اسلام آباد میں "سندھ طاس معاہدہ: امن اور علاقائی استحکام کا ایک اہم ذریعہ" کے عنوان سے منعقدہ بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ پانی کا مسئلہ اب صرف ماحولیاتی یا زرعی معاملہ نہیں رہا بلکہ یہ عالمی امن، انسانی بقا اور اقتصادی استحکام سے جڑا ایک اہم چیلنج بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو پانی کی قلت جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے، جس کے باعث کئی علاقوں میں کسان زراعت چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں، پانی کی کمی کے اثرات صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ بنگلہ دیش سمیت دیگر نشیبی ممالک بھی موسمیاتی تبدیلی اور آبی وسائل کے دباؤ سے متاثر ہو رہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ چاہے دریائے سندھ ہو، دریائے نیل یا دریائے فرات، دنیا کے مختلف خطوں میں پانی سے متعلق تنازعات اور چیلنجز ایک جیسے ہیں، اس لیے آبی وسائل کا تحفظ اور ان کی منصفانہ تقسیم عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان کو بعض اوقات مرالہ ہیڈ ورکس پر معمول سے بہت کم پانی ملتا ہے، جبکہ بعض مواقع پر اچانک بڑی مقدار میں پانی چھوڑ دیا جاتا ہے، جس سے سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے،  ایسے حالات ظاہر کرتے ہیں کہ مسئلہ صرف موسمیاتی تبدیلی کا نہیں بلکہ پانی کے بہاؤ کے انتظام اور کنٹرول کا بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پانی کو دباؤ ڈالنے یا سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا نہ صرف بین الاقوامی اصولوں کے منافی ہے بلکہ اس سے خطے کے امن، استحکام اور باہمی اعتماد کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ان کے مطابق آبی وسائل کو تنازعات کا ذریعہ بنانے کے بجائے تعاون اور قانون کے مطابق استعمال کیا جانا چاہیے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ گزشتہ چھ دہائیوں سے جنوبی ایشیا میں آبی تعاون کی بنیاد بنا ہوا ہے اور پاکستان و بھارت کے درمیان مختلف جنگوں اور کشیدہ حالات کے باوجود یہ معاہدہ برقرار رہا، جو اس کی مضبوط قانونی بنیادوں کا ثبوت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر اتنا مضبوط بین الاقوامی معاہدہ بھی محفوظ نہ رہ سکا تو دنیا بھر میں بین الاقوامی معاہدوں پر اعتماد متاثر ہوگا اور اس کے نتائج صرف جنوبی ایشیا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ہر اس ملک پر اثر انداز ہوں گے جو مشترکہ دریاؤں اور سرحد پار آبی وسائل پر انحصار کرتا ہے۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے عالمی ثالثی عدالت سمیت تمام بین الاقوامی قانونی فورمز سے رجوع کر چکا ہے،  متعلقہ بین الاقوامی ادارے واضح کر چکے ہیں کہ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی کسی ملک کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دریاؤں کے قدرتی بہاؤ کو تبدیل کرے یا ایسے آبی منصوبے تعمیر کرے جو معاہدے سے متصادم ہوں۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض مواقع پر بین الاقوامی قانونی فیصلوں کو بھی تسلیم کرنے میں ہچکچاہٹ دکھائی گئی، جس سے عالمی قوانین کی بالادستی پر سوالات جنم لیتے ہیں،  بین الاقوامی نظام اسی وقت مضبوط رہ سکتا ہے جب تمام ممالک اپنے معاہداتی وعدوں کی پاسداری کریں۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے بین الاقوامی قانون کے ماہر احمر بلال صوفی نے کہا کہ پانی، خوراک اور صاف ماحول بنیادی انسانی ضروریات ہیں، اس لیے پانی سے متعلق بین الاقوامی معاہدوں کا احترام ہر ریاست کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کو غیر مؤثر بنانے یا اس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کی بین الاقوامی قانون میں گنجائش موجود نہیں۔ ان کے مطابق کوئی بھی ملک یکطرفہ طور پر ایسے اقدامات نہیں کر سکتا جو بین الاقوامی معاہدوں کی روح اور قانونی حیثیت سے متصادم ہوں

احمر بلال صوفی نے کہا کہ اگر کسی بھی واقعے یا تنازع پر تحفظات موجود ہوں تو ان کے حل کے لیے بین الاقوامی قوانین، سفارتی رابطوں اور قانونی ذرائع سے رجوع کیا جانا چاہیے، کیونکہ طاقت یا کشیدگی مسائل کا مستقل حل نہیں ہو سکتی۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی تنازع ہے اور اس سے متعلق معاملات کو بھی بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے سے متعلق اپنا مؤقف مختلف بین الاقوامی فورمز پر پیش کر چکا ہے اور مستقبل میں بھی قانونی ذرائع سے اپنے آبی حقوق کا دفاع جاری رکھے گا۔

احمر بلال صوفی نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان موجود اختلافات کا دیرپا حل صرف مذاکرات، بین الاقوامی قانون اور سفارتی ذرائع میں ہے، دونوں ممالک کے قانونی ماہرین کے درمیان مسلسل مکالمہ اور تعاون مستقبل میں تنازعات کے حل کے لیے مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔

انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ پاکستان ہمیشہ بین الاقوامی قوانین، عالمی معاہدوں اور اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کا حامی رہا ہے اور آئندہ بھی قومی مفادات، آبی حقوق اور بین الاقوامی قانونی اصولوں کے تحفظ کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کرتا رہے گا۔