اپریل 4, 2025 12:20 صبح

English / Urdu

Follw Us on:

بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کا احتجاجی تحریک کو نئے مرحلےِ میں داخل کرنے کا اعلان

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک

بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سربراہ سردار اختر مینگل نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ وہ اپنی احتجاجی تحریک کے نئے مرحلے کا اعلان کریں گے، کیونکہ ان کے احتجاج کو چھ دن مکمل ہو چکے ہیں اور حکومتی وفد کے ساتھ ہونے والی بات چیت بے نتیجہ رہی۔

بی این پی (مینگل) نے گزشتہ جمعہ کو بلوچستان یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں، بشمول ڈاکٹر مہرنگ بلوچ اور سمی دین بلوچ کی گرفتاریوں اور کوئٹہ میں ان کے دھرنے پر پولیس کریک ڈاؤن کے خلاف وڈھ سے کوئٹہ تک لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔

یہ دھرنا اس وقت لکپاس میں جاری ہے، جہاں صوبائی حکومت کے وفد نے مذاکرات کے لیے سردار اختر مینگل سے ملاقات کی، تاہم وہ انہیں احتجاج ختم کرنے پر قائل نہ کر سکے۔ مذاکراتی وفد میں ظہور احمد بلیدی، بخت محمد کاکڑ اور سردار نور احمد بنگلزئی شامل تھے۔

بدھ کے روز سردار اختر مینگل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر اعلان کیا کہ وہ 3 اپریل کو شام 5 بجے احتجاجی تحریک کے اگلے مرحلے کا اعلان کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے لیے بھیجے گئے وفد کو آزادانہ طور پر فیصلے کرنے کا اختیار حاصل نہیں تھا، بلکہ وہ محض پیغام رساں تھے، جبکہ اصل طاقت ان کے پاس ہے جو حقیقت میں بلوچستان کو کنٹرول کرتے ہیں۔

مینگل نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکمران سمجھتے ہیں کہ وہ ہمیں بے اختیار مذاکرات کے ذریعے گمراہ کر سکتے ہیں، تو انہیں اپنی غلط فہمی کا جلد احساس ہو جائے گا۔

ایک اور بیان میں انہوں نے بلوچستان میں انٹرنیٹ کی بندش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ رات سے پورے بلوچستان میں موبائل نیٹ ورکس اور گھریلو وائی فائی سروسز بند کر دی گئی ہیں، جس کا واحد مقصد مظلوموں کی آواز کو دبانا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنماؤں کو، جو دھرنے میں شرکت کے لیے آرہے تھے، راستے میں ہی روک لیا گیا۔

مینگل کے مطابق حکومت کی جانب سے دھرنے کو محدود کرنے کے لیے مزید خندقیں کھودی گئی ہیں، اضافی کنٹینر لگا دیے گئے ہیں اور مزید سیکیورٹی فورسز تعینات کر دی گئی ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ حکومت جتنا دباؤ بڑھائے گی، اتنا ہی وہ مزید بدنام ہو گی۔

مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکن اور قافلے جمعہ کی صبح 9 بجے وڈھ سے کوئٹہ کے لیے روانہ ہوئے تھے۔

26 مارچ کو، جب بی این پی (مینگل) نے دعویٰ کیا کہ مستونگ کے قریب پولیس کارروائی میں اس کے 250 سے زائد کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے، تو اسی دن سردار اختر مینگل اور ان کے ساتھی ایک خودکش حملے میں بال بال بچ گئے۔

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ پوسٹس