اسرائیلی فوج نے جمعے کے روز غزہ شہر کو ’’خطرناک جنگی علاقہ‘‘ قرار دے دیا ہے، جسے فلسطینی علاقے کا سب سے بڑا شہر کہا جاتا ہے۔
تقریباً دو سال سے جاری تباہ کن جنگ کے بعد اسرائیل ایک بڑے فوجی آپریشن کی تیاری کر رہا ہے تاکہ غزہ سٹی پر قبضہ کیا جا سکے۔
اقوام متحدہ کے مطابق غزہ کے گورنریٹ میں، جس میں غزہ شہر اور اس کے گرد و نواح شامل ہیں، اس وقت تقریباً دس لاکھ لوگ موجود ہیں۔
زیادہ تر آبادی کئی بار بے گھر ہو چکی ہے جبکہ اقوام متحدہ غزہ میں قحط کا اعلان کر چکا ہے اور اس کی وجہ اسرائیل کی جانب سے امداد کی ’’منظم رکاوٹ‘‘ کو قرار دیا گیا ہے۔
اسرائیلی فوج کے عربی ترجمان اویخائے ادرعی نے کہا کہ فوج نے غزہ شہر پر ابتدائی حملے شروع کر دیے ہیں اور اب شہر کے مضافات میں بڑے پیمانے پر کارروائی جاری ہے۔

فوجی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زمیر نے بھی تصدیق کی کہ آنے والے ہفتوں میں غزہ سٹی پر حملوں میں مزید شدت لائی جائے گی۔
فوجی بیان کے مطابق غزہ سٹی میں اب روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے وہ وقتی وقفے ختم کر دیے گئے ہیں جن کے دوران معمولی مقدار میں خوراک پہنچائی جاتی تھی۔
تاہم ابھی تک عام آبادی کو فوری انخلا کا حکم نہیں دیا گیا، لیکن اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ شہر سے انخلا ’’ناگزیر‘‘ ہے۔
جمعے کو جنوبی غزہ شہر میں اسرائیلی حملے کے بعد فلسطینی ملبے میں کھانے پینے اور سامان کی تلاش کرتے دکھائی دیے۔ متعدد فلسطینیوں کا کہنا تھا کہ وہ بار بار نقل مکانی سے تھک چکے ہیں مگر جنگ اور موت کا خوف انہیں مسلسل پیچھے دھکیل رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے ریلیف ادارے (UNRWA) کے سربراہ فلپ لازرینی نے خبردار کیا کہ تقریباً دس لاکھ لوگ غزہ شہر اور شمالی علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں جن کے پاس نقل مکانی کے وسائل تک موجود نہیں۔
ادھر حماس نے خبردار کیا ہے کہ غزہ سٹی پر اسرائیل کی متوقع کارروائی کے نتیجے میں قیدیوں کی زندگیاں بھی خطرے میں ہوں گی۔

حماس کے عسکری ترجمان ابو عبیدہ نے کہا کہ ’’قیدی ہمارے جنگجوؤں کے ساتھ رہیں گے اور وہ بھی انہی خطرات اور حالات کا سامنا کریں گے۔‘‘
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے غزہ میں کارروائی کے دوران دو یرغمالیوں کی لاشیں برآمد کی ہیں، جن میں ایک کا تعلق 2023 میں حماس کے حملے میں مارے جانے والے اسرائیلی شہری ایلان وائس سے ہے۔
غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی نے بتایا کہ جمعے کو اسرائیلی حملوں میں کم از کم 55 فلسطینی جاں بحق ہوئے، تاہم زمینی حقائق تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش نے غزہ کی صورتحال کو ’’خوفناک سانحات کی نہ ختم ہونے والی فہرست‘‘ قرار دیتے ہوئے ممکنہ جنگی جرائم پر خبردار کیا ہے۔
اکتوبر 2023 میں حماس کے حملے میں اسرائیل کے مطابق 1,219 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں اکثریت عام شہریوں کی تھی۔
اس کے جواب میں اسرائیل کی کارروائی میں اب تک غزہ کی وزارت صحت کے مطابق کم از کم 63,025 فلسطینی مارے جا چکے ہیں، جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔ اقوام متحدہ ان اعداد و شمار کو قابلِ اعتبار سمجھتا ہے۔