لاہور میں مسلسل موسلا دھار بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ ایم ڈی واسا غفران احمد اور ڈپٹی کمشنر لاہور سید موسیٰ رضا مختلف نشیبی علاقوں کا دورہ کر کے نکاسی آب کے انتظامات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
غفران احمد اور سید موسی رضا نے جیل روڈ اور قرطبہ چوک میں قائم مون سون ایمرجنسی کیمپ کا معائنہ کیا۔
انہوں نے نکاسی آب کے آپریشن کو تیز کرنے کی ہدایات بھی دیں۔ ایم ڈی واسا نے کہا کہ تمام مرکزی شاہراہوں کو کلیئر رکھا جائے تاکہ ٹریفک روانی برقرار رہے۔
ڈپٹی کمشنر نے تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے نشیبی علاقوں سے پانی جلد نکالنے کی تاکید کی ہے۔ وہ خود بھی فیلڈ میں نکاسی آب کے آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں۔ قذافی اسٹیڈیم اور لبرٹی چوک میں قائم ایمرجنسی ریلیف کیمپ کا بھی دورہ کیا ہے۔
غفران احمد نے بتایا کہ بجلی کی بندش والے علاقوں میں ڈسپوزل اسٹیشنز کو جنریٹرز پر چلایا جا رہا ہے اور تمام اسٹیشنز کو مکمل صلاحیت پر کام کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
اس کے علاوہ چیف سیکرٹری پنجاب نے کہا ہے کہ دریا کے اندر غیر قانونی تعمیرات کے نقصان کا کوئی معاوضہ نہیں دیا جائے گا اور آبی گزرگاہوں پر غیر قانونی تعمیرات کو ختم کیا جائے گا۔

مزید براں شدید بارش کے باعث جناح ہسپتال لاہور میں پانی داخل ہو گیا ہے جس سے او پی ڈی اور ہسپتال کی حدود میں مریضوں اور عملے کو مشکلات کا سامنا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ نکاسی آب کا سلسلہ تیز رکھا جائے گا اور شہر میں پانی کی نکاسی کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ شہریوں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔
آئندہ چند روز میں بارش کے حوالے سے موسمی پیش گوئیوں اور حکومتی اقدامات پر نظر رکھی جائے گی۔
واضع رہے کہ سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ پنجاب میں3 دریاؤں کے سیلابی پانی سے2 ہزار موضع جات، 15 لاکھ 16 ہزار 603 لوگ متاثر ہوئے ہیں، جاں بحق افراد کی تعداد 30 ہو گئی۔