خبررساں ادارے کے مطابق کیوبیک سٹی میں نئی قانون ساز مدت کے آغاز سے قبل خطاب کرتے ہوئے مارک کارنی نے کہا کہ کینیڈا امریکا کے سہارے زندہ نہیں ہے، بلکہ اس کی ترقی کی وجہ یہ ہے کہ ہم کینیڈین ہیں۔ تاہم انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان شاندار شراکت داری کا اعتراف بھی کیا۔

واضح رہے کہ منگل کے روز عالمی اقتصادی فورم میں ان کے خطاب کے بعد ٹرمپ نے یہ بیان دیا تھا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکا کی قیادت میں قائم قوانین پر مبنی عالمی نظام اس وقت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔

انہوں نے اشارہ دیا کہ کینیڈا جیسی درمیانی طاقتوں کو، جنہوں نے امریکی غلبے کے دور میں ترقی کی، اب یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک نئی حقیقت جنم لے چکی ہے اور محض تعمیل بڑی طاقتوں کی جارحیت سے تحفظ فراہم نہیں کر سکتی۔

کارنی کے اس خطاب کے بعد ٹرمپ برہم ہوگئے تھے اور اگلے ہی دن اپنی تقریر میں ٹرمپ نے کہا، میں نے کل آپ کے وزیرِ اعظم کو دیکھا، وہ خاصے ناشکرگزار لگے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کینیڈا امریکا کی بدولت زندہ ہے اور کارنی کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ مارک، اگلی بار بیان دیتے وقت یہ بات یاد رکھنا۔

جمعرات کے روز مارک کارنی نے زور دے کر کہا کہ جمہوری زوال کے اس دور میں کینیڈا کو ایک مثال بننا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ کینیڈا دنیا کے تمام مسائل حل نہیں کر سکتا، لیکن ہم یہ ضرور دکھا سکتے ہیں کہ ایک متبادل راستہ ممکن ہے اور تاریخ کا رخ آمریت اور اخراج کی طرف مڑنا ناگزیر نہیں۔

یاد رہے کہ نو ماہ قبل عہدہ سنبھالنے کے بعد سے کارنی ٹرمپ پر تنقید کرنے سے نہیں ہچکچائے، تاہم وہ ایک ایسے ملک کے سربراہ ہیں جو اب بھی تجارت کے لیے بڑے پیمانے پر امریکا پر انحصار کرتا ہے، جہاں اس کی تین چوتھائی سے زائد برآمدات جاتی ہیں۔

دوسری جانب، ٹرمپ نے کینیڈا کو امریکا میں ضم کرنے کی دھمکی ایک بار پھر دہرائی ہے۔ انہوں نے اس ہفتے سوشل میڈیا پر ایک نقشہ شیئر کیا، جس میں کینیڈا، گرین لینڈ اور وینزویلا کو امریکی پرچم میں ڈھکا ہوا دکھایا گیا تھا۔

مارک کارنی نے کہا کہ کینیڈا کو عالمی تعلقات کی موجودہ خطرناک صورتحال کے حوالے سے کوئی خوش فہمی نہیں ہے۔ ان کے مطابق دنیا اب پہلے سے کہیں زیادہ منقسم ہو چکی ہے، پرانے اتحاد نئی شکل اختیار کر رہے ہیں اور بعض صورتوں میں مکمل طور پر ختم ہو رہے ہیں۔

دفاعی اخراجات میں اضافے کے حکومتی منصوبوں کا حوالہ دیتے ہوئے کارنی نے کہا کہ کینیڈا کو اپنی خودمختاری کا دفاع اور اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانا ہوگا۔