اپریل 4, 2025 7:14 صبح

English / Urdu

Follw Us on:

شمع ماڈل اسکول منچن آباد: معصوم بچی پر تشدد، والدین کی تین ماہ سے انصاف کی دہائیاں

عاصم ارشاد
عاصم ارشاد
ٹیچر کے تشدد سے ذہنی معزور ہونے والی امِ ایمن والدین کے ہمراہ اسپتال میں موجود ہیں۔ (فوٹو: پاکستان میٹرز)

وہ ایک معمولی سی صبح تھی، جب بہاولنگر کی تحصیل منچن آباد کے شمع پبلک اسکول میں محمد ریاض نے اپنی آٹھ سالہ بیٹی امِ ایمن کو بھیجا، دل میں یہ خیال تک نہ تھا کہ آج کا دن ان کی زندگی کا سب سے کربناک دن بننے جا رہا ہے۔ امِ ایمن کی مسکراہٹ، اس کی چھوٹی چھوٹی باتیں، وہ سب کچھ ایک لمحے ختم ہونے جا رہا ہے۔

تقریبا11 بجے اسکول پرنسپل کی کال آئی کہ آپ جلدی آ جائیں آپ کی بچی بے ہوش ہوگئی ہے۔ محمد ریا ض کا دل ڈوب گیا، جیسے آنکھوں کے سامنے اندھیرہ چھا گیا ہو۔ آٹھ سالہ ایک معصوم بچی، جس نے محض پانی مانگا تھا اور اس جرم میں اس نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی قیمت چکائی۔

محمد ریاض اپنی اہلیہ کے ہمراہ اسکول پہنچے تو جو منظر ان کے سامنے آیا، وہ انہوں نے کبھی نہیں سوچا تھا۔ امِ ایمن اپنی کلاس میں بینچ پر بے ہوش پڑی ملی۔

کلاس میں موجود باقی بچوں سے بات کرنے پر انھیں پتہ چلا کہ ٹیچر عائشہ منظور نے امِ ایمن کو ساتھی طلبا سے پانی مانگنے پر سر پہ ایک موٹی جلد والی کتاب دے ماری، یہی وہ لمحہ تھا جب ان کی بچی بے ہوش ہو گئی۔

امِ ایمن کے والد پاکستان میٹرز کو اپنا دکھ سنا رہے ہیں۔ (فوٹو: پاکستان میٹرز)

محمد ریاض کی آنکھوں میں خوف تھا، لیکن ساتھ ہی غصہ بھی تھا۔ ہم نے اپنی بچی کو تعلیم کے لیے بھیجا تھا، کیا اس کا حق یہی تھا؟

ان کی آواز میں بے بسی اور غم تھا، امِ ایمن کی والدہ کی آواز میں اتنا دکھ تھا کہ الفاظ بھی ہچکچا گئے۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے اپنی بچی کو اسکول بھیجا تھا، تاکہ وہ پڑھ لکھ کر کچھ بنے، لیکن اب یہ سب کیا ہو گیا؟

ان کی آواز میں ایک درد تھا جو کہ صرف ایک ماں محسوس کر سکتی ہے۔ اس کی ماں نے کہا کہ جب میری بیٹی اسکول جاتی تھی، اس کے چہرے پر ایک معصوم سی مسکراہٹ ہوتی تھی اور اس کی ہنسی ہمارے گھر کا سکون تھی۔

وہ کھیلتی تھی، دوڑتی تھی اور ہر لمحے میں خوشی تلاش کرتی تھی، مگر اب وہ منظر آنکھوں سے کوسوں دور ہو چکا ہے۔ وہ بچی جو ہنستی تھی، آج وہ درد میں ڈوبی ہوئی ہے۔

میں ہر دن اپنے دل میں اس کی ہنسی کی آواز سننا چاہتی ہوں، ہمیں انصاف چاہیے، تاکہ ام ایمن پھر سے ویسے ہی مسکرا سکے جیسے تین ماہ قبل وہ مسکراتی تھی۔

جب انہوں نے پرنسپل سے اس معاملے پر بات کی، تو ان کا ردعمل شاکنگ تھا۔ پرنسپل نے کہا ‘ہمیں تمہاری شکایت کا کوئی فرق نہیں پڑتا، جو کرنا ہے کر لو، ہمیں نہیں ڈرایا جا سکتا!’

