دوسری جنگ عظیم میں جرمنی کی شکست میں نمایاں کردار ادا کرنے والے برطانوی وزیراعظم ‘ونسٹن چرچل’ کی شخصیت کا جادو آج بھی بہت سے لوگوں پر طاری ہے۔ اس کی باتیں، اس کے فیصلے اور رہنمائی آج بھی تاریخی حوالوں میں زندہ ہیں۔
لیکن ایک سوال جو اب تک زندہ رہا ہے وہ یہ ہے کہ کیا ونسٹن چرچل واقعی ایک عظیم ہیرو تھا یا پھر وہ ایک جنگی مجرم تھا جس نے اپنی قوم کے مفاد کے لیے لاکھوں انسانوں کی جانوں کو نظرانداز کیا؟
اس سوال کا جواب کئی زاویوں سے دیا جا سکتا ہے لیکن جو بات واضح ہے وہ یہ ہے کہ چرچل کی میراث اتنی سادہ نہیں جتنی دکھائی دیتی ہے۔
چرچل کو بچپن میں ہمیشہ ایک ہیرو کی طرح پیش کیا گیا تھا، اس کی قیادت اور عظمت کی کہانیاں پڑھ کر انسان کا دل جوش و جذبے سے بھر جاتا تھا۔
اینڈ بلائیٹن جیسے مصنفین نے ان کی زندگی کو ایک سنہری مثال کے طور پر پیش کیا ہے انکا کہنا تھا کہ “جیسے جیسے میں بڑی ہوئی اور ہندوستان کی نوآبادیاتی تاریخ سے آگاہ ہوئی تو مجھے اس ’ہیرو‘ کی حقیقت کا پتا چلا۔ چرچل کی شخصیت کو صرف برطانیہ ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں کئی سوالات کا سامنا ہے۔”
انہوں نے لکھا کہ “ہندوستان میں چرچل کے بارے میں رائے بہت مختلف ہے۔ جب میں نے انڈیا کی آزادی کے جنگی منظرنامے پر غور کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ برطانوی استعمار کے دوران کئی لوگوں کی زندگیوں پر جو ظلم و ستم ڈھایا گیا اور وہ شاید چرچل کے ’ہیرو‘ ہونے کے دعووں کو مشکوک بناتا ہے۔
بنگال کا قحط 1943ء جس میں تقریباً تیس لاکھ افراد ہلاک ہوئے یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس پر برطانوی وزیراعظم چرچل کا کردار تاریخ میں ہمیشہ کے لیے سوالیہ نشان بن چکا ہے۔
چرچل نے اس قحط کو ایک ’طبیعی حادثہ‘ قرار دیا تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس قحط کے پیچھے برطانوی حکومت کی غلط حکمت عملی اور امداد کی کمی تھی۔
اس کے علاوہ جنگی حکمت عملی کے تحت فصلوں اور کشتیوں کو تباہ کر دینے والے چرچل کے فیصلے نے پورے بنگال میں قحط کی صورتحال کو بدترین بنا دیا۔
چرچل کا یہ ماننا تھا کہ جاپانیوں کے حملے کی صورت میں بنگال میں غذا کی فراہمی روکنی ہوگی تاکہ جنگی وسائل پر کوئی اثر نہ پڑے۔ لیکن لاکھوں بے گناہ انسانوں کی جانوں کی قیمت پر اس حکمت عملی کا کیا جواز تھا؟
مزید برآں، چرچل نے انڈیا کے عوام کے بارے میں انتہائی متعصبانہ خیالات کا اظہار کیا ہے۔
ونسٹن چرچل ہندوستانیوں کو ’جنگلی‘ اور ’غلیظ‘ سمجھتے تھے اور ان کی نظر میں ہندوستان کی آزادی کے قابل نہیں تھے۔
اس کا کہنا تھا کہ ’’ہندوستانیوں کو حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے، اگر انہیں آزاد کر دیا گیا تو ملک کا بٹوارہ اور انتشار ہوگا۔‘‘
یہ وہ الفاظ ہیں جو ایک وزیراعظم کے منہ سے نکلے تھے اور جو اپنے ہی ملک کے باشندوں کو غلام بنانے کا حق سمجھتا تھا۔
اس سب کے باوجود چرچل کی زندگی میں ایک پیچیدہ حقیقت چھپی ہوئی ہے جبکہ دوسری جنگ عظیم میں اس کی قائدانہ صلاحیتوں کو عالمی سطح پر سراہا گیا۔
اس کی قیادت میں برطانوی فوج نے جرمنی کو شکست دی اور اس نے دنیا کو ایک نیا رخ دیا تھا۔ اس کی جنگی حکمت عملی اور فیصلہ کن فیصلوں نے برطانیہ کو تاریخ کے اس مشکل ترین وقت میں بچا لیا تھا۔
لیکن کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ چرچل کی ہر بات کو محض ہیرو کی نظروں سے دیکھا جائے؟ جہاں ایک طرف اس کی قائدانہ صلاحیتیں غیر معمولی تھیں وہیں دوسری طرف اس کا رویہ اور متعصب سوچ بہت سے لوگوں کے لیے ایک المیہ بھی بنی۔
انڈین اور افریقی اقوام کے بارے میں ونسٹن چرچل کے بیانات اور پالیسیوں نے لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کیا تھا۔
اگر ہم چرچل کو ایک جنگی ہیرو کے طور پر دیکھیں تو اس کے سیاسی اقدامات کی حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس نے برطانوی سلطنت کی عزت کو بچانے کے لیے جرات مندانہ فیصلے کیے تھے لیکن ان فیصلوں نے لاکھوں انسانوں کی جانیں بھی لیں۔ کیا یہ کسی ’ہیرو‘ کا کام ہے؟ یا پھر یہ ایک جنگی مجرم کے اقدامات ہیں؟
چرچل کی شخصیت کو محض ایک زاویے سے دیکھنا کافی نہیں بلکہ اس کی زندگی میں کئی ایسی داستانیں چھپی ہوئی ہیں جو ہمیں اس کی حقیقی تصویر دکھاتی ہیں۔
آج جب ہم چرچل کی زندگی پر غور کرتے ہیں تو ہمیں اس کی یادوں کے ساتھ ساتھ اس کی پالیسیوں کے اثرات کو بھی یاد رکھنا ہوگا۔ اور یہی وہ حقیقت ہے جو اس کے ‘لکھاری اور عظیم رہنما یا ضدی اور ناکام شخص’ ہونے کے سوال کا جواب دیتی ہے۔