اپریل 5, 2025 8:42 صبح

English / Urdu

Follw Us on:

امریکی ٹیرف پالیسی: انڈیا کی معیشت پر گہرے اثرات اور ریپو ریٹ میں کمی کی پیشگوئی

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک
امریکی ٹیرف پالیسی: انڈیا کی معیشت پر اثرات اور ریپو ریٹ میں کمی کی پیشگوئی

دنیا کی سب سے بڑی معیشت کے ساتھ تجارتی تعلقات میں ایک نئی تبدیلی آنے والی ہے کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انڈیا کے خلاف 26 فیصد کی متبادل ٹیرف عائد کر دی ہیں۔ 

یہ قدم انڈین معیشت پر گہرے اثرات ڈالنے کی توقع ہے اور ماہرین کے مطابق اس کے نتیجے میں انڈین معیشت کی شرح نمو میں 20 سے 40 بیسس پوائنٹس تک کمی آ سکتی ہے۔

انڈین مرکزی بینک یعنی ریزرو بینک آف انڈیا (RBI)، کی جانب سے 2025-26 میں 6.7 فیصد معاشی ترقی کی پیشگوئی کی گئی تھی جو اب شدید دباؤ کا شکار ہو گئی ہے۔ 

اسی طرح حکومت کی اقتصادی سروے رپورٹ میں بھی 6.3 فیصد سے 6.8 فیصد کی ترقی کی پیشگوئی کی گئی تھی لیکن امریکا کی ٹیررف پالیسی نے ان تمام پیشگوئیوں کو زوردار جھٹکا دیا ہے۔ 

معروف مالیاتی ادارے گولڈمین ساکس نے انڈیا کی معاشی ترقی کی پیشگوئی کو 6.3 فیصد سے گھٹاکر 6.1 فیصد کر دیا ہے۔ 

مزید پڑھیں:مہنگائی کے کاغذی اعدادوشمار اور زمینی حقیقت میں تضاد کیوں؟

اسی طرح سٹی گروپ نے 40 بیسس پوائنٹس کی کمی کی پیشگوئی کی ہے جبکہ ممبئی میں مقیم تحقیقی ادارہ کوانٹ ایکو ریسرچ نے 30 بیسس پوائنٹس کی کمی کا اندازہ لگایا ہے۔

انڈین معیشت پر اس دباؤ کا ایک اور اثر یہ ہوگا کہ ریزرو بینک آف انڈیا کو شرح سود میں مزید کمی کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ 

حال ہی میں RBI نے پانچ سال میں پہلی بار شرح سود میں کمی کی تھی جب فروری میں اس نے 25 بیسس پوائنٹس کی کمی کی تھی جس کے بعد 6.25 فیصد پر پالیسی ریپو ریٹ مقرر کیا گیا تھا۔ 

اس بار بھی ماہرین کی ایک تازہ تحقیق کے مطابق RBI اپریل کے اجلاس میں 25 بیسس پوائنٹس مزید کمی کرنے کا امکان ظاہر کر رہے ہیں جس سے پالیسی ریپو ریٹ 6.00 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔

گولڈمین ساکس سٹی گروپ اور کوانٹ ایکو ریسرچ کے ماہرین نے اب یہ پیشگوئی کی ہے کہ RBI اس مالی سال کے دوران شرح سود میں مزید 75 بیسس پوائنٹس کی کمی کرے گا جس سے پالیسی ریپو ریٹ 5.5 فیصد تک پہنچ جائے گا جو کہ اگست 2022 کے بعد سب سے کم سطح ہوگی۔ 

سٹی گروپ کے چیف اکانومسٹ سامیران چکربورتی نے اس فیصلے کو اقتصادی ترقی کو بڑھانے کی حکمت عملی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب انڈیا کی معیشت کی شرح نمو اس سال سست پڑنے کی توقع ہے لیکن حکومتی اقدامات اور مالی پالیسی میں نرمی سے کچھ امید کی کرنیں بھی دکھائی دے رہی ہیں۔ 

حکومت نے فروری میں اپنے بجٹ میں 12 لاکھ روپے تک سالانہ آمدنی پر ٹیکس میں کمی کا اعلان کیا تھا جس سے مقامی طلب کو بڑھانے کی امید ہے۔ 

اس کے علاوہ ریزرو بینک آف انڈیا نے بھی 2025 کے لیے افراط زر کا ہدف 4.2 فیصد مقرر کیا ہے جو کہ اس کے ہدف کے قریب ہے اور اس کے اثرات پر نظر رکھنے کے لیے پولیسی کمیٹی کا اجلاس اپریل میں متوقع ہے۔

اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق انڈیا کو اس چیلنج سے نپٹنے کے لیے اپنی مالی پالیسی میں تیزی سے رد و بدل کی ضرورت ہوگی۔ اس میں شرح سود کی کمی اور کرنسی کی کمزوری جیسے اقدامات شامل ہو سکتے ہیں تاکہ عالمی تجارتی تناؤ سے نمٹا جا سکے اور ملکی معیشت کی بحالی کی راہ ہموار کی جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا نے روس میں نشریات کے لیے ریڈیو فری یورپ کا سیٹلائٹ بند کردیا

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ پوسٹس