولی صحافت کے عزم پر قائم رہیں اور سچ کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کریں۔