سیرت نبی ﷺ کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ اسے ایک مکمل، جامع اور نمونہ زندگی کے طور پر پڑھا جائے۔ وہ زندگی جو پروردگارِ عالم کی طرف سے کامیابی کا معیار اور کامل نمونہ قرار دی گئی۔ نہ صرف اُس دور کے لوگ بلکہ آنے والی ہر نسل کے لیے ایک ایسا قد نمونۂ زندگی، ایک روشن رہنما وجود ہے۔
سیرت سکالر ڈاکٹر پیر طارق شریف زادہ نے پاکستان میٹرز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیرت، یعنی رسول اللہ ﷺ کی زندگی کے ظاہری اور باطنی پہلوؤں سے تعارف کرنا۔ لیکن یہ صرف معلومات تک محدود نہیں ہونا چاہیے،اگر ایسا ہوتا تو غیر مسلم شوقیہ لوگ بھی آپ ﷺ کی زندگی کو تفصیل سے پڑھتے ہیں یا ایسے لوگ جو آپ ﷺ کی زندگی کے حوالے سے شک و شبہات پیدا کرتے ہیں، جن کے ذہنوں میں تلخی اور بدگمانی ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میری رائے میں سیرتِ نبی ﷺ کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ اسے ایک ایسی کامل اور جامع زندگی کے طور پر پڑھا جائے جو پروردگارِ عالم کی جانب سے نمونۂ کامیابی کے طور پر پیش کی گئی ہے۔ یہ ایک معیاری زندگی ہے وہ پروردگارِ عالم کی رضا کا بنیادی فارمولا، ‘سرکارِ دو عالم ﷺ’ کی حیات طیبہ ہے۔ چاہے ہمارا زمانہ ہو، بعد آنے والا زمانہ ہو، یا آخری زمانہ ہو یہ زندگی اُس جدید معیار اور منزل کا حتمی معیاری نمونہ ہے جو انسانیت چاہ سکتی ہے۔
پیر طارق شریف زادہ کا کہنا ہے کہ جتنا کوئی شخص رسول اللہ ﷺ کی زندگی کو سمجھتا ہے، اللہ کی رضا کو سمجھنا، اللہ کی رضا حاصل کرنا اور جنت کی راہ اختیار کرنا اُس کے لیے آسان ہو جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص مجھ سے پوچھے کہ ‘دین سے مراد کیا ہے؟’ تو میرا جواب یہی ہوتا ہے کہ دین کا مطلب ہے ‘سرکارِ دو عالم ﷺ کے مزاج کو جاننا’۔ یعنی جب آپ ﷺ کے مزاج کو اچھے انداز میں جان جاتے ہیں، تب واقعی آپ دین کو جاننا شروع کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ کیا خوبصورت بات ہے کہ اللہ نے سرکارِ دو عالم ﷺکی زندگی کو صرف ظاہری طور پر 63 سال کی زندگی کی شکل میں ہی پسند نہیں کیا، بلکہ ہر ایک لمحہ اس میں اللہ کی رضا کی مہر لگائی گئی یہ کائنات کی تاریخ میں ایک اکلوتی شخصیت ہے جس کی زندگی کا ہر لمحہ اللہ کی جانب سے پسندیدہ ہونے کی سند رکھتا ہے اور اللہ نے فرمایا:
“مَنْ أَطَعَ الرَّسُولَ فَأَطَعَ اللَّهَ”
(جس نے رسول کی اطاعت کی تو اس نے اللہ کی اطاعت کی)۔
اگر کوئی شخص اللہ کی کامل اطاعت میں جانا چاہتا ہے، تو اسے رسول ﷺ کی اطاعت اختیار کرنی چاہیے۔ اگر کوئی اس بات کو سمجھ جائے اور اس کے دل میں یہ تسلیم ہو جائے کہ رسول ﷺ کی اطاعت در حقیقت پروردگارِ عالم کی اطاعت ہے، تو وہ اچھی طرح سوچ کر یہ کہہ سکتا ہے کہ میں اس زندگی (سرکارِ دو عالم ﷺ) سے جو کامیابی اور بھلائی ہے، اپنا حصہ کیسے حاصل کروں؟