انیس سو پچھتر میں سعودی عرب کے بادشاہ شاہ فیصل نے خواتین کی تعلیم کے لئے اداروں کے قیام کی اجازت دی اور ٹیلی ویژن پر عائد پابندی ختم کرتے ہوئے کئی معاشی اصلاحات متعارف کروائیں۔ نتیجتاً ایک دعوت میں اپنے بھتیجے سے بغل گیر ہو رہے تھے کہ بھتیجے کے ہاتھوں قتل ہو گئے۔ قتل کی حقیقی محرکات کیا تھے اس حوالے سے سعودی تاریخ آج تک خاموش ہے۔
محمد بن سلمان کے کراؤن پرنس بننے کے بعد آج سعودی عرب ایک انقلاب سے گزر رہا ہے۔ وہ ملک جہاں اونٹوں کی ریس کے علاوہ کوئی دوسرا کھیل نظر نہیں آتا تھا، ورلڈ ریسلنگ انٹرٹینمنٹ کی جانب سے ریسلنگ کے سب سے بڑے مقابلے ہوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ علاوہ ازیں 2034 کا فیفا فٹبال ورلڈ کپ بھی سعودی عرب میں کھیلا جائے گا۔ ایک روایتی اسلامی ملک جہاں خواتین نقاب یا حجاب کے بنا گھر سے نکل نہیں سکتیں تھی وہاں خواتیں کے لئے ڈرائیونگ سکول قائم ہو چکے ہیں جہاں سے ہر ماہ سینکڑوں کی تعداد میں خواتین ڈرائیونگ کے لائسنس حاصل کر رہی ہیں۔ خواتین کے نقاب پر پابندی اٹھا دی گئی ہے اور وہ اپنی مرضی سے کوئی بھی لباس پہن سکتی ہیں۔ آج سعودی عرب میں خواتین بائیک رائیڈنگ کرتی ہوئی بھی نظر آتی ہیں۔
گزشتہ چند سالوں میں تفریح کے نام پر 400 سے زائد سینمار گھر بھی کھولے جا چکے ہیں۔ میوزک، آرٹ اور کلچرل سر گرمیوں پر عائد پابندیاں بھی اٹھائی جا چکی ہیں، آئے روز ڈانس کلبز کے افتتاح ہو رہے ہیں۔ مکہ اور مدینہ کے شہروں کو چھوڑ کر دیگر شہروں میں اذان کے بعد قرآن کی تلاوت پر پابندی عائد کی جا چکی ہے تا کہ سیاحوں کو شور کی آلودگی سے محفوظ رکھتے ہوئے پر سکون ماحول فراہم کیا جا سکے۔ مذہبی پولیس کی سرگرمیوں اور اختیارات کو محدود کر دیا گیا ہے۔ انہیں کسی بھی پبلک پلیس پر لوگوں کی معاشرتی اور اخلاقی سرگرمیوں پر نظر رکھنے سے روک دیا گیا ہے۔
وہابی ازم جو 2 صدیوں سے آل سعود کے خاندان کی بادشاہت کو مذہبی جواز فراہم کرتا رہا ہے۔ جس کے سر پر سعودی عرب کے عوام کی اخلاقی، معاشرتی اور مذہبی تربیت کے حوالے سے پالیسیز کی تشکیل کی ذمہ داری تھی وہ محمد بن سلمان آج وہابی ازم کو سعودی ترقی کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ وہ سعودی عرب کو وہابی فکر سے آزاد کرنا چاہتے ہیں۔ الشیخ فیمیلی کا اثرورسوخ دن بدن کم ہوتا جا رہا ہے۔ مختلف شیوخ کو محمد بن سلمان کی پالیسیز پر تنقید کرنے کی پاداش میں جیلوں میں بند کر دیا گیا ہے۔
گزستہ چند سالوں میں دنیا بھر سے انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کی نامور سیلیبرٹیز کیلئے سعودی عرب کے مختلف شہروں میں پرفارمنسز کا انععقاد کیا گیا ہے۔ تعلیمی اداروں سے مذہبی تعلیمات کی جگہ تنقیدی سوچ کا حامل نصاب متعارف کروایا جا رہا ہے تا کہ طالبعلم ان مذہبی احکامات پر سوال اٹھا سکیں جو موجودہ دنیا کے ماحول سے مطابقت نہیں رکھتے اور سعودی عرب کی ترقی کے راستے میں رکاوٹ سمجھتے جاتے ہیں۔ لہٰذا سعودی عرب کو بدلتی دنیا میں جدید تقاضوں سے ہمکنار کرنے کے لئے مذہبی شدت پسندی میں کمی لانے کے نام پر آرٹ، فنون لطیفہ، کلچرل سرگرمیوں کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
یہ سب کچھ ویژن 2030 کے نام پر کیا جا رہا ہے۔ ویژن 2030 کراؤن پرنس محمد بن سلمان کی جانب سے 2016 میں لانچ کیا گیا تھا، اس کا مقصد سعودی عرب کی معیشت اور معاشرت میں بڑے پیمانے پر اصلاحات متعارف کروانا تھا۔ سعودی عرب کی معشیت کے سالانا جی ڈی پی کا 80 فیصد حصہ تیل کی برآمدات سے حاصل ہوتا ہے۔ 2011 میں محمد بن سلمان جب سعودی سیاست کے افق پر طلوع ہوئے تومختلف وجوہات کی بنا پر دنیا بھرمیں تیل کی قیمتیں 80 ڈالر فی بیرل سے کم ہو کر 35 ڈالر فی بیرل پر آگئیں تھیں جس وجہ سے سعودی معشیت کو بڑا دھچکا لگا تھا۔ دوسری طرف مغربی ممالک کی جانب سے بھی تیل کی طلب میں کمی واقع ہو گئی اور دن بدن تیل کے ذخائر میں بھی کمی ہوتی جا رہی ہے۔
