سرکاری ذرائع کے مطابق صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس بلانے کی منظوری دی ہے۔ اجلاس کا مقصد بجٹ پیشی اور اس سے متعلق پارلیمانی کارروائی کو باقاعدہ آغاز دینا ہے۔

قومی اسمبلی کا اجلاس کل شام 5 بجے طلب کیا گیا ہے جبکہ سینیٹ کا اجلاس اسی روز سہ پہر 4 بجے ہوگا۔ ان اجلاسوں میں بجٹ سے قبل ابتدائی پارلیمانی امور اور آئندہ مالی سال کے ایجنڈے پر غور کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے تصدیق کی ہے کہ وفاقی بجٹ 12 جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا،  وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب مالی سال 2026-27 کا بجٹ ایوان میں پیش کریں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بجٹ کی تیاریوں کو حتمی شکل دے دی گئی ہے اور مختلف وزارتوں کی تجاویز اور مالی ضروریات کو حتمی دستاویز کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ بجٹ میں معاشی استحکام، ٹیکس اصلاحات، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی ریلیف کو مرکزی حیثیت دیے جانے کی توقع ہے۔

پارلیمانی حلقوں کے مطابق بجٹ اجلاس نہ صرف حکومت کی معاشی حکمت عملی واضح کرے گا بلکہ اپوزیشن کو بھی مالی پالیسیوں پر اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔

مزید پڑھیں: رواں ہفتے ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور خشک رہنے کا امکان، محکمہ موسمیات

واضح رہے کہ موجودہ معاشی صورتحال کے پیش نظر اس سال کا بجٹ انتہائی اہمیت کا حامل ہوگا، جس میں مہنگائی پر قابو پانے، ترقیاتی منصوبوں کی رفتار بڑھانے اور معاشی استحکام کے لیے اہم فیصلے متوقع ہیں۔

ذرائع کے مطابق حکومت کی کوشش ہے کہ بجٹ پیشی کے بعد پارلیمانی بحث کو منظم انداز میں آگے بڑھایا جائے تاکہ مالی سال 2026-27 کے لیے ایک متوازن اور قابلِ عمل اقتصادی منصوبہ سامنے آ سکے۔