اپریل 4, 2025 11:45 شام

English / Urdu

Follw Us on:

پاک،امریکا تعلقات:جوبائیڈن کا دورکیسا رہا؟

عاصم ارشاد
عاصم ارشاد
جوبائیڈن کے دورحکومت میں ہی امریکا کو افغانستان سے جانا پڑا(فائل فوٹو)

جو بائیڈن کا وائٹ ہاؤس میں قدم رکھنا ایک تاریخی لمحہ تھا، جس کے ساتھ ہی دنیا بھر کے ممالک نے اپنی پوزیشنیں از سرِ نو طے کرنا شروع کیں۔ پاکستان اورامریکا کے تعلقات، جو ہمیشہ ایک پیچیدہ سائے کی مانند رہے ہیں، بائیڈن کی صدارت میں ایک نیا موڑ لے رہے تھے۔ بائیڈن کے دور میں دونوں ممالک کے تعلقات میں کچھ ایسے مواقع اور چیلنجز آئے جو پاکستان کے لیے ایک نیا امتحان اور امریکا کے لیے ایک موقع ثابت ہوئے۔ یہ ایک کہانی ہے، جہاں ہر پیچیدہ لمحہ ایک نیا سبق سکھاتا ہے، اور ہر فیصلہ ایک نئی حقیقت کو جنم دیتا ہے۔

افغانستان سے امریکی انخلا: ایک سنگین اورکربناک لمحہ

افغانستان میں امریکی افواج کے انخلا کا مرحلہ، جو بائیڈن کی صدارت میں ایک ایسا لمحہ تھا جس نے نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کی تقدیر کو بدل کررکھ دیا۔ جب امریکی افواج نے افغانستان چھوڑا، تو یہ فیصلہ نہ صرف امریکا بلکہ پاکستان کے لیے بھی ایک پیچیدہ صورتحال بن چکا تھا۔ پاکستان نے امریکہ کے ساتھ اس عمل میں بھرپور تعاون کیا تھا،اور طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے کردار ادا کیا۔ تاہم، جیسے ہی طالبان نے کابل کا کنٹرول سنبھالا، دونوں ممالک کے درمیان تنازعات کی نئی لہر اٹھ کھڑی ہوئی۔

پاکستان کا نقطہ نظر ہمیشہ یہی رہا کہ افغانستان میں امن کا قیام پاکستان کی اپنی قومی سلامتی کے لیے بھی ضروری ہے۔ لیکن امریکا نے پاکستان پر دباؤ ڈالا کہ وہ طالبان کے اثر و رسوخ کو کم کرے، جبکہ پاکستان کی حکومت نے یہ مؤقف اختیارکیا کہ اس کے پاس اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ طالبان امن کے راستے پر قدم رکھیں گے۔ بائیڈن انتظامیہ کی پالیسیوں میں یہ نکتہ واضح تھا کہ امریکا پاکستان سے افغانستان کے معاملے میں اس کی پوزیشن پرتبدیلی چاہتا تھا، تاہم اس پرعمل درآمد ایک ایسا چیلنج بن گیا جس نے دونوں ممالک کے تعلقات میں شکوک و شبہات کو جنم دیا۔ امریکی انتظامیہ نے پاکستان سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ افغان طالبان کے ساتھ اپنے روابط کو کم کرے، مگر پاکستان نے اس معاملے میں اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کو مقدم رکھا۔

حقیقت: امریکہ نے پاکستان پر طالبان کے ساتھ روابط کو کم کرنے پر زور دیا، لیکن پاکستان نے ہمیشہ اس بات کو تسلیم کیا کہ افغان مسئلہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے، جس کے حل میں پاکستان کا کردار محض معاونت کا رہا ہے۔ افغانستان میں امن کا قیام پاکستان کے لیے ہمیشہ اولین ترجیح رہا ہےاوریہ ہمیشہ ایک متنازعہ موضوع بن چکا ہے۔

