اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ میں شہریوں پر بمباری اور کارروائیوں کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں مزید درجنوں افراد شہید ہو گئے ہیں۔
قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق جمعرات 28 اگست کی صبح سے غزہ شہر کے مشرقی اور جنوبی علاقوں میں بمباری کے نتیجے میں کم از کم 50 افراد شہید ہوئے جن میں 12 وہ افراد بھی شامل ہیں جو امداد کی تلاش میں تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج غزہ شہر پر قبضے کی تیاری کر رہی ہے، جو علاقے کا سب سے بڑا شہری مرکز ہے، حالانکہ عالمی سطح پر اسرائیل کی کارروائیوں کے خلاف آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔
ان حملوں کے باعث بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا ہے اور تقریباً 10 لاکھ بے گھر فلسطینیوں کی مزید بے دخلی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیل کی اس فوجی مہم پر شدید تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام جنگ کے ایک نئے اور خطرناک مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ غزہ شہر میں کارروائی کے پھیلاؤ سے تباہ کن نتائج سامنے آئیں گے، لاکھوں عام شہری دوبارہ بے گھر ہوں گے اور مزید خاندان خطرے میں پڑ جائیں گے۔
غزہ کے مکینوں نے بتایا ہے کہ خاندان اپنے گھروں کو چھوڑ کر ساحل کی طرف جا رہے ہیں کیونکہ شجاعیہ، زیتون اور صبرا کے محلوں میں شدید بمباری جاری ہے۔
غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی کے مطابق زیتون کے جنوبی حصے میں کوئی عمارت باقی نہیں بچی اور اسرائیلی فورسز نے زمینی کارروائی میں 1500 سے زائد گھر تباہ کر دیے ہیں۔ اسرائیلی حکام غزہ شہر کو حماس کا آخری گڑھ قرار دے رہے ہیں۔
فلسطینی خبر رساں ایجنسی وفا کے مطابق جمعرات کو شہید ہونے والوں میں ایک ماں اور اس کا بچہ بھی شامل ہے جو خان یونس میں بے گھر افراد کے کیمپ میں خیمے میں پناہ لیے ہوئے تھے۔
اسی دوران اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے تشویش ظاہر کی ہے کہ خوراک کی تلاش میں جانے والے فلسطینیوں کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق کئی افراد، جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے، رفح میں امدادی مراکز پر جانے کے بعد غائب کر دیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ بھوک سے ستائے شہریوں کو خوراک کے حق کے دوران اغوا کرنا چونکا دینے والی بات ہے اور یہ تشدد کے مترادف ہے، اس عمل کو فوراً بند ہونا چاہیے۔
امریکی و اسرائیلی حمایت یافتہ غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن (جی ایچ ایف) نے الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے مراکز میں جبری گمشدگی کے کوئی شواہد موجود نہیں۔
ادارے نے کہا کہ وہ جنگی علاقے میں کام کر رہے ہیں جہاں مراکز کے باہر سرگرم فریقین پر کئی سنگین الزامات لگ رہے ہیں، لیکن جی ایچ ایف کے اندر اس طرح کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔
غزہ کی وزارت صحت نے بتایا ہے کہ غذائی قلت اور بھوک کے باعث مزید 4 افراد، جن میں 2 بچے شامل ہیں، شہید ہو گئے ہیں۔ اس طرح جنگ کے آغاز سے اب تک بھوک کے باعث شہید ہونے والوں کی تعداد 317 ہو گئی ہے جن میں 121 بچے شامل ہیں۔
مقامی طبی حکام کے مطابق اسرائیلی فوج کے حملوں میں اب تک غزہ میں 62 ہزار 900 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر عورتیں اور بچے ہیں۔