برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق، سنیچر کے روز ایئر فورس ون پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وینزویلا اب امریکا کو بھاری مقدار میں تیل فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
اس موقع پر ایک صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ آیا چین وینزویلا کو تیل کے لیے ادا کی گئی رقم واپس حاصل کر پائے گا یا نہیں؟ اس کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ مجھے اس بارے میں علم نہیں، لیکن میں آپ کو یہ بتا سکتا ہوں کہ اگر چین آنا چاہے تو ہم اسے خوش آمدید کہیں گے اور تیل کے حوالے سے ہمارا ایک بہت اچھا سودا ہو سکتا ہے۔ ہم چین کو خوش آمدید کہتے ہیں۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ہم پہلے ہی ایک معاہدہ کر چکے ہیں اور اب انڈیا آ رہا ہے، جو ایران سے تیل خریدنے کے بجائے وینزویلا سے تیل خریدے گا۔ ہم یہ معاہدہ پہلے ہی طے کر چکے ہیں۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ چین کے لیے بھی وینزویلا کا تیل خریدنے کا خیرمقدم ہے اور وہ آ کر تیل خرید سکتے ہیں۔
دوسری جانب، ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے پر انڈیا کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا نے حملہ کیا تو پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں آئے گا، ایران
یاد رہے کہ وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو کی معزولی اور امریکا کی جانب سے ان کی گرفتاری کے بعد، امریکا وینزویلا کی تیل کی صنعت پر اپنا کنٹرول حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ برس ڈونلڈ ٹرمپ نے روس سے تیل خریدنے پر انڈیا پر 25 فیصد اضافی ٹیرف عائد کر دیا تھا۔
دریں اثنا، انڈیا کی اپوزیشن جماعت کانگریس نے ٹرمپ کے اس دعوے پر مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس کے رہنما جے رام رمیش نے ایکس پر جاری ایک پوسٹ میں لکھا کہ ٹرمپ نے ہمیں بتایا کہ آپریشن سندور روک دیا گیا ہے، انہوں نے ہمیں بتایا کہ انڈیا نے روسی تیل خریدنا بند کر دیا ہے اور اب یہ کہا جا رہا ہے کہ انڈیا وینزویلا سے تیل خریدے گا۔
جے رام رمیش نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ ہمیں مسلسل یہ بتا رہے ہیں کہ ہماری اپنی حکومت نے کیا کیا ہے یا آئندہ کیا کرنے والی ہے۔







