واشنگٹن میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں اور مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی صورتحال پر سخت مؤقف اختیار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کسی بھی صورت ایران کو عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دے گا۔

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے اور اگر ایران نے اسے بند کرنے یا وہاں کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے، امریکا اور اس کے اتحادی اس اہم بحری راستے کو ہر صورت کھلا رکھنے کے لیے اقدامات کریں گے۔

ان  کے مطابق ایران نے ماضی میں خطے میں اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے بڑی تعداد میں میزائل تیار کیے تھے، تاہم حالیہ فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں ان میں سے متعدد عسکری صلاحیتوں کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کارروائیوں کے بعد ایران کو اپنی عسکری طاقت بحال کرنے میں کافی وقت لگے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران نے عالمی تیل کی سپلائی میں رکاوٹ ڈالنے یا تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تو امریکا اور اس کے اتحادی مزید سخت اقدامات کرنے پر مجبور ہوں گے، کسی بھی آئل ٹینکر یا تجارتی جہاز پر حملے کا جواب فوری اور بھرپور انداز میں دیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا خطے میں موجود اپنے اتحادیوں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور ضرورت پڑنے پر تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکرز کی حفاظت کے لیے اضافی اقدامات کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کا تحفظ امریکا کی ترجیحات میں شامل ہے۔

انہون نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ خطے میں جاری فوجی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ امریکی حکومت عالمی مارکیٹ کو مستحکم رکھنے اور قیمتوں میں توازن برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

اپنی گفتگو کے دوران امریکی صدر نے ایرانی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایران میں گزشتہ کئی دہائیوں سے عوام کو مشکلات کا سامنا ہے اور خطے میں بدامنی کے متعدد واقعات میں بھی ایران کے کردار پر سوالات اٹھتے رہے ہیں، امید ظاہر کی کہ مستقبل میں ایران میں ایسی قیادت سامنے آئے گی جو خطے میں امن اور استحکام کے لیے کردار ادا کرے۔

مزید پڑھیں: مجتبیٰ خامنہ ای کے انتخاب پر مایوسی ہوئی: صدر ٹرمپ

تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز کے حوالے سے امریکی صدر کا یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی توانائی کی منڈی، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