امِ ایمن کی والدہ رو رو کر پاکستان میٹرز کو اپنی بیٹی پر ہونے والے ظلم کی داستان سنا رہی ہیں۔ (فوٹو: پاکستان میٹرز)

پرنسپل کا یہ رویہ محمد ریاض کے لیے بالکل نئی حقیقت تھی۔ محمد ریاض نے مزید بتایا کہ پرنسپل نے یہ بات ماننے سے انکار کرتے ہوئے ہمیں دھمکیاں دینی شروع کر دیں اور ہمیں اسکول سے دھکے دے کر باہر نکال دیا۔

مقامی صحافی منان پراچہ نے پاکستان میٹرز کو بتایا کہ’یہ واقعہ تیس اکتوبر کو پیش آیا تھا اور ہمیں اس کے بارے میں پندرہ دن بعد معلوم ہوا سکول نے بچی کی حالت پر پردہ ڈالا اور جب محکمہ تعلیم نے اسکول کو سیل کیا تو اس وقت حقیقت سامنے آئی۔’

مزید یہ کہ ‘بچی کے والدین نے کہا کہ ان کی بچی دماغی طور پر معذور ہو رہی ہے اور وہ انصاف کے لیے دربدر پھر رہے ہیں۔’

منان نے کہا کہ ‘جب ہم نے اسکول انتظامیہ سے بات کی تو وہ انکار کرتے رہے، تاہم آف دی ریکارڈ ان سے یہی بات سننے کو ملی کہ یہ واقعہ حقیقت میں پیش آیا تھا۔

پاکستان میٹرز نے شمع ماڈل اسکول کے پرنسپل فرحان شاہ سے رابطہ کیا اور سوالات کیے تو انہوں نے ان تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمیں بدنام کرنے اور بلیک میل کرنے کی ایک مذموم کوشش ہے، جس میں ہم کسی کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

 انہوں نے دعوٰی کیا کہ یہاں کے چند مقامی صحافیوں نے ان سے پیسے مانگے انکار پر انہوں نے یہ پراپیگنڈا کیا ہے۔ بچی کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری اطلاعات کے مطابق وہ بالکل ٹھیک ہے اور شام کے وقت کہیں قرآن پاک پڑھنے جاتی ہے۔

اسپتال کی جانب سے امِ ایمن پر تشدد کیے جانے کے بعد کی رپورٹ ہے۔ (فوٹو: پاکستان میٹرز)

واضح رہے کہ اسکول انتظامیہ نے اس واقعے کے حوالے سے تمام الزامات کی تردید کی ہے اور اس معاملے کو بدنامی اور بلیک میلنگ کی کوشش قرار دیا ہے۔ پرنسپل فرحان شاہ نے کہا ہے کہ اسکول کے خلاف اٹھائے جانے والے سوالات بے بنیاد ہیں اور انہوں نے 50 لاکھ روپے کے ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا ہے۔

ان کا دعویٰ ہے کہ مقامی صحافیوں نے اسکول سے پیسے مانگے تھے اور انکار پر یہ الزام لگایا گیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے بچی کے صحت کے بارے میں بھی بتایا کہ وہ مکمل طور پر ٹھیک ہے اور کوئی سنگین مسئلہ نہیں ہے۔ اس دعوے کا مقصد ان الزامات کو رد کرنا ہے جو اسکول کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

خیال رہے کہ اس حادثے کو تین مہینے گزر چکے ہیں، مگر امِ ایمن کے والدین کی دعائیں ابھی تک بے اثر ثابت ہوئی ہیں۔ ان کی آنکھوں میں ابھی تک وہی خوف اور بے بسی ہے جو اُس دن تھا، جب ان کی بچی بے ہوش پڑی تھی۔

وہ اس وقت سے لے کر آج تک حکام کے دروازے پر دستک دے رہے ہیں، مگر کوئی بھی ان کی آواز سننے کے لیے تیار نہیں۔ ان کے دلوں میں ایک ہی سوال ہے ‘کیا ہماری بچی کا حق صرف اسی قدر ہے؟’

ان کا ہر دن ایک نئی مایوسی کے ساتھ گزرتا ہے اور ہر رات وہ خواب دیکھتے ہیں کہ کہیں ان کی آواز سن کر انصاف کی کرن چمکے، لیکن ابھی تک وہ کرن کہیں دکھائی نہیں دی۔

امِ ایمن کے معاملے نے نہ صرف ایک بچی کی زندگی کو متاثر کیا، بلکہ پورے تعلیمی نظام کی خامیوں کو بے نقاب کیا ہے۔ تین ماہ گزر چکے ہیں، لیکن ابھی تک اس معاملے میں کوئی واضح پیشرفت نہیں ہوئی۔

اسکول انتظامیہ نے الزامات کی تردید کی ہے اور ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا ہے، مگر والدین انصاف کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔

عاصم ارشاد

عاصم ارشاد

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس