خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، اتوار کے روز ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’میں نے ایران کی نام نہاد قیادت کی جانب سے بھیجی گئی تجاویز کا جائزہ لیا ہے۔ یہ بالکل ناقابل قبول ہیں اور مجھے ہرگز پسند نہیں آئیں۔‘

ایران نے اتوار کو پاکستانی ثالثوں کے ذریعے امریکہ کی نئی تجویز پر اپنا جواب ارسال کیا تھا۔ اس تجویز کا مقصد ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد شروع ہونے والی کشیدگی اور جنگ کا خاتمہ تھا۔

تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی ردعمل کو سوشل میڈیا پر فوری طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے ’ناقابل قبول‘ قرار دے دیا۔

یہ پیش رفت خلیجی خطے میں جاری کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے لیے ایک اور دھچکا سمجھی جا رہی ہے، جہاں صورتحال کے باعث جہاز رانی متاثر ہوئی جبکہ توانائی کی قیمتوں میں بھی شدید اضافہ دیکھنے میں آیا۔

ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق تہران نے امریکی تجویز کو ’ہتھیار ڈالنے‘ کے مترادف قرار دیتے ہوئے رد کر دیا۔ ایران نے مطالبہ کیا کہ امریکہ جنگی ہرجانہ ادا کرے، آبنائے ہرمز پر ایران کی مکمل خودمختاری تسلیم کرے، تمام پابندیاں ختم کرے اور منجمد ایرانی اثاثے واپس کیے جائیں۔

امریکی تجویز میں جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی دوبارہ بحالی اور ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے جیسے نکات شامل تھے۔

صدر ٹرمپ نے ایرانی جواب مسترد کرتے ہوئے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ اس سے قبل ایک اور پوسٹ میں انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ تہران تقریباً پچاس برس سے امریکا کے ساتھ ’کھیل کھیل رہا ہے‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’اب وہ ہنس نہیں سکیں گے۔‘

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے اے بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ سفارت کاری کو ’ہر ممکن موقع‘ دے رہے ہیں تاکہ دوبارہ کشیدگی بڑھنے سے پہلے امن قائم کیا جا سکے۔

دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے اتوار کو کہا تھا کہ پاکستان کو ایران کی جانب سے امریکی تجویز پر جواب موصول ہو چکا ہے۔

اسلام آباد میں ’معرکہ حق‘ کی پہلی سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ خطے اور دنیا میں پائیدار امن کے لیے پاکستان کی مخلصانہ سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ فیلڈ مارشل نے انہیں آگاہ کیا ہے کہ ایران کا جواب موصول ہو گیا ہے، تاہم وہ اس کی تفصیلات فی الحال بیان نہیں کر سکتے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ایران میں امن کے قیام کے لیے بھی پاکستان پوری سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

شہباز شریف کے مطابق پاکستان نے نہ صرف دونوں فریقین کو عارضی جنگ بندی پر آمادہ کیا بلکہ 1979 کے بعد پہلی مرتبہ انہیں مذاکرات کی میز پر لانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

ادھر ایرانی خبر رساں ادارے ارنا نے بھی اتوار کو رپورٹ کیا تھا کہ ایران نے باضابطہ طور پر پاکستانی ثالثوں کے ذریعے امریکی تجویز پر اپنا ردعمل دے دیا ہے۔