جوہری ہتھیاروں پر امریکی بیانات:ایک کڑوا سچ اورپاکستانی خودمختاری کا سوال

جوبائیڈن کے دورِ حکومت میں پاکستان کے جوہری پروگرام کے حوالے سے جو بیانات آئے، وہ نہ صرف پاکستان کی حکومت بلکہ عوام کے لیے بھی ایک کڑا امتحان بن گئے۔ بائیڈن انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے یہ بیان دیا کہ پاکستان کا جوہری ہتھیاردنیا کےخطرناک ترین ہتھیاروں میں شمار ہوتا ہے، اوراس کاغیر منظم ہونا عالمی سطح پرایک سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ یہ بیان پاکستانی حکام کے لیے ایک دھچکا تھا کیونکہ پاکستان کا جوہری پروگرام ہمیشہ سے ایک حساس موضوع رہا ہے،اوراس پراس طرح کی عالمی تنقید اس کے لیے ایک چیلنج بن گئی۔

پاکستان نے فوری طورپراس بیان کورد کیااوراس بات کی وضاحت پیش کی کہ اس کا جوہری پروگرام نہ صرف محفوظ ہے بلکہ عالمی معیارات کے مطابق ہے۔ پاکستان نے اس تنقید کو اپنے دفاعی حقوق کے تناظر میں دیکھا اور کہا کہ ہر قوم کا حق ہے کہ وہ اپنے دفاع کے لیے مناسب اقدامات کرے، اور جوہری ہتھیار اس ضمن میں ایک اہم جزو ہیں۔ بائیڈن انتظامیہ کی طرف سے اس بیان کے بعد پاکستان نے اپنے موقف کو واضح کیا کہ اس کا جوہری پروگرام عالمی سطح پر تسلیم شدہ اصولوں کے مطابق محفوظ ہے اور اس میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں ہے۔

حقیقت: امریکہ کے اس بیان کے بعد پاکستان نے جوہری ہتھیاروں کے بارے میں مزید شفافیت فراہم کرنے کی پیشکش کی،مگر عالمی سطح پر جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے ہونے والی ہر بحث پاکستان کے لیے ایک چیلنج بنی۔ یہ ایک لمحہ تھا جب پاکستان کو اپنی خودمختاری اور دفاعی حقوق کو عالمی سطح پر تسلیم کروانے کی ضرورت محسوس ہوئی۔

اقتصادی تعلقات: ایک سنگین بحران اور خاموش چیلنج

امریکی-پاکستانی اقتصادی تعلقات ہمیشہ ایک سنگین بحران کی شکل میں سامنے آتے ہیں، اور بائیڈن کے دور میں یہ تعلقات کوئی نمایاں ترقی حاصل نہیں کر سکے۔ اگرچہ پاکستان نے اقتصادی بحرانوں کے دوران امریکہ سے امداد کی امید کی تھی، مگر بائیڈن انتظامیہ نے پاکستان کو غیر فوجی امداد فراہم کرنے کے وعدے تو کیے، لیکن یہ امداد پاکستان کی اقتصادی ضروریات کے مقابلے میں کافی نہیں تھی۔

پاکستان کا موقف تھا کہ امریکہ کو اس کی اقتصادی صورتحال میں زیادہ معاونت فراہم کرنی چاہیے تھی، خاص طور پر جب عالمی سطح پر اقتصادی دباؤ بڑھ رہا تھا۔ بائیڈن کے دور میں امریکی امداد کا حجم اتنا نہیں تھا جتنا کہ پاکستان کو درکار تھا، اور تجارتی تعلقات میں بھی کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوئی۔ پاکستان نے امریکہ سے درخواست کی تھی کہ وہ خطے میں پاکستان کے اقتصادی مفادات کے حوالے سے مزید معاونت فراہم کرے، لیکن امریکہ کی پالیسیوں میں ہمیشہ ایک تحفظ کا عنصر موجود رہا، جو تعلقات کی حقیقی ترقی میں رکاوٹ بنتا رہا۔