ان اصلاحات کی ایک اور بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ سعودی عرب کی 36 ملین آبادی کا 70 فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ جو یو اے ای سے آپریٹ ہونے والے این بی سی مووی چینل کو دیکھ کر جوان ہوا ہے اور مغربی اقدار کو پسند کرتا ہے۔ نوجوانوں کی اتنی بڑی آبادی کو انگیج کرنے کے لئے اور بادشاہت کو اندرونی خطرات سے محفوظ رکھنے کے لئے ایسی اصلاحات متعارف کروانا وقت کا تقاضا بھی ہے اور ضرورت بھی۔
یہاں ایک بات ذہن میں رکھنا بہت ضروری ہے کہ محمد بن سلمان یہ سب کچھ مغربی طاقتوں کی ایما پر نہیں کر رہے بلکہ محمد سلمان دانستً میں یہ سمجھتے ہیں کہ مغرب میں ترقی کا آغاز تب ہوا جب مغرب نے مذہب اور سیاست کو علیحدہ علیحدہ کر دیا۔ لہٰذا سعودی معشیت کا تیل پر انحصار کم کرنے اور سعودی معاشرے کو جدید دنیا سے ہمکنار کرنے کے لئے ویژن 2030 کو متعارف کروایا گیا تھا۔
اسی ویژن کے تحت 500 ملین یوایس ڈالر کی لاگت سے سعودی عرب کے شمالی مغربی علاقے پر نیوم نامی شہر تعمیر کیا جائے گا جو ساڑھے 10 ہزار مربع میل رقبے پر پھیلا ہوا ہو گا اور بحراحمر کی ساحلی پٹی سے منسلک ہو گا۔ اس کی سرحد مصر اور اردن تک پھیلی ہوئی ہو گی۔ نیوم شہر میں اور بھی فلک بوس پراجیکٹس ‘دی لائن’ اور ‘دی مرر’ کے نام سے تعمیر کئے جا رہے ہیں جہاں سڑکیں ہوں گی نہ کاریں بلکہ برقی ریل گاڑیاں شہریوں کی ٹرانسپورٹ کی سہولتیں فراہم کریں گی، توانائی کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے ہائیڈروکاربن کی بجائے توانائی کے ماحول دوست فطری ذرائع کو استعمال میں لایا جائے گا۔ کنگ سلمان پارک کے نام سے دنیا کا سب سے بڑا پارک بھی تعمیر کیا جا رہا ہے جو سنٹرل پارک سے 5 گنا بڑا ہو گا۔
سعودی عرب کے دارلحکومت ریاض میں ایک مصنوئی اربن فورسٹ کی تعمیر بھی جاری ہے جو ریاض شہر کو مشرق وسطی کا معاشی مرکز بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ غیر ملکی سیاحوں کے لئے ویزے کے عمل کو بہت آسان کر دیا گیا ہے اور 2030 تک ایک ملین سیاحوں کے آنے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ان تمام پراجیکٹس کو عملی جامہ پہنانے کے لئے محمد بن سلمان کو توقع ہے کہ 2030 تک 500 ملٹئی نیشنل کمپنیاں ان پراجیکٹس میں انوسٹمنٹ کے لئے راضی ہو جائیں گی۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا محمد بن سلمان اپنے ویژن 2030 کے خواب کو تعبیر سے ہمکنار کر پائیں گے۔ کیا سعودی معاشرہ اتنی بڑی تبدیلی کے لئے تیار ہے؟ انویسٹرز کو سعودی عرب میں لانا کراؤن پرنس کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہو گا کیونکہ ویژن 2030 کی کامیابی کا سارے کا سارا انحصار غیرملکی انوسٹمنٹ پر ہے۔ دوسرا بڑا چیلنج غیرملکی انوسٹرز کے تحفظات کو دور کرنے کے لئے محمد بن سلمان کو سعودی عرب کے معاشرتی ڈھانچے میں بہت بڑی تبدیلی لانا ہوں گی۔ یہ وہ مرحلہ ہو گا جہاں کراؤن پرنس کو بہت پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہوں گے کیونکہ ان کے اقدامات کی وجہ سے سعودی معاشرے کے بعض مذہبی عناصر اپنی روائتوں کو لے کر عدم تحفظ کا شکار ہو رہے ہیں۔
تیسرا بڑا چیلنج ان پراجیکٹس کے راستے میں آنے والے وہ گاؤں اور قصبے ہیں جہاں لوگ اپنے گھروں کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں۔ اب یہ سوال ہم وقت پر چھوڑتے ہیں کہ کیا محمد بن سلمان ان چیلنجز سے نبٹ سکیں گے یا ویژن 2030 محض خواب ہی رہ جائے گا۔