اقوام متحدہ میں برطانیہ فرانس اور جرمنی نے ایران سے تین شرائط پوری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ بیان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے بند کمرہ اجلاس سے قبل جاری کیا گیا۔ اس سے ایک دن قبل ‘ای تھری’ نے ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی پابندیوں کی بحالی کے لیے 30 روزہ عمل کا آغاز کیا تھا۔
ای تھری کا کہنا ہے کہ اگر ایران اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو دوبارہ رسائی دے دے اپنے افزودہ یورینیم کے ذخائر پر تحفظات دور کرے اور امریکا سے بات چیت پر آمادگی ظاہر کرے تو پابندیاں عائد کرنے کا عمل چھ ماہ تک مؤخر کیا جا سکتا ہے۔
برطانیہ کی اقوام متحدہ میں سفیر باربرا ووڈورڈ نے تینوں ممالک کے مشترکہ بیان کو پڑھتے ہوئے کہا کہ ہماری شرائط منصفانہ اور حقیقت پسندانہ تھیں۔ تاہم آج تک ایران نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ وہ ان شرائط کو پورا کرنے میں سنجیدہ ہے۔
انہوں نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے مؤقف پر نظرثانی کرے ہماری پیشکش کی بنیاد پر معاہدے تک پہنچے اور اس معاملے کے دیرپا سفارتی حل کے لیے راستہ ہموار کرے۔ اس موقع پر جرمنی اور فرانس کے نمائندے بھی ان کے ساتھ موجود تھے۔
ایرانی سفیر امیر سعید ایراوانی نے اس پیشکش کوغیر حقیقت پسندانہ شرائط سے بھری ہوئی قرار دیا۔ وہ شرائط پیش کر رہے ہیں جو مذاکرات کے نتیجے میں سامنے آنی چاہئیں نہ کہ آغاز میں اور وہ جانتے ہیں کہ یہ مطالبات پورے نہیں کیے جا سکتے۔
ایراوانی کا کہنا تھا کہ ‘ای تھری’ کو اقوام متحدہ کی قرارداد 22 23 ایک کی مختصر اور غیر مشروط تکنیکی توسیع کی حمایت کرنی چاہیے۔

یہ قرارداد 2015 کے جوہری معاہدے کو قانونی حیثیت دیتی ہے جس کے تحت ایران پر عائد اقوام متحدہ اور مغربی پابندیاں اس کے جوہری پروگرام پر پابندیوں کے بدلے ختم کر دی گئی تھیں۔
دوسری جانب روس اور چین نے سلامتی کونسل میں ایک مسودہ قرارداد پیش کی ہے جس میں اس معاہدے میں چھ ماہ کی توسیع اور تمام فریقین سے فوری مذاکرات کی اپیل کی گئی ہے۔
تاہم ابھی اس قرارداد پر ووٹنگ کی درخواست نہیں دی گئی۔ روس اور چین نے ابتدائی مسودے سے وہ متنازع زبان ہٹا دی ہے جس میں ‘ای تھری’ کو ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کرنے سے روکا گیا تھا۔
ایراوانی نے اس مسودہ قرارداد کو سفارت کاری کے لیے مزید وقت دینے کا ایک عملی قدم قرار دیا ہے۔
مزید براں اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کار ایران واپس پہنچ چکے ہیں۔ ایران نے جون میں اپنے جوہری مراکز پر اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے بعد ان کے ساتھ تعاون معطل کر دیا تھا۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم چین کے ’چھ روزہ تاریخی دورے‘ پر روانہ، شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے
تاہم اب تک ایران اور عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے درمیان مکمل تعاون کی بحالی کا کوئی معاہدہ طے نہیں پایا ہے۔
واضع رہے کہ سلامتی کونسل میں ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کرنے یا سفارتی عمل جاری رکھنے کے امکانات اگلے چند ہفتوں میں واضح ہوں گے۔
ایران کے مؤقف کے مطابق مذاکرات کا آغاز غیر مشروط ہونا چاہیے جبکہ ای تھری اس پر زور دے رہے ہیں کہ ایران پہلے معائنہ کاروں کی رسائی بحال کرے اور اپنے جوہری مواد سے متعلق تحفظات کا ازالہ کرے۔