Follw Us on:

نوبل پیس پرائز سے نفرت کے طوفان تک: ملالہ امید کا چہرہ یا تقسیم کا نشان؟

احسان خان
احسان خان
Whatsapp image 2025 07 11 at 23.57.10
ملالہ 12 جولائی 1997 کو سوات کے شہر مینگورہ میں پیدا ہوئیں(فائل فوٹو)

دنیا میں لاکھوں لوگ ملالہ یوسفزئی کو ہیرو مانتے ہیں لیکن پاکستان میں انہیں ’غیر ملکی ایجنٹ‘ کہا جاتا ہے۔ ملالہ کو لے کر پاکستان میں پایا جانے والا نظریہ اب سازشی تھیوریوں سے آگے نکل چکا ہے۔ اب سوال یہ ہے ملالہ ہیرو ہیں یا پھر ‘غیر ملکی ایجنٹ’ کی صورت میں ایک ولن ہیں؟ سوات سے نکل کر عالمی شہریت یافتہ شخصیت تک کا سفر کیسے طے کیا گیا؟ تو آئیے ملالہ کی سالگرہ کے اس دن پر جانتے ہیں کہ وہ اصل میں کون ہیں؟ اور وہ اتنی متنازع شخصیت کیوں بن چکی ہیں؟

ملالہ 12 جولائی 1997 کو سوات کے شہر مینگورہ میں پیدا ہوئیں، ان کے والد ضیاء الدین یوسفزئی ایک اسکول چلاتے تھے تعلیم کو ایک بنیادی حق سمجھنے تھے۔

2008 کے آس پاس جب طالبان کا سوات میں اثرورسوخ بڑھا تو انہوں نے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی لگاتے ہوئے مزاحمت کرنا شروع کر دی۔ ایسے میں کم عمر ملالہ نے ‘گل مکئی’ کے نام سے بی بی سی اردو کے لیے خفیہ طور پر لکھنا شروع کیا۔ انہوں نے طالبان کے زیر اثر زندگی کا حال اس امید کے ساتھ بیان کرنا شروع کیا کہ ان کی برادری میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسے ریکارڈ کر سکیں۔

9 اکتوبر 2012 کو مسلح طالبان نے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کی مخالفت کرنے پر 15 سالہ ملالہ کی اسکول بس روکی، ان کا نام پکارا اور انہیں سر، گردن اور کندھے میں گولیاں مار دی۔ دنیا سکتے میں تھی اور انہیں علاج کے لیے برطانیہ منتقل کر دیا گیا۔ جہاں وہ مکمل صحتیاب ہوئیں اور اپنی 16ویں سالگرہ پر اقوام متحدہ میں ایک زوردار تقریر کی۔ کچھ عرصے بعد انہوں نے ‘آئی ایم ملالہ’ کے نام سے ایک کتاب شریک مصنف کے طور پر لکھی اور برطانیہ میں اپنے خاندان کے ساتھ رہنا شروع کیا۔

‘کورس ہیرو’ کی رپورٹ کے مطابق ملالہ کی زندگی بھر کی جدوجہد کے صلے میں انہیں 2014 میں نوبل امن پرائز دیا گیا۔ یوں وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والی دینا کی کم عمر ترین شخصیت بن گئیں۔

انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم جاری رکھی اور 2020 میں گریجویٹ ہوئیں۔ گریجویٹ ہوتے ساتھ ہی انہوں نے ‘ملالہ فنڈ’ کی شریک بانی کے طور پر دنیا بھر میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے کام بھی جاری رکھا۔ بہت سے لوگوں کے لیے یہ بے لوث، نڈر، متاثرکن اور بہادری کی کہانی ہے۔

ملالہ کے حامی چند اہم وجوہات کی طرف اشارہ کرتے ہیں جن میں کچھ یہ وجوہات ہیں، ملالہ نے خطرات کے باوجود ہمت کی،انہوں نے انتہا پسند نظریات کا مقابلہ کیا اور لڑکیوں کی تعلیم کے لیے ایک عالمی علامت بن گئی،ملالہ نے جواں مردی سے زندہ بچنے والی سے آواز بننے تک کا سفر طے کیا، حملے کے بعد پیچھے ہٹنے کی بجائے انہوں نے اپنی آواز کے ذریعے جدوجہد کا انتخاب کیا۔

‘ملالہ فنڈ’ تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے بھرپور جدوجہد کر رہا ہے۔ جو ان کے مشن کو آگے بڑھا رہا ہے اور نوبل پیش پرائز، اقوام متحدہ میں تقاریر، تعلیمی اعزازات کے باعث دنیا ان کی بات سنتی ہے۔

Mala yousafzai

اب سوال یہ ہے کہ عالمی شہرت اور اثرورسوخ کے باوجود ان کو کچھ لوگ اسے ولن کیوں سمجھتے ہیں؟،عالمی شہرت اور اثرورسوخ ہونے کے باوجود پاکستان میں بہت سے لوگ اسے مختلف نظر سے دیکھتے ہیں۔ اس کی وجوہات اکثر بداعتمادی اور بے چینی سے جڑی ہے۔