حقیقت: پاکستان نے امریکہ سے اقتصادی تعاون بڑھانے کے لیے کئی اقدامات کیے، مگر دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کی حقیقت ہمیشہ مختلف رہی۔ اس دوران پاکستان نے چین اور دیگر ممالک سے اپنی اقتصادی وابستگی کو مزید مستحکم کیا تاکہ اپنے اقتصادی چیلنجز کا مقابله کر سکے۔

دفاعی تعلقات: ایک بدلتی ہوئی حقیقت اورمحدود تعاون

دفاعی تعلقات میں جو بائیڈن کے دور میں واضح کمی واقع ہوئی۔ امریکہ نے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعلقات میں تیزی سے کمی کی اور پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات میں زیادہ احتیاط کا مظاہرہ کیا۔ افغانستان میں امریکی افواج کے انخلا کے بعد، پاکستان کے لیے عالمی سطح پر اپنی اہمیت کو دوبارہ ثابت کرنا ضروری ہو گیا، مگر امریکہ نے پاکستان کے ساتھ اپنے دفاعی تعلقات محدود کر لیے۔

امریکہ نے پاکستان کے ساتھ انٹیلی جنس، دہشت گردی کے خلاف جنگ، اور جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے تعاون تو جاری رکھا، مگر دونوں ممالک کے درمیان دفاعی معاہدوں اور مشترکہ فوجی مشقوں میں کمی آئی۔ پاکستان نے اس دوران عالمی سطح پر اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کی تاکہ اپنے مفادات کا تحفظ کر سکے، جبکہ امریکہ نے جنوبی ایشیا میں اپنی حکمت عملی کے مطابق پاکستان کے ساتھ تعلقات میں تبدیلیاں کیں۔

حقیقت: دفاعی تعلقات میں کمی کے باوجود، پاکستان نے امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کی نوعیت کو ایک توازن کے ساتھ برقرار رکھا اور عالمی سطح پر دیگر طاقتوں سے بھی اپنے دفاعی تعلقات کو مستحکم کرنے کی کوشش کی۔

پاکستان کی سیاسی صورتحال: ایک مروجہ امتحان اور امریکہ کا ردعمل

پاکستان میں 2022 میں سیاسی بحران ایک نیا موڑ تھا۔ عمران خان کی حکومت کے خلاف اپوزیشن کی تحریک اور ان کی برطرفی نے ایک نیا سیاسی ماحول پیدا کیا۔ امریکہ نے اس دوران پاکستان میں جمہوریت کے استحکام پر زور دیا، لیکن اس نے پاکستانی سیاست میں کسی بھی براہ راست مداخلت سے گریز کیا۔

پاکستان میں ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کے باوجود امریکہ نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لیے تمام اقدامات کیے جائیں۔ امریکی حکام نے پاکستان کی سیاسی حکومتوں کی حمایت کی، مگر اس دوران ایک بات سامنے آئی کہ امریکہ اپنی پالیسیوں کو پاکستان کی داخلی سیاست سے دور رکھنا چاہتا تھا۔

حقیقت: پاکستان میں سیاسی عدم استحکام کے باوجود، امریکہ نے جمہوریت کی حمایت جاری رکھی، مگر اس کے ساتھ ہی اس نے پاکستان کی داخلی سیاست میں عدم مداخلت کی پالیسی اپنائی۔

جوبائیڈن کے دورمیں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات ایک پیچیدہ، سنجیدہ اور بدلتے ہوئے تناظر میں جیتنے کی کوشش کی کہانی بن گئے۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں ہر فیصلہ ایک نیا موڑ لاتا رہا، اور ہر قدم ایک نیا چیلنج پیش کرتا رہا۔ جہاں اختلافات اور تنازعات تھے، وہاں امیدوں کے نئے باب بھی کھلتے گئے،اورآخرکار دونوں ممالک نے اپنے مفادات کے مطابق ایک دوسرے کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کی۔ یہ کہانی ایک سیکھنے کے عمل کی مانند ہے، جو ہمیں بتاتی ہے کہ عالمی تعلقات میں پیچیدگیاں، مفادات اور چیلنجز ہمیشہ ایک نیا پہلو فراہم کرتے ہیں۔

عاصم ارشاد

عاصم ارشاد

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس