اپریل 5, 2025 8:45 صبح

English / Urdu

Follw Us on:

ذوالفقار علی بھٹو کی برسی: ایک رہنما کی قربانی یا سیاسی انتقام؟

عاصم ارشاد
عاصم ارشاد
پاکستان کا معاشی اور سیاسی منظرنامہ بحران کی زد میں تھا۔ (فوٹو: گوگل)

آج 4 اپریل 2025 کو پاکستان کے سیاسی منظرنامے کا ایک اہم اور متنازعہ کردار ذوالفقار علی بھٹو کی 45ویں برسی ہے۔ ان کی زندگی، ان کے فیصلے اور بالآخر ان کی پھانسی نے پاکستانی سیاست کو ایک نیا رخ دیا۔

یہ 4 اپریل کا دن نہ صرف پاکستان کے عوام کے لیے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک اہم یادگار بن چکا ہے، جہاں سیاسی، عدلیہ اور عوامی حقوق کے سوالات ہمیشہ کے لیے قائم ہو گئے۔

ذوالفقار علی بھٹو کا سیاسی سفر ایک ایسے وقت میں شروع ہوا، جب پاکستان کا معاشی اور سیاسی منظرنامہ بحران کی زد میں تھا۔

1950 کی دہائی کے آخر میں ایوب خان کے اقتدار میں آنے کے بعد بھٹو ان کے مشیر کے طور پر حکومت میں شامل ہوئے۔ تاہم، بھٹو کی ذاتی سیاست اور نظریات ایوب خان کے ساتھ ہم آہنگ نہیں تھے اور یہی کشیدگی بعد میں ایک بڑے سیاسی تصادم کی صورت میں سامنے آئی۔

بھٹو کی ذاتی سیاست اور نظریات ایوب خان کے ساتھ ہم آہنگ نہیں تھے۔ (فوٹو: گوگل)

1967 میں بھٹو نے پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی، جو نہ صرف ایک سیاسی جماعت تھی بلکہ ایک نئے سیاسی بیانیے کی نمائندگی کرتی تھی۔

پی پی پی کے قیام کا مقصد عوامی حقوق اور انصاف کا حصول تھا۔ ان کا نعرہ ‘روٹی، کپڑا اور مکان’ آج بھی عوام کے ذہنوں میں زندہ ہے، جو ایک سادہ مگر طاقتور پیغام تھا۔ بھٹو کی جماعت نے جلد ہی عوامی حمایت حاصل کی اور 1970 کے انتخابات میں پی پی پی ایک بڑی طاقت کے طور پر سامنے آئی۔

ذوالفقار علی بھٹو کا سب سے بڑا کارنامہ پاکستان کا جوہری پروگرام تھا، جس کی بنیاد انہوں نے رکھی۔ 1974 میں ایٹمی پروگرام کا آغاز کرنے کے بعد پاکستان کی دفاعی صلاحیت میں ایک نیا موڑ آیا۔

بھٹو نے پاکستان کو ایک ایٹمی طاقت بنانے کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کی کوشش کی، ساتھ ہی انہوں نے 1973 میں پاکستان کا آئین منظور کرایا، جو ملک میں جمہوریت اور وفاقی ڈھانچے کی بنیاد تھا۔

بھٹو نے غریب عوام کے حق میں مختلف اصلاحات بھی کیں، جن میں زرعی اصلاحات، صنعتوں کی نیشنلائزیشن اور تعلیم میں سرمایہ کاری شامل تھی۔ ان کی حکومت نے 1972 میں انڈیا کے ساتھ شملہ معاہدہ کیا، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان امن قائم کرنا تھا۔

لیکن بھٹو کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور ان کی پالیسیوں نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کشیدگی کو جنم دیا۔ ان کے لیے یہ بہت مشکل تھا کہ وہ فوجی قیادت اور سول حکومت کے درمیان توازن قائم رکھیں۔

ان کی حکومت نے 1972 میں انڈیا کے ساتھ شملہ معاہدہ کیا۔ (فوتو: گوگل)

1977 میں ہونے والے عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات نے ملک میں ایک سیاسی بحران پیدا کر دیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کیا اور اس کے بعد ملک بھر میں شدید احتجاج شروع ہو گیا۔

اس بحران کے دوران جنرل ضیاء الحق نے 5 جولائی 1977 کو مارشل لاء نافذ کیا اور بھٹو کو گرفتار کر لیا۔ بھٹو پر الزام تھا کہ انہوں نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں نیشنل عوامی پارٹی کے رہنما نواب محمد احمد خان کی ہلاکت کے لیے سازش کی تھی۔

ان کے خلاف مقدمہ چلایا گیا اور انہیں 1979 میں سزائے موت سنا دی گئی۔ یہ وہ لمحہ تھا، جب پاکستان کی سیاست میں ایک نیا موڑ آیا اور یہ سوال اٹھا کہ آیا ان کے خلاف عدالت نے انصاف کیا تھا یا انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا؟

بھٹو کی پھانسی کے فیصلے پر دنیا بھر میں تنازعہ ہوا۔ ان کی موت کے بعد عالمی سطح پر مختلف رہنماؤں نے ان کی پھانسی کو “عدالتی قتل” قرار دیا۔ ان کے مقدمے کی قانونی پیچیدگیوں اور ان کے ساتھ ہونے والی غیر منصفانہ کارروائیوں پر سوالات اٹھائے گئے۔

بھٹو کے حامیوں کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ ایک سیاسی سازش کی گئی تھی اور ان کے قتل کے پیچھے صرف ذاتی اور سیاسی وجوہات تھیں۔

ان کے قتل کے پیچھے صرف ذاتی اور سیاسی وجوہات تھیں۔ (فوٹو: گوگل)

سپریم کورٹ نے چھ فروری 1979 کو چار اور تین کے تناسب سے منقسم فیصلے میں ہائیکورٹ کی سزا کو بحال رکھا۔

بھٹو کی پھانسی کے بعد ان کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے ان کے سیاسی ورثے کو آگے بڑھایا۔ بھٹو کی بیٹی بے نظیر بھٹو نے اپنے والد کی پارٹی کی قیادت سنبھالی اور پاکستان کے سیاسی منظرنامے پر ایک نیا اثر ڈالا۔

بے نظیر بھٹو کی قیادت میں پی پی پی نے پاکستان کی سیاست میں اہم تبدیلیاں کیں اور وہ بھی ملک کی وزیر اعظم بنیں۔

آج بھی پاکستان پیپلز پارٹی اپنے سیاسی بیانیے میں بھٹو کے نام اور ان کی سیاسی حکمت عملی کو اہمیت دیتی ہے۔

ان کے حامیوں کا ماننا ہے کہ بھٹو ایک حقیقی رہنما تھے، جو عوام کے حقوق کے لیے لڑتے تھے، جب کہ مخالفین انہیں ایک طاقت کے خواہش مند حکمران کے طور پر دیکھتے ہیں۔

بھٹو کا سیاسی ورثہ آج بھی پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں اثر انداز ہو رہا ہے۔ ان کی پھانسی کے باوجود ان کا نام پاکستان کے عوامی شعور میں زندہ ہے۔ آج بھی مختلف مواقع پر ذوالفقار علی بھٹو کی شخصیت اور ان کی قربانی پر سوالات اٹھتے ہیں۔

45 سال بعد بھی یہ سوالات ہیں کہ کیا بھٹو کی پھانسی صرف ایک سیاسی انتقام تھا؟ کیا ان کے ساتھ انصاف ہوا تھا؟ اور کیا پاکستان میں اس وقت کے عدلیہ نے ان کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کیا؟ ان سوالات کا جواب شاید ہم کبھی نہ پائیں، لیکن یہ حقیقت ہے کہ بھٹو کا سیاسی ورثہ پاکستان کی سیاست میں ایک گہرا اثر چھوڑ چکا ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو کی زندگی اور ان کی پھانسی ایک متنازعہ اور پیچیدہ باب ہے، جو آج بھی پاکستان کے سیاسی منظرنامے پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ 4 اپریل کو ان کی برسی کے موقع پر ان کے حامی انہیں ایک شہید کے طور پر یاد کرتے ہیں، جب کہ مخالفین ان کی حکمرانی کو بدعنوانی اور طاقت کے لالچ میں مبتلا دیکھتے ہیں۔

ان کا ورثہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب شاید وقت کے ساتھ بھی مکمل نہیں مل سکے گا، لیکن ان کا سیاسی اثر ہمیشہ پاکستان کے عوامی اور سیاسی ذہنوں میں زندہ رہے گا۔

عاصم ارشاد

عاصم ارشاد

Share This Post:

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ پوسٹس