اپریل 4, 2025 4:20 شام

English / Urdu

Follw Us on:

ایلون مسک نے ‘یو ایس ایڈ کو مجرم ادارہ’ قرار دے دیا

سوشل ڈیسک
سوشل ڈیسک
یو ایس ایڈ کے سینیئر حکام نے ڈاج کو ایجنسی کے سسٹم تک رسائی سے روکا تھا (فائل فوٹو)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کی غرض سے قائم ‘ڈوج’ کے سربراہ ایلن مسک نے امریکی ادارے ‘یو ایس ایڈ کو مجرم ادارہ’ قرار دے دیا۔

ایلن مسک نے امریکی حکومت کے ایجنڈے کے نفاذ کے لیے دنیا بھر میں گرانٹس دینے اور مختلف ایکسچینج پروگرامات کے منتظم ادارے کو ایک ایکس پوسٹ میں ‘مجرم ادارہ’ قرار دیا۔

دنیا کے امیر ترین آدمی نے اسی پر اکتفا نہیں بلکہ ‘اسے مر جانا چاہیے’ کہہ کر اپنے عزائم کا اظہار بھی کیا۔

ایلن مسک کی جانب سے یہ ردعمل اس اطلاع پر دیا گیا کہ ‘یو ایس ایڈ کے سینیئر عہدیداروں نے ڈوج کے نمائندوں کو ایجنسی کے سسٹم تک رسائی سے روکنے کی کوشش کی تھی جس کے بعد انہیں جبری رخصت پر بھیج دیا گیا ہے۔’

‘ڈوج کے نمائندے ادارے کے سیکیورٹی اور پرسنل ڈیٹا تک رسائی چاہتے تھے تاہم یو ایس ایڈ کے عہدے دار جان وورجیز اور ان کے معاون نے ایسا کرنے سے منع کیا اور زبردستی کرنے پر پولیس بلانے کی تنبیہ کی تھی۔’

ایلن مسک کی پوسٹ پر ردعمل دینے والے متعدد امریکی صارفین نے بھی ان کی طرح ‘ یو ایس ایڈ کو ایک کرپٹ اور بددیانت ادارہ قرار دیا جو امریکیوں کی دولت سے دنیا میں حکومتیں بدلنے اور اپنی مرضی چلانے کا کام کرتا ہے۔’

امریکی اداروں کی خراب کارکردگی اور بیرونی دنیا میں مداخلت کا ذکر چھڑا تو گفتگو میں شامل افراد نے مزید امریکی اداروں کی چھان بین کا مطالبہ بھی کیا۔

us citizens demanding accountability for clinton foundation and others

ایسے ہی ایک صارف نے لکھا کہ ‘کلنٹن فاؤنڈیشن اور ملینڈا اینڈ گیٹس فاؤنڈیشن کی چھان بین بھی ہونی چاہیے۔’

یہ پہلا موقع نہیں کہ ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی (ڈوج) کے ذمہ دار کے طور پر ایلن مسک نے امریکا کے کسی سرکاری ادارے پر تنقید کی ہے۔ وہ اس سے قبل بھی متعدد اداروں کی مشکوک یا متنازع کارکردگی کی نشاندہی کرتے رہے ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے یو ایس ایڈ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے آپریشنز کو ‘امریکا فرسٹ’ پالیسی سے ہم آہنگ کرے۔ جس کے تحت بیرونی امداد کو روک کر اس کے استعمال کا جائزہ لیا جانا ہے۔

یو ایس ایڈ پر یہ تنقید بھی کی جاتی رہی ہے کہ وہ امریکی ٹیکس دہندگان کی رقم استعمال کر کے ایسی لابنگ کرتا رہا ہے جس سے مزید فنڈز حاصل کیے جا سکیں۔

ایک الگ پوسٹ میں ایلن مسک نے ‘یو ایس ایڈ کو بائیں بازو کے ان مارکسسٹس کا ٹھکانا قرار دیا تھا جو امریکا سے نفرت کرتے ہیں۔’

ڈوج کی جانب سے چند روز قبل اعلان کیا تھا کہ ‘یو ایس ایڈ نے غیرملکی امداد کے لیے امریکی ٹیکس دہندگان کے 40 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں۔ اس میں سے 45 ملین ڈالر برما میں اسکالر شپس، 520 ملین افریقہ اور 1.2 ارب ڈالر نامعلوم افراد/اداروں کو دیے گئے ہیں۔’

یہ پاکستان میٹرز کے سوشل میڈیا ڈیسک کی پروفائل ہے۔

سوشل ڈیسک

سوشل ڈیسک

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس