پاکستان نے آرمینیا کو خودمختار ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کردیا ہے اور دونوں ممالک کے درمیا سفارتی تعلقات قائم ہوگئے ہیں۔
پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور آرمینیا کے وزیر خارجہ نے ایک مشترکہ اعلامیے میں اس فیصلے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں اور مقاصد کے عزم کو دہراتے ہوئے معیشت، تعلیم، ثقافت اور سیاحت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
اعلامیے کے مطابق پاکستان اور آرمینیا نے عوامی سطح پر امن، ترقی اور خوشحالی کے مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے دوطرفہ اور کثیرالجہتی تعاون کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔

خیال رہے کہ پاکستان نے اس سے قبل آرمینیا کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کیا تھا۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ رہی کہ پاکستان نگورنو کاراباخ تنازعے میں ہمیشہ آذربائیجان کی حمایت کرتا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: قافلۂ شہداء میں ایک اور عظیم اضافہ، حماس کے فوجی کمانڈر محمد السنوار شہید ہوگئے
آرمینیا مغربی ایشیا کا ایک ملک ہے، جس کی آبادی 30 لاکھ سے زائد ہے۔ یہاں کی سرکاری زبان آرمینیائی ہے، جب کہ روسی اور انگریزی بھی بڑے پیمانے پر سمجھی جاتی ہیں۔
ملک کی 97 فیصد آبادی آرمینیائی مسیحی ہے، تاہم ماضی میں یہاں آذربائیجانی اور کرد مسلمان بھی بڑی تعداد میں آباد تھے، جو نگورنو کاراباخ تنازعے کے بعد ہجرت کر گئے۔