ایرانی میڈیا کے مطابق یہ دھماکا بندر عباس کی 8 منزلہ رہائشی عمارت میں ہوا، جس کے نتیجے میں دو منزلیں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں جب کہ متعدد گاڑیاں اور دکانیں بھی شدید نقصان کا شکار ہوئیں۔ مقامی فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔
ایرانی نیم سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی افواہوں کی تردید کی کہ اسلامی انقلاب گارڈز کے بحری کمانڈر بریگیڈیر جنرل علی رضا تنگسیری کو نشانہ بنایا گیا اور کہا کہ یہ اطلاعات بالکل جھوٹ پر مبنی ہیں۔
اس دھماکے کے چند گھنٹے بعد ایران کے جنوب مغربی صوبے خوزستان کے شہر اہواز میں بھی ایک اور دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں چار افراد جاں بحق ہو گئے۔
مقامی میڈیا کے مطابق ابتدائی طور پر یہ حادثہ گیس کے سلنڈر پھٹنے کی وجہ سے پیش آیا، تاہم سرکاری سطح پر اس کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔
خیال رہے کہ اہواز اور بندر عباس کے دھماکے ایسے وقت ہوئے ہیں جب خطے میں تناؤ بڑھا ہوا ہے۔ امریکا نے ایران کے خلاف بڑی فوجی کارروائی کے امکانات کا عندیہ دیا ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز کہا تھا کہ امریکا کی آرمادہ ایران کی طرف رواں ہے۔ ایران نے ان دھماکوں کی ذمہ داری امریکا یا اسرائیل پر عائد نہیں کی۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کے غزہ میں فضائی حملے، بچوں سمیت 30 سے زائد افراد شہید ہوگئے
عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسرائیل کے دو اعلیٰ عہدیداروں نے کہا کہ ایران میں ہونے والے دھماکوں میں ان کا کوئی کردار نہیں ہے۔ امریکی پینٹاگون کی جانب سے بھی فوری طور پر کوئی تبصرہ موصول نہیں ہوا۔
دھماکے کے بعد بندر عباس کے مقامی میڈیا نے عمارت کی جلی ہوئی دیواروں اور ملبے کی تصاویر جاری کیں، جن میں واضح ہے کہ دھماکے کی شدت بہت زیادہ تھی۔ فائر چیف نے بتایا کہ عمارت میں موجود تمام رہائشیوں کو بروقت خالی کرا لیا گیا تھا اور حادثے کی تحقیقات جاری ہیں۔
دونوں دھماکے اس تناظر میں آئے ہیں جب ایران کی بندرگاہیں اور آبنائے ہرمز دنیا کی سمندری تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہیں، اور گزشتہ سال اپریل میں بھی بندر عباس میں ایک بڑا دھماکا ہوا تھا جس میں درجنوں افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے تھے۔
یہ دھماکے ایران میں اقتصادی مشکلات اور حالیہ احتجاجی تحریکوں کے بعد پیش آئے ہیں، جن میں ملک کے مختلف حصوں میں ہزاروں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔
ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے بھی امریکی، اسرائیلی اور یورپی قیادت پر الزام لگایا ہے کہ وہ ایران کی داخلی مشکلات سے فائدہ اٹھا کر ملک میں افراتفری پھیلا رہے ہیں۔







