قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ وہ بعض حقائق بیان کرکے اپنے ضمیر کا بوجھ ہلکا کرنا چاہتے ہیں، مختلف قوانین، جن میں اینٹی منی لانڈرنگ سے متعلق قانون سازی بھی شامل تھی، ان پر مشاورت کے دوران مختلف حلقے موجود رہے۔

وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ بعض مواقع پر سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی رہائش گاہ پر قانون سازی کے مسودوں پر بات چیت ہوئی، جہاں  بعض اداروں کے افسران بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہاں قوانین کے مسودوں میں ترامیم اور نکات پر تبادلہ خیال کیا جاتا تھا۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ سیاسی مخالفین ماضی کے معاملات پر تنقید کرتے ہیں، تاہم ان کے مطابق سابق دور میں بھی بعض اہم قانون سازی کے معاملات اسی طرح مشاورت کے ذریعے آگے بڑھائے گئے تھے۔

انہوں نے قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جو طریقہ کار ماضی میں اختیار کیا جاتا رہا، اس پر اب دوسروں کو تنقید کرنے سے پہلے اپنے کردار کو بھی دیکھنا چاہیے۔

وزیر دفاع کے بیان کے دوران ایوان کا ماحول کشیدہ ہوگیا اور حکومتی و اپوزیشن ارکان کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ اجلاس کی کارروائی کے دوران بجٹ بحث سیاسی اختلافات کی نذر ہوتی دکھائی دی، جہاں دونوں جانب سے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے گئے۔

مزید پڑھیں: پاکستان 30 ایرانی شہریوں کی وطن واپسی میں سہولت فراہم کرے گا، اسحاق ڈار

واضح رہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت جاری ہے، جس میں بجٹ تجاویز، حکومتی پالیسیوں اور سیاسی معاملات پر بحث کی جا رہی ہے۔

خواجہ آصف کے بیان پر سیاسی حلقوں کی جانب سے ردعمل کا امکان ہے، جبکہ اپوزیشن پہلے بھی قانون سازی کے معاملات میں مختلف اداروں کے کردار کے حوالے سے حکومت پر تنقید کرتی رہی ہے۔