لاہور ایئرپورٹ لاؤنج میں منعقدہ خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے شہری انتظامیہ کی غفلت پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور چیف سیکرٹری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج آپ کو شاید اندازہ ہو گیا ہوگا کہ میں اس معاملے پر اتنی سختی کیوں برتتی ہوں۔ پنجاب کے تمام اضلاع کی ایڈمنسٹریشن کی میٹنگز میں، ہر چیز پر میرا اسٹریس ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کے تمام اضلاع کی ایڈمنسٹریشن میٹنگز میں میں ہر نکتے پر اسی لیے زور دیتی ہیں کیونکہ ایک چھوٹی سی لاپروائی قیمتی جان لے لیتی ہے۔
وزیرِاعلیٰ پنجاب نے کہا کہ اگر یہ واقعہ آپ کی بیٹی یا کسی افسر کی بیٹی کے ساتھ پیش آتا تو پورا سسٹم ہل جاتا، جس نے یہ جگہ کھلی چھوڑی، کیا ان کے گھروں میں بچے نہیں ہیں؟ یہ واقعہ لاہور میں پیش آیا ہے، کسی دور دراز ضلع راجن پور، لیہ یا بھکر میں نہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی میں نے رات کے وقت سیف سٹی کے سربراہ احسن کو کال کی، جس پر احسن نے فوراً خود موقع پر جانے کی یقین دہانی کرائی۔ متعلقہ جگہ پر کنسٹرکشن سائٹ ہونے کے باعث کیمرے عارضی طور پر ہٹائے گئے تھے، جس کی وجہ سے فوری فوٹیج دستیاب نہ ہو سکی۔ انہوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا اور بتایا کہ بظاہر لڑکی واقعی کھائی میں گری ہے۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ واقعے کے حوالے سے عظمیٰ بخاری کا نام سامنے آیا، تاہم اس حادثے سے ان کا کوئی تعلق نہیں تھا، انہیں بھی وہی معلومات مل رہی تھیں جو دیگر افراد کو موصول ہو رہی تھیں۔ کچھ لوگوں نے بغیر تصدیق کے بات کو حقیقت کے طور پر پیش کیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے واضح کیا کہ شہریوں کی جانوں سے کھیلنے والوں کے خلاف کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی اور ذمہ داروں کا تعین کر کے سخت کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ابھی کچھ بھی کہنا بے معنی ہوگا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہاں کوئی احتیاطی تدابیر نہیں تھیں، کوئی سیفٹی انتظامات نہیں تھے، جگہ کو کارڈن آف نہیں کیا گیا اور کوئی عارضی کور بھی نہیں رکھا گیا۔
سب کچھ بے معنی ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہاں کوئی احتیاطی تدابیر نہیں تھیں، کوئی سیفٹی میجرز نہیں تھے، جگہ کو کارڈن آف نہیں کیا گیا، اور کوئی عارضی کور بھی نہیں رکھا گیا۔لوگ بس آرام سے کام بند کر کے اپنے گھروں کو چلے گئے، عوام کو مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔کمشنر لاہور، ڈی سی لاہور،… pic.twitter.com/J2hMUEAf1A
— PMLN (@pmln_org) January 29, 2026
مریم نواز نے کہا کہ لوگ بس آرام سے کام بند کر کے اپنے گھروں کو چلے گئے، عوام کو مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔کمشنر لاہور، ڈی سی لاہور، ڈی جی ایل ڈی اے، ایم ڈی واسا، آپ سب جواب دیں، بتائیں یہ سب کیوں ہوا؟ دس ڈیپارٹمنٹس یہاں ہیں، مگر کسی کے پاس بھی جواب نہیں۔
دوسری جانب سماجی رابطے کی سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ واقعے کے بعد ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے حقائق کو مسخ کیا گیا تاکہ نااہلی پر پردہ ڈالا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو افسران ایک کھلے مین ہول تک کو محفوظ بنانے میں ناکام ہوں، انہیں عہدے پر رہنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔
The loss of an innocent life in the heart of Lahore is not a mere accident, it is a crime, and it has bowed my head in shame. Instead of accepting responsibility, facts were distorted to hide incompetence. Officers who cannot even secure an open manhole have no right to hold…
— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) January 29, 2026
مریم نواز شریف نے اعلان کیا کہ میں اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھوں گی جب تک انصاف فراہم نہیں ہو جاتا، دو بیٹیوں کے خون کا حساب نہیں لیا جاتا اور ہر ذمہ دار افسر کو سزا کے کٹہرے میں نہیں لایا جاتا۔
انہوں نے کہا کہ بار بار ہدایات اور مسلسل نگرانی کے باوجود غفلت اور فرائض میں کوتاہی کے باعث ایک غریب جان چلی گئی، لیکن اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ امر یہ ہے کہ حقیقت کو دبانے کی کوشش کی گئی۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے واضح کیا کہ غافل اور بددیانت افسران کا دور ختم ہو چکا ہے۔ انہوں نے متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑے ہونے اور انہیں انصاف کی فراہمی تک ڈھال بننے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں ہر جان قیمتی ہے، چاہے اس میں کتنا ہی بااثر افسر کیوں نہ ملوث ہو۔