سازشی نظریات اور غیر ملکی ایجنٹ ہونے کے الزامات بھی ملالہ پر عائد کیے جاتے ہیں۔ پاکستان میں یہ افواہیں گردش کرتی رہی ہیں کہ وہ سی آئی اے کی ایجنٹ ہیں یا پھر مغرب کی کٹھ پتلی ہیں۔ ‘نیویارک’ کی رپورٹ کے مطابق کچھ لوگوں نے سمجھا کہ حملہ محض ہمدردی حاصل کرنے کے لیے خود ساختہ تھا۔ جبکہ دوسری جانب یہ دعویٰ بھی کیا جاتا تھا کہ وہ درحقیقت حملے سے بچی ہی نہیں۔

‘دی گارڈین’ کی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر میمز میں ان کے زخم کو کمپیوٹر سے بنایا گیا دکھایا گیا اور ان کی کہانی کا مذاق اُڑایا گیا۔

‘کورس ہیرو’ کے مطابق جب ملالہ انگلینڈ گئی تو بہت سے پاکستانیوں نے اسے اپنے وطن کو چھوڑنے یا اس سے غداری کے مترادف سمجھا۔ ان کا خیال تھا کہ وہ پاکستان کے لیے نہیں بلکہ مغرب کے لیے بولتی ہیں۔ ناقادین ان کی عالمی شہرت کو اس بات کی دلیل سمجھتے ہیں کہ وہ ایک پاکستانی آواز کی بجائے ایک بین الاقوامی برانڈ بن چکی ہیں۔

‘الجزیزا’ کے مطابق کچھ لبرل اور بائیں بازو کے افراد اس کی مغربی بیانیے سے ہم آہنگی پر سوال اٹھاتے ہیں۔ قدامت پسندوں کا دعویٰ ہے کہ اس کے مغربی اعزازات نے اس کی مسلم شناخت کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ مثال کے طور پر کاشف مرزا کا کہنا ہے کہ میں ملالہ ڈے نہیں مناتا اور انہوں نے ایک کتاب لکھی جس میں ملالہ پر سیکولر اور غیر ملکی ایجنڈوں کے فروغ کا الزام لگایا گیا۔

اب بہت سے ذہنوں میں یہ سوال جنم لے رہا ہے کہ آخر ملالہ کے معاملے پر پاکستان میں تقسیم کیوں پائی جاتی ہے؟،ملالہ کی متنازع شخصیت پاکستان کے بڑے مسائل کی عکاسی کرتی ہے۔ جس میں شک و شبہ اور سازشی سوچ کا کافی عمل دخل ہے۔ ‘الجزیرا’ کی رپورٹ کے مطابق 9/11 سے لے کر ڈرون حملوں تک پاکستانی عوام اکثر عالمی واقعات کو بیرونی سازشیں سمجھتے ہیں۔ ملالہ نے شدت پسندوں پر تنقید کر کے دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا۔

‘الجزیرا’ کے مطابق جب ملالہ UK چلی گئی تو پاکستانی میڈیا اور اسٹیبلشمنٹ نے اس کی کہانی پر کنٹرول کھو دیا۔ یہ بات کئی لوگوں کو ناگوار گزری۔

‘ڈی ڈبلیو’ کے مطابق چونکہ ملالہ کی ابھرتی ہوئی آواز روایتی کرداروں کے خلاف تھی۔ خواتین سے نفرت اور طاقتور خواتین کا خوف بھی کسی حد ملالہ کے خلاف بنی سوچ کا ذمہ دار ہے۔ طالبان رہنما عدنان رشید جیسے انتہاپسندوں نے اسے اسلام مخالف قرار دیا۔

اور یوں ملالہ توجہ کا مرکز بن گئیں۔ کچھ نے اسے ہیرو کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا تو کچھ نے خفیہ ایجنٹ قرار دے کرتنقید کرنا شروع کر دی۔ لیکن یہ دونوں ردعمل ملالہ سے زیادہ پاکستان کی تقسیم شدہ شناخت کی عکاسی کرتے ہیں۔

تنقید کے باوجود ملالہ پاکستان سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔ وہ پاکستانی اسکولوں اور عوامی تقریبات میں جاتی اور خطاب کرتی ہیں۔ ملالہ فنڈ پاکستان میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے کوشاں ہے۔ حالانکہ ان کی کتاب ‘آئی ایم ملالہ’ کئی نجی اسکولوں میں ممنوع بھی ہے۔

Image

وہ اپنے عالمی کام کو پاکستان کے مستقبل سے جڑا ہوا قرار دیتی ہیں۔ دنیا بھر میں تعلیم کا ان کا مشن اپنے وطن کے لوگوں کی زندگی بہتر بنانے سے جڑا ہوا ہے۔

جب آپ اس معاملے کو گہرائی سے دیکھتے ہیں تو دو باتیں سچ ثابت ہوتی ہیں۔ پہلی یہ کہ ملالہ بلاشبہ بہادر ہیں، ان پر گولی چلائی گئی، ان کی جدوجہد حقیقی تھی اور ان کا بین الاقوامی اثر بھی حقیقت ہے۔

