عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ بات قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان بن جاسم آل ثانی نے واشنگٹن میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کے بعد کہی۔ ملاقات ساتویں امریکا قطر اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے موقع پر ہوئی، جس میں غزہ کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

قطری وزیراعظم نے خبردار کیا کہ اسرائیل کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر جنگ بندی کی خلاف ورزیاں نہ صرف موجودہ معاہدے کو کمزور کر رہی ہیں بلکہ پورے امن عمل کو سبوتاژ کرنے کے سنگین خطرے سے بھی دوچار کر چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلسل خلاف ورزیاں ثالثی کے عمل کو انتہائی مشکل بنا رہی ہیں۔

شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے فوری طور پر جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کے آغاز پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اب مزید تاخیر برداشت نہیں کی جا سکتی۔

انہوں نے واضح کیا کہ غزہ تک انسانی امداد کی غیر مشروط اور بلارکاوٹ فراہمی یقینی بنائی جانی چاہیے اور جنگ بندی کے اگلے مرحلے کے آغاز میں مزید تاخیر امن عمل کے لیے نقصان دہ ہوگی۔

ادھر الجزیرہ کی مانیٹرنگ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 10 اکتوبر کو جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اب تک اسرائیل کم از کم 738 مرتبہ معاہدے کی خلاف ورزی کر چکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ان خلاف ورزیوں کے نتیجے میں 394 فلسطینی شہید, جب کہ ایک ہزار سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

الجزیرہ کے چیف امریکی نمائندے ایلن فشر نے بتایا کہ واشنگٹن میں ہونے والی بات چیت کا بنیادی مقصد اسرائیل پر دباؤ ڈالنا تھا تاکہ اسے غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں سے روکا جا سکے۔

مذاکرات کے دوران ایک ممکنہ بین الاقوامی استحکامی فورس (انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس) کی تشکیل پر بھی بات چیت ہوئی، جس میں انڈونیشیا اور ترکی کے دستوں کی شمولیت زیرِ غور ہے، تاہم اسرائیل نے ترکی کی شمولیت پر اعتراض کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان پر ٹی ٹی پی کے حملے افغانستان سے ہو رہے ہیں، اقوام متحدہ

واضح رہے کہ غزہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے میں حماس کو غیر مسلح کرنا، اسرائیلی افواج کا انخلا اور ایک بین الاقوامی فورس کی تعیناتی شامل ہے اور یہی نکات اس وقت سب سے زیادہ متنازع بنے ہوئے ہیں۔

حماس کے غزہ میں سربراہ خلیل الحیہ نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی خلاف ورزیاں معاہدے کی بقا کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو اپنے وعدوں کی پابندی پر مجبور کریں۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیل جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے اختتام کے قریب ہے اور غزہ میں موجود آخری اسرائیلی اسیر کی باقیات کی واپسی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