اپریل 6, 2025 11:17 شام

English / Urdu

Follw Us on:

پاکستان کا آئی ایم ایف سے تعلق، عارضی استحکام یا پھر معاشی خودکشی؟

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک
گزشتہ سال آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے لیے 7 ارب ڈالر کے قرض پروگرام کی منظوری دے دی تھی۔

گزشتہ سال آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے لیے 7 ارب ڈالر کے قرض پروگرام کی منظوری دے دی تھی۔

اس قرضے کی منظور کے بعد پاکستان کے لیے خوشخبری آئی ہے لیکن ساتھ ہی یہ سوال بھی اُٹھتا ہے کہ آئی ایم ایف کے قرض کا بوجھ پاکستانی معیشت پر کس حد تک اثر ڈالے گا؟

آئی ایم ایف کا قیام 1944 میں امریکا کے شہر بریٹن ووڈ میں ہوا تھا اور اس کا مقصد عالمی معیشت کو مستحکم کرنا اور دنیا بھر کے ممالک کو معاشی بحران سے نکلنے میں مدد فراہم کرنا تھا۔

پاکستان اس عالمی مالیاتی ادارے کا 1950 میں رکن بنا تھا اور تب سے لے کر اب تک پاکستان 20 سے زائد مرتبہ آئی ایم ایف سے قرض لے چکا ہے۔

اگر ہم تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ پاکستان کی معیشت ہمیشہ کسی نہ کسی معاشی بحران کا شکار رہی ہے جس میں آئی ایم ایف کا قرض ایک اہم جزو بن چکا ہے۔

آئی ایم ایف ایک عالمی بینک کی مانند ہے لیکن اس کا مقصد صرف قرض فراہم کرنا نہیں بلکہ عالمی معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے معیشتوں کی نگرانی اور انہیں مشورے دینا بھی ہے۔

اس کے رکن ممالک کی تعداد 190 تک پہنچ چکی ہے اور یہ ادارہ اپنی مالی مدد سے ترقی پذیر ممالک کو قرض فراہم کرتا ہے تاکہ وہ اپنے معاشی بحرانوں سے نکل سکیں۔

اس قرض کے بدلے آئی ایم ایف ممالک سے خاص اکانومک اصلاحات کا مطالبہ کرتا ہے جن میں ٹیکس بڑھانا، سرکاری اخراجات میں کمی، اور دیگر مالیاتی اقدامات شامل ہیں۔

پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا قرض 1958 میں شروع ہوا تھا جب پاکستان نے آئی ایم ایف سے پہلی مرتبہ قرض حاصل کیا۔

پاکستان آئی ایم ایف کے ساتھ مختلف معاہدوں میں شامل ہو چکا ہے
(فائل فوٹو)

دیکھا جائے تو اب تک پاکستان آئی ایم ایف کے ساتھ مختلف معاہدوں میں شامل ہو چکا ہے جس کی تاریخ میں کئی دفعہ آئی ایم ایف کے قرضوں کی وجہ سے معیشت میں اتار چڑھاؤ آیا ہے۔

پاکستان کے حالیہ قرض پروگرام میں آئی ایم ایف نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ٹیکس نظام کو بہتر بنائے اور عوامی اخراجات میں کمی کرے۔

اس طرح کی پالیسیوں کو کبھی کبھی عوامی سطح پر تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ یہ عوامی سہولتوں پر اثر ڈالتی ہیں۔ لیکن آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر ‘کرسٹالینا جیورجیوا’ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے جو اصلاحات کی ہیں ان کے نتیجے میں معیشت میں بہتری آئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے مثبت اصلاحات کی ہیں جس سے افراط زر میں کمی آئی ہے اور پیداوار کا گراف اُوپر جا رہا ہے۔

پاکستان کا قرضہ اگرچہ آئی ایم ایف کے قرض پروگرام کا حصہ ہے مگر یہ قرض آئی ایم ایف کی شرائط پر ہی دیا جاتا ہے۔ پاکستان نے معیشت کی بہتری کے لیے جو اقدامات کیے ہیں، وہ آئی ایم ایف کی تجاویز پر مبنی ہیں جنہیں عالمی ادارہ گاہے گاہے اپنے رکن ممالک سے اختیار کراتا ہے۔

پاکستان کی آئی ایم ایف کے ساتھ تعلقات ہمیشہ پیچیدہ رہے ہیں۔ قرض کے حصول کے دوران آئی ایم ایف کے مطالبات اور پاکستان کے معاشی حالات کا تنازعہ اکثر میڈیا کی شہ سرخیوں میں ہوتا ہے۔

آئی ایم ایف کا قرض جب بھی پاکستان کے دروازے پر دستک دیتا ہے تو وہ قرض کے ساتھ سخت اکانومک اصلاحات کی شرائط بھی لے کر آتا ہے جنہیں عوامی سطح پر اکثر شدید ردعمل کا سامنا ہوتا ہے۔

پاکستانی معیشت میں آئی ایم ایف کی مداخلت کو مختلف طبقوں میں مختلف نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ آئی ایم ایف کے قرض کی وجہ سے معیشت کو مستحکم کیا جا سکتا ہے جبکہ دیگر افراد یہ مانتے ہیں کہ ان قرضوں کے بوجھ سے پاکستان کی خودمختاری متاثر ہوتی ہے اور ترقی کے امکانات کم ہوتے ہیں۔

آئی ایم ایف کے قرض کی خاص بات یہ ہے کہ یہ قرض کسی ایک پراجیکٹ یا پروگرام کے لیے نہیں بلکہ ملک کی مجموعی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے دیا جاتا ہے۔

ان قرضوں کی واپسی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر منحصر ہوتی ہے اور جب ملک کی معیشت بہتر ہو جاتی ہے تو قرض کی رقم واپس کی جاتی ہے تاکہ وہ دوبارہ دوسرے ممالک کے لیے دستیاب ہو سکے۔

اگرچہ آئی ایم ایف کا قرض پاکستان کی معیشت کی بحالی کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے لیکن اس کے اثرات پر ابھی تک واضح اختلافات ہیں۔