برطانوی حکومت نے یورپی شہریوں کے لیے ای ٹی اے کے حصول کو لازمی قرار دے دیا ہے۔ یہ اقدام 2023 میں متعارف کرائی گئی سکیم کی توسیع کا حصہ ہے، جس کا مقصد امیگریشن سیکیورٹی کو بہتر بنانا اور ویزا فری سفر کرنے والے افراد کے لیے انٹری کا طریقہ کار آسان بنانا ہے۔
ای ٹی اے ایک ڈیجیٹل سفری اجازت نامہ ہے جو برطانیہ میں مختصر قیام کے لیے ضروری ہوگا۔ یہ ویزا نہیں بلکہ مسافر کے پاسپورٹ سے ڈیجیٹل طور پر منسلک ہوگا، جس کے بعد انہیں برطانیہ جانے والی پرواز یا دیگر سفری ذرائع میں سوار ہونے کی اجازت ملے گی۔ تاہم، برطانیہ میں داخلے کی حتمی منظوری بارڈر کنٹرول حکام دیں گے۔ یہ قانون ان تمام مسافروں پر لاگو ہوگا جو قلیل مدتی قیام کے لیے ویزا کے بغیر برطانیہ جا سکتے ہیں اور جن کے پاس پہلے سے کوئی برطانوی امیگریشن اسٹیٹس نہیں ہے۔ اس سے قبل یہ نظام امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور دیگر غیر یورپی ممالک کے شہریوں کے لیے متعارف کرایا گیا تھا، لیکن اب یورپی شہریوں کو بھی اس کی پابندی کرنی ہوگی۔
وہ افراد جن کے پاس پہلے سے برطانیہ کا مستقل ویزا ہے، جو برطانیہ میں رہائش، ملازمت یا تعلیم کی اجازت رکھتے ہیں، برطانوی یا آئرش شہری ہیں یا برٹش اوورسیز ٹیریٹریز کے پاسپورٹ کے حامل ہیں، انہیں ای ٹی اے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ، جو مسافر برطانوی ہوائی اڈے پر صرف ٹرانزٹ میں ہیں اور بارڈر کنٹرول سے نہیں گزرتے، انہیں بھی اس اجازت نامے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
ای ٹی اے کے لیے درخواست دینے کی فیس فی الحال دس پاؤنڈ ہے، تاہم برطانوی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ نو اپریل سے یہ فیس سولہ پاؤنڈ ہو جائے گی۔ درخواست یو کے ای ٹی اے موبائل ایپ یا برطانوی حکومت کی سرکاری ویب سائٹ پر دی جا سکتی ہے۔ زیادہ تر درخواستیں چند منٹوں میں منظور ہو جاتی ہیں، لیکن حکام نے مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کم از کم تین ورکنگ دن پہلے درخواست جمع کرائیں تاکہ کسی بھی ممکنہ جانچ کے لیے وقت میسر ہو۔ درخواست گزاروں کو فیس کی ادائیگی، پاسپورٹ اور رابطے کی تفصیلات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ایک درست تصویر اپ لوڈ کرنا ہوگی اور مختصر سوالنامے کے جوابات دینے ہوں گے۔ یہ ضروری ہے کہ مسافر وہی پاسپورٹ استعمال کریں جو ای ٹی اے کی درخواست میں درج کیا گیا ہو۔
اگر کسی کی ای ٹی اے درخواست مسترد ہو جاتی ہے، تو درخواست گزار کو انکار کی وجہ بتائی جائے گی اور وہ دوبارہ درخواست دے سکتے ہیں۔ تاہم، اس کے خلاف اپیل کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص ای ٹی اے حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے، تو اسے برطانیہ کے لیے ویزا لینا ہوگا۔
ای ٹی اے کی معیاد دو سال یا پاسپورٹ کی مدت ختم ہونے تک، جو بھی پہلے ہو، برقرار رہے گی۔ اس کے تحت مسافر متعدد بار برطانیہ جا سکیں گے، لیکن ہر بار قیام کی زیادہ سے زیادہ مدت چھ ماہ ہوگی۔ برطانوی ہوم آفس کا کہنا ہے کہ یہ نظام بارڈر سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنائے گا، کیونکہ درخواست گزاروں کو بایومیٹرک اور ذاتی تفصیلات فراہم کرنی ہوں گی، جن میں پس منظر کی جانچ اور مجرمانہ ریکارڈ سے متعلق سوالات شامل ہوں گے۔ ان تفصیلات کا مقصد پیشگی اسکریننگ کو بہتر بنانا اور ممکنہ سیکیورٹی خطرات رکھنے والے افراد کو برطانیہ میں داخل ہونے سے روکنا ہے۔
پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے افراد ای ٹی اے کے زمرے میں شامل نہیں ہیں، کیونکہ برطانیہ میں داخلے کے لیے انہیں پہلے سے ویزا درکار ہوتا ہے۔ تاہم، وہ پاکستانی شہری جو برطانوی یا آئرش پاسپورٹ رکھتے ہیں، انہیں ای ٹی اے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ یورپ میں رہنے والے پاکستانی نژاد افراد، خاص طور پر وہ جو کاروباری مقاصد یا خاندانی روابط کے سبب برطانیہ کا سفر کرتے ہیں، اس نئی پالیسی سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ برطانیہ کی حکومت کا یہ فیصلہ اس کے سخت امیگریشن اقدامات کا حصہ ہے، جو عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے سفری سیکیورٹی اقدامات کی عکاسی کرتا ہے۔