دوسری بات یہ کہ عوامی رائے پیچیدہ ہے، اس کی ایک وجہ پاکستان میں شناخت سے متعلق عدم تحفظ ہے کہ قومی ہیرو کو کون مقرر کرتا ہے؟ اور ملالہ روایتی کرداروں اور توقعات کو چیلنج کرتی ہے۔

اب یہ صورتحال چند اہم سوالات کو جنم دیتی ہے۔ جیسا کہ کیا کوئی ہیرو ہو کر بھی شک کی زد میں آ سکتا ہے؟ کیا سیاسی تعصب ہمیں یہ فیصلہ کرنے سے روکتا ہے کہ ہیرو کون ہے؟ کیا ملالہ کو ‘غیر ملکی ایجنٹ’ کہنا ان سچائیوں سے بچنے کا ایک طریقہ ہے جن کا ہمیں سامنا کرنا چاہیے؟

ان سب کے علاوہ یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ آج ملالہ کس چیز کی نمائندگی کرتی ہے؟

‘ڈی ڈبلیو’، ‘نیویارک’ اور ‘الجزیرا’ کی رپورٹس کے مطابق ملالہ کی کہانی وقت کے ساتھ تبدیل ہوئی ہے۔ ذاتی بقا سے آگے وہ ایک عالمی تحریک کی نمائندہ ہیں۔ وہ تنازعات سے متاثرہ علاقوں اور ترقی پذیر ممالک میں لڑکیوں کی تعلیم کا ذریعہ ہیں۔ وہ پناہ گزینوں کے حقوق اور پالیسی کی برابری کی اہمیت پر آواز بلند کرتی ہیں۔ وہ اقوام متحدہ اور عالمی رہنماؤں تک اپنی بات پہنچاتی ہیں۔ ان کا کام ظاہر کرتا ہے کہ علامتی حیثیت سرحدوں سے بالاتر ہے۔ ان کا پیغام ممبئی، لندن، نیروبی میں بھی اتنا ہی اثر رکھتا ہے جتنا لاہور یا اسلام آباد میں رکھتا ہے۔

ملالہ نے شاذ و نادر ہی ‘غیر ملکی ایجنٹ’ کے الزامات کا براہِ راست جواب دیا ہے۔ اس کے بجائے وہ اپنا کام کرتی رہتی ہیں، کتابیں لکھتی ہیں، فنڈ قائم کرتی ہیں اور لڑکیوں کی رہنمائی کرتی ہیں۔

Mala yousafzai.jpg1

2019 میں انہوں نے پالیسی اور تعلیمی امور پر گفتگو کرتے ہوئے نظم و ضبط اور مقامی اقدامات کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کا انتخاب الزامات کے بجائے عملاً جواب دینا ہے۔

تو اب فیصلہ یہ کرنا باقی ہے کہ ملالہ ہیرو ہیں یا پھر ولن؟ ملالہ عالمی اہمیت کی حامل ایک ہیرو ہے جس نے خطرات میں سچ بولا اور اب بھی تعلیم کے فروغ کے لیے سرگرم ہے۔

‘غیر ملکی ایجنٹ’ یا ‘غدار’ جیسے القابات حقیقت نہیں بلکہ عدم تحفظ کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ بحث ایک ایسی قوم کو جو اپنے ہیروز اور ان کی کہانیوں کو اپنانے میں تذبذب کا شکار ہو اس کے لیے ایک آئینہ ہے۔ ملالہ ایک سیدھے سچ کی نمائندگی کرتی ہیں کہ تعلیم معاشروں کو بدلتی ہے۔ وہ دہشتگردی سے بچیں، انہوں نے پیچھے ہٹنے سے انکار کیا۔ انہوں نے خوف کے بجائے امید کو چُنا۔

جب ملالہ ایک اور سال بڑی ہو رہی ہے تو اپنے آپ سے یہ سوال کریں کہ کیا آپ سازش کو بہادری پر حاوی ہونے دیں گے؟ کیا آپ ہیروز کا جشن منائیں گے جب دوسروں نے انکار کر دیا ہو؟ کیا پاکستان ان لوگوں کو قبول کر کے ترقی کر سکتا ہے جو ہمیں سوات کے کونے سے لے کر عالمی اسٹیج تک چیلنج کرتے ہیں؟

مزید پڑھیں:رجیم چینج آپریشن امریکی پالیسی کا حصہ، کیا عمران خان حکومت کی تبدیلی کے پیچھے بھی امریکا کا ہاتھ تھا؟

ملالہ کی کہانی ایک لڑکی سے کہیں بڑی ہے۔ یہ انصاف، تعلیم، بااختیاری اور اُمید کی بغاوت کی کہانی ہے۔ ملالہ صرف ایک فرد نہیں وہ ایک نظریہ ہیں جو قبول کیے جانے کا منتظر ہے۔ ہم اسے ہیرو بھی کہہ سکتے ہیں اور ولن بھی ۔ لیکن صرف پاکستانی عوام کا آج کا حوصلہ طے کرے گا کہ کون سا لیبل اس پر واقعی صادق آتا ہے۔

Author

احسان خان

احسان خان

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس