اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاتس نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈ کے ترجمان ابو عبیدہ غزہ میں اسرائیلی حملے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔
سماجی رابطےکے پلیٹ فارم ایکس پر اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹس نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ میں ہفتے کے روز ہونے والے اسرائیلی حملے میں فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ شہید ہوگئے۔
انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی اسرائیلی فوج اور خفیہ ایجنسی کی مشترکہ منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ ابو عبیدہ کو دیگر شدت پسند رہنماؤں کی طرح “شہید” کیا گیا ہے اور غزہ پر جاری آپریشن میں مزید حماس کمانڈروں کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی نشریاتی ادارے چینل 12 نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے ابو عبیدہ کو نشانہ بنایا مگر ہلاکت کے بارے میں ابہام برقرار ہے۔
اس سے قبل اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے حکومتی اجلاس میں کہا کہ ہم نے اس مجرمانہ اور قاتل تنظیم کے ترجمان ابو عبیدہ کو نشانہ بنایا ہے۔ امید ہے وہ اب ہمارے درمیان نہیں رہے۔
דובר טרור החמאס אבו עוביידה חוסל בעזה, ונשלח לפגוש את כל מסוכלי ציר הרשע מאיראן, עזה, לבנון ותימן בתחתית הגיהינום.
— ישראל כ”ץ Israel Katz (@Israel_katz) August 31, 2025
ברכות לצה"ל ולשב"כ על הביצוע המושלם.
בקרוב, עם התגברות המערכה על עזה, יפגוש שם עוד רבים משותפיו לפשע – מרצחי ואנסי החמאס. pic.twitter.com/e6cb0CRLYy
واضح رہے کہ قسام بریگیڈ کے ترجمان ابو عبیدہ کئی سالوں سے ویڈیو پیغامات میں فوجی وردی اور سرخ رومال سے منہ ڈھانپ کر نظر آتے رہے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے حالیہ دنوں میں غزہ سٹی پر بڑے پیمانے پر حملے کیے ہیں جو “آپریشن جدعون 2” کا حصہ ہیں۔ اس کارروائی کی منظوری وزیرِ دفاع اسرائیل کاتس نے 21 اگست کو دی تھی۔
میڈیکل ذرائع کے مطابق غزہ سٹی کے رہائشی علاقے رِمال پر ہفتے کی صبح اسرائیلی حملے میں سات فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: اسرائیلی فضائی حملے میں یمن میں ’حوثی باغیوں کی حکومت کے وزیراعظم‘ احمد الرحاوی ہلاک ہوگئے
اقوام متحدہ کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی کارروائیوں میں 63 ہزار 400 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں، جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔
دوسری جانب نومبر میں عالمی فوجداری عدالت نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور سابق وزیرِ دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف جنگی جرائم کے وارنٹ بھی جاری کیے تھے، جب کہ عالمی عدالتِ انصاف میں اسرائیل پر نسل کشی کا مقدمہ بھی زیرِ سماعت ہے۔