Follw Us on:

مزدوروں کے پیسے کی سرمایہ کاری 643 ارب سے تجاوز، آمدن دوگنا ہو گئی

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک
Featured image (1) (9)
ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن نے اپنی مجموعی سرمایہ کاری کا حجم بڑھا کر 643.59 ارب روپے کر دیا ہے۔ (تصویر: سماء ٹی وی)

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانی اور ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ کو جمعرات کے روز آگاہ کیا گیا کہ ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن نے اپنی مجموعی سرمایہ کاری کا حجم بڑھا کر 643.59 ارب روپے کر دیا ہے۔

یہ بریفنگ قائم مقام چیئرمین ای او بی آئی ڈاکٹر جاوید شیخ نے دی جنہوں نے بتایا کہ ادارے کی سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی آمدن مالی سال 2025 کے دوران 80.16 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔

ڈاکٹر جاوید شیخ کے مطابق سرمایہ کاری پورٹ فولیو کا تقریباً 48 فیصد حصہ سرکاری سیکورٹیز میں لگایا گیا ہے، جبکہ 25  فیصد ایکویٹیز میں 25 فیصد رئیل اسٹیٹ میں اور دو فیصد کارپوریٹ فکسڈ ڈپازٹس میں لگایا گیا ہے۔

انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ گزشتہ پانچ سالوں میں ای او بی آئی کی سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی آمدن دوگنی سے زیادہ ہو چکی ہے جو پہلے 38.41 ارب روپے تھی اور اب 80.16 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔

Featured image (1) (10)
وزارت اوورسیز پاکستانی کے ایک سینئر افسر نے کمیٹی کو یقین دلایا کہ ادارے میں 200  افسران کی بھرتی کا عمل آخری مراحل میں ہے۔ (تصویر: ہم نیوز)

ادارے کی مالی پوزیشن مستحکم ہونے کے باوجود ڈاکٹر جاوید شیخ نے اعتراف کیا کہ اسٹاف کی شدید کمی ہے اور موجودہ افرادی قوت ادارے کی منظور شدہ تعداد کے 50  فیصد سے بھی کم ہے۔

وزارت اوورسیز پاکستانی کے ایک سینئر افسر نے کمیٹی کو یقین دلایا کہ ادارے میں 200  افسران کی بھرتی کا عمل آخری مراحل میں ہے۔

کمیٹی کے چیئرمین آغا رفیع اللہ سمیت دیگر ارکان نے ادارے کی محدود رسائی پر تشویش کا اظہار کیا ان کا کہنا تھا کہ محنت کشوں کے کئی شعبے جیسے ماہی گیر اور زرعی مزدور تاحال ای او بی آئی کے دائرہ کار سے باہر ہیں۔

ڈاکٹر جاوید شیخ نے کہا کہ افرادی قوت میں اضافے سے ادارہ ملک کی معیشت کے تمام شعبوں تک اپنی رسائی بڑھا سکے گا ان کا دعویٰ تھا کہ مالی سال 2025 کے دوران ادارے نے ننانوے فیصد زیر التوا دعوے نمٹا دیے ہیں۔

آغا رفیع اللہ نے اس دعوے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ کم از کم 600 دعوے اب بھی حل طلب ہیں جن کے باعث اتنے ہی خاندان اپنے واجبات سے محروم ہیں۔

ڈاکٹر جاوید شیخ نے مزید بتایا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد قانونی اور انتظامی مسائل بھی درپیش ہیں کیونکہ لیبر کا شعبہ صوبائی دائرہ اختیار میں آنے کے بعد ادارے کو کم از کم اجرت کی بنیاد پر شراکت کو پورے ملک میں یکساں طور پر نافذ کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

واضع رہے کہ کمیٹی نے تجویز دی کہ ادارے کی فعالیت کو بہتر بنانے کے لیے قانون سازی اور عملدرآمد کے اقدامات فوری طور پر کیے جائیں۔

Author

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

متعلقہ پوسٹس