اسرائیلی فورسز نے جنوبی غزہ کے شہر رفح پر ایک بار پھر حملہ کر دیا ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں فلسطینی اپنے گھروں سے نکل کر پناہ گزینی کی حالت میں دوسرے علاقوں کی طرف روانہ ہو گئے ہیں۔
اسرائیل کی جانب سے زور دار حملہ کیا گیا جس میں کئی رفح کے علاوہ دیگر علاقوں پر بھی حملے کیے جا چکے ہیں لیکن رفح کا محاصرہ ان سب سے مختلف ہے۔
اسرائیل نے اپنی فورسز کو رفح میں ایک “سیکورٹی زون” قائم کرنے کے لیے بھیجا ہے جس کا مقصد غزہ کی جنوبی سرحدوں کو مکمل طور پر کنٹرول کرنا ہے۔
گزشتہ دنوں اسرائیل نے اعلان کیا تھا کہ وہ غزہ کے بڑے حصوں کو اپنے قبضے میں لے لے گا اور اس کے بعد فورسز نے رفح شہر کی طرف پیش قدمی کی۔
رفح، یہ شہر کئی مہینوں تک غزہ کے دیگر حصوں سے بچ کر آنے والوں کا آخری پناہ گاہ تھا لیکن اب اس پر اسرائیلی حملہ نے وہاں کے مکینوں کو مزید بدترین حالات میں دھکیل دیا ہے۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں اسرائیلی فضائی حملوں سے 97 فلسطینی شہید ہوگئے، جن میں سے کم از کم 20 افراد شجاعیہ کے ایک مضافاتی علاقے میں ایک فضائی میں شہید ہوئے تھے۔
اسی دوران، ایک اسرائیلی فضائی حملے نے غزہ سٹی میں واقع دار الارقم اسکول کی عمارت کو نشانہ بنایا جس میں درجنوں افراد شہید ہوگئے۔ یہ اسکول کئی خاندانوں کے لیے پناہ گزینی کا مرکز تھا اور یہاں کے مکینوں کا کہنا ہے کہ ان کے لیے اب کہیں بھی محفوظ پناہ گاہ نہیں بچی۔
ایک فلسطینی شخص نے عالمی خبررساں ایجنسی رائٹرز سے کہا کہ “رفح اب ختم ہو چکا ہے اس کا نام و نشان مٹایا جا رہا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “ہمیں اپنے گھروں سے نکال کر خان یونس منتقل کیا گیا اور یہاں بھی ہم پر فضائی حملے ہو رہے ہیں۔”
اس صورتحال میں زندگی کی سختیوں کو بیان کرتے ہوئے ایک اور شہری نے کہا ہے کہ “ہم مرنے کے لیے یہاں آئے ہیں، اس زندگی کا کوئی مقصد نہیں۔”
اسی دوران اسرائیل کی فوج نے رفح کے گرد ایک “سیکورٹی زون” بنانے کا اعلان کیا ہے لیکن اس کے طویل مدتی مقاصد پر ابھی تک کسی قسم کی وضاحت نہیں دی گئی۔
اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ فوج “مورگ ایکسس” کے علاقے میں پیش قدمی کر رہی ہے جو کہ ایک سابقہ اسرائیلی آباد کاری کا حصہ تھا۔ یہ علاقے اب مکمل طور پر اسرائیلی قبضے میں آ گئے ہیں اور ان کا مقصد غزہ کی زرعی زمینوں اور اہم پانی کی سہولتوں پر قبضہ کرنا بتایا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، غزہ کی جنوبی اور شمالی سرحدوں پر اسرائیل کی طرف سے کی جانے والی کارروائیوں کے باعث لاکھوں فلسطینی اپنے گھروں سے بے گھر ہو گئے ہیں۔ ان کے لیے اب نہ کوئی محفوظ پناہ گاہ ہے اور نہ ہی کوئی پناہ گزینی کی جگہ۔
غزہ میں اس وقت صورتحال بدترین انسانی بحران کی صورت اختیار کر چکی ہے اور یہ جنگ مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ عالمی برادری اور انسانی حقوق کے ادارے اس مسئلے کی طرف توجہ دینے کی مسلسل کوششیں کر رہے ہیں مگر اس وقت حقیقت یہ ہے کہ غزہ کے شہری زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
مزید پڑھیں: ‘مارشل لا نافذ کرنے کی سزا’ جنوبی کوریا کے صدر کو عدالت نے برطرف کر دیا