اپریل 5, 2025 1:01 صبح

English / Urdu

Follw Us on:

آپ کی ایک گوگل سرچ بھی ماحول کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ مگر کیسے؟

زین اختر
زین اختر

کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ اپنے گھر میں اپنے بیڈ پہ ٹیک لگا ئے بیٹھے ہیں اور اپنے موبائل سے گوگل پر اپنی پسندیدہ فلم سرچ کرتے ہیں، آپ ماحول کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ جی ہاں! آپ کے اس چھوٹے سے عمل سے بھی ماحول کو نقصان پہنچتا ہے۔ نہ صرف ایسے موبائل سے سرچ کرنے سے بلکہ کھانا پکانے اور سفر کرنے جیسے روزمرہ کے کام بھی ماحول کو نقصان پہنچانے کا سبب بنتے ہیں۔ آئیے جانتے ہیں کہ ایسا کیسے ہوتا ہے۔

کاربن فٹ پرنٹ ایسی گیسوں کے اخراج کے ماپنے کو کہتے ہیں جو ماحول کو نقصان دینے کا سبب بنتی ہیں۔ ان گیسوں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ، میتھین، نائٹرس آکسائیڈ اور فلوسینیٹد گیسز، جنہیں ایف گیسز بھی کہا جاتا ہے، شامل ہیں۔ کیونکہ ان گیسز میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج سب سے زیادہ ہے اس لیے انہیں “کاربن فٹ پرنٹ” کا نام دیا گیا ہے۔ ان گیسوں کو گرین ہاؤس گیسز بھی کہا جاتا ہے۔

یہ گیسز زمین کے گرد موجود اوزون کی تہہ، جو زمین کو سورج کی خطرناک شعاعوں سے بچاتی ہے، کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ اس نقصان کے نتیجے میں اوزون کی تہہ پتلی ہو جاتی ہے اور سورج کی خطرناک اور زہریلی شعاعیں اس تہہ میں سے گزر کر زمین پر پہنچتی ہیں اور موسمیاتی تبدیلی کا باعث بنتی ہیں جس کے باعث سیلاب، سخت موسم اور سونامی وغیرہ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

کاربن فٹ پرنٹ کی سب سے بڑی وجہ انسانی سرگرمیاں ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلی شکاگو کے مطابق دنیا میں 30 فیصد کاربن فٹ پرنٹ کا اخراج بجلی کے شعبے سے منسلک ہے جبکہ 26 فیصد پیٹرولیم مصنوعات کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ اسی طرح فیکٹریوں کی وجہ سے 21 فیصد، زرعی شعبے کی وجہ سے 9 فیصد اور رہائشی و تجارتی شعبے کی وجہ سے 12 فیصد گیسوں کا اخراج ہوتا ہے۔

کاربن فٹ پرنٹ کی سب سے بڑی وجہ انسانی سرگرمیاں ہیں۔ )فوٹو: برائٹی ڈاٹ ایکو)

پنجاب یونی ورسٹی میں ماحولیاتی تحقیق کے شعبے سے وابستہ ڈاکٹر سیدہ عدیلہ بتول کی تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں 26 فیصد کاربن فٹ پرنٹ ہماری خوراک سے منسلک ہے۔ اس 26 فیصد آدھے سے زیادہ حصہ صرف جانوروں کے گوشت کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ ایک کلو گرام بھیڑ کے گوشت یا ایک کلو گرام پنیر تیار کرنے پر 20 کلوگرام کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہوتا ہے۔

اسی طرح ہمارے روزمرہ کی سرگرمیاں، جیسا کہ نقل و حرکت، بھی کاربن فٹ پرنٹ کا سبب بنتی ہیں۔ مثال کے طور پر اگر ہم اڑھائی کلومیٹر پیدل سفر کرتے ہیں تو اس کا کاربن فٹ پرنٹ صفر ہوگا لیکن اگر ہم پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کریں تو یہ 20 منٹ میں 244 گرام گیسز کا اخراج ہوگا۔ اسی طرح اپنی کار پہ سفر کرنے سے یہ اخراج 560 گرام ہوگا۔

ہماری روزمرہ کی سرگرمیوں میں استعمال ہونے والی اشیا مثلاً ایک پلاسٹک کا شاپر سے 33 گرام کاربن فٹ پرنٹ ہوتا ہے۔ حیران کن طور پر اگر آپ گوگل پہ ایک سرچ کرتے ہیں تو اس سے بھی 0.2 گرام کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہوتی ہے۔ ایک پلاسٹک کی بوتل 83 گرام جبکہ پھولوں کا گل دستہ 32 ہزار گرام کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتا ہے۔

گوکہ پاکستان پوری دنیا کے مقابلے میں ایک فیصد سے بھی کم کاربن فٹ پرنٹ کا ذمہ دار ہے لیکن جو ممالک موسمیاتی تبدیلی سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں ان میں پاکستان پانچویں نمبر پر ہے۔ اس وجہ سے پاکستان کو اس تبدیلی سے زیادہ خطرات کا سامنا ہے۔ 2022 میں آنے والے سیلاب اسی بات کا ثبوت ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق اس سیلاب سے پاکستان میں 33 ملین لوگ متاثر ہوئے۔

موسمیاتی تبدیلی پوری دنیا کا مشترکہ مسئلہ ہے جس میں تمام ممالک مل کر کام کر رہے ہیں۔ ہر سال کانفرنس آف پارٹیز کے نام سے ایک میٹنگ ہوتی ہے جس میں تمام ممالک کے سربراہان شرکت کرتے ہیں اور دنیا کو موسمیاتی تبدیلی سے درپیش مسائل کو حل کرتے ہیں۔

زین اختر

زین اختر

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس