صدی کا تباہ کن سیلاب کشمیر، گلگت بلتستان سمیت چاروں صوبوں کو روندتا ہوا بحیرہ عرب کی جانب بڑھ رہا ہے، لاکھوں افراد کو بے گھر کرنے والا بے رحم پانی بڑے بڑے جاگیرداروں، رئیسوں، وقت کے فرعونوں کی طاقت کا مذاق اڑاتا چھوٹی چھوٹی ”جھگیوں“ والوں کو بھی ساتھ لے گیا۔
مسکراتے بچوں کی مسکراہٹیں چھین گیا، پاک دامن عورتوں کی چادر چاردیواری تار تار کر گیا، عزت اور خودداری سے جینے والے بزرگ ایک ایک نوالے کے لئے حسرت کے ساتھ آسمان کی طرف تک رہے ہیں، اخبارات دیکھتے ہیں تو حسرت و یاس کی تصویریں ملتی ہیں، ٹی وی چینلز آن کرتے ہیں تو مصیبت زدہ لوگ گلے پھاڑ پھاڑ کر ’بچاؤ، بچاؤ کی دہائیاں دے رہے ہوتے ہیں‘۔
یہ سیلاب 2010ء، 2014 کی طرح آنے والی بے رحم موجوں کی طرح ایک آفت ہے، ایک عذاب ہے، اللہ تعالیٰ کے احکامات سے روگردانی کی سزا ہے، ہماری سستیوں، نااہلی اور گناہوں کا ردعمل ہے۔
اللہ کا غضب ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں محفوظ رکھے ان آفتوں سے، ہم کمزور انسان ہیں، کمزور ملک کے باشندے ہیں، ہم میں برداشت کرنے کی قوت نہیں۔
یہ ہمارے اپنے کیے کی سزا ہے، لاہور کے سینئر صحافی فاروق بھٹی صاحب سے ملاقت ہوئی، وجہ پوچھی تو وہ فرماتے ہیں کہ
راوی، ستلج اور چناب
جہلم اور سندھو بادشاہ
ناراض ہو گئے ہیں؟
پہاڑ، پرندے اور آسمان
شجر و حجر بھی ناراض؟
کرہ ارض کے تمام غیرناطق
حیوانِ ناطق سے ناراض؟
اے اشرف المخلوقات
اشرف بن ۔۔۔ مخلوق بن
حد میں رہ ۔۔۔ محدود بن
سارا قصہ یہی ہے کہ مخلوق خالق بننے کی کوشش میں قدرت کی جانب سے بنے آبی راستوں کو روک کررہائشی کالونیاں بنارہی ہے، درخت کاٹ کر پلاٹ بنائے جارہے ہیں، قدرت پھر اپنا انتقام لیتی ہے اور لے رہی ہے۔ بھلا قدرت سے ہی کوئی لڑسکا؟
ہم جو سیلاب سے محفوظ رہے ہیں متاثرین کی بے بسی کا مذاق نہ اڑائیں، کیوں کہ آج یہ وقت ان پر ہے تو کل ہمارے اپنوں پر آسکتا ہے۔ جعلی کیمپوں اور فوٹو سیشن سے دنیا کو دھوکہ دے سکتے ہیں، مجبور لوگوں کو نہیں اور نہ ہی پوری کائنات کے خالق اللہ تعالیٰ کو جو لمحوں میں دنیا کو بنانے اور ختم کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔
اللہ ان لوگوں کو بھی دیکھ رہا ہے جو صحیح معنوں میں خدمت کا حق ادا کر رہے ہیں اور ان کو بھی دیکھ رہا ہے جو سیاست اور دکھاوا کر رہے ہیں۔
پاک فوج اور ریسکیو ادارے قابل تعریف ہیں جو ہمہ وقت خدمت میں مصروف ہیں۔ جماعت اسلامی کی الخدمت فاؤنڈیشن کا کام ناقابل فراموش ہے، وزیراعظم پاکستان شہبازشریف ہوں یا وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز دونوں کی نیتوں پر شک نہیں کیا جاسکتا، دونوں قوم کا درد محسوس کرتے ہیں، عوام کے لیے میدان میں موجود ہیں۔
جن قوموں کے ایسے حکمران ہوتے ہیں وہ ہر طوفان کا مقابلہ کر سکتی ہے، اور جس کے جذبے الخدمت فاؤنڈیشن کے کارکنان جیسے ہوتے ہیں وہ ہر دکھ کو ہنسی خوشی جھیل سکتے ہیں، جن کی ہمت مولانا عبدالستار ایدھی جیسی ہوتی ہے وہ قوم کبھی نہیں مر سکتی۔
اسی طرح کئی تنظیمیں اپنے محدود وسائل کے باوجود انسانوں میں زندگی بانٹ رہی ہیں، ایسے حالات میں عمران خان کی تحریک انصاف کو سیلاب زدگان کی خدمت کر کے دل فتح کرنے چاہئیں تھے۔ مگر ان کو ٹرولنگ سے فرصت نہیں۔
یہ وقت بیداری کا ہے، بھائی چارے کا ہے، اتحاد اور محبت کا ہے، دکھ اور درد میں گھری انسانیت کو خوشیاں لوٹانے کا ہے، آج فیصلہ کرلیں کہ پانی کے راستے میں کوئی گھر نہیں بنے گا، کوئی کاروبار نہیں ہوگا۔ ایک درخت کو کاٹنے والے کو قاتل کے برابر سزا ملے گی تو کیسے کوئی قدرت سے کھیلے گا۔
ابھی توسیلاب کا آغاز ہے مگر انجام اس سے بھی بھیانک ہے، تقریباً دو کروڑ افراد کے بے گھر ہونے کا خطرہ ہے، نئے گھر نئی بستیاں بنانے کے لیے خطیر رقم کی ضرورت ہوگی۔
ہم کیا کرسکتے ہیں، ہم متاثرین کی مدد کرسکتے ہیں، ان کا غم بانٹ سکتے ہیں، بچے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، ایسے واقعات ان کے ذہنوں پر نقش جاتے ہیں۔ بچوں کو نہ بھولنا۔
عورتیں چار دیواری مانگ رہی ہیں، بوڑھے عزت کی روٹی کو ترس رہے ہیں، بچے اپنی مسکراہٹیں مانگ رہے ہیں۔
اے ہم وطنو! سیاست کو چھوڑو، یکطرفہ صحافت کو دفع کرو، تاجرو! نیکی کی تجارت کرو۔ اپنے بچوں کی خوشیوں کو دیکھتے ہوئے ان بچوں کی خوشیوں کو یاد رکھو ۔جو پکار پکار کر کہہ رہے ہیں میری ہنسی مجھے لوٹا دو، میری ہنسی مجھے لوٹا دو۔
نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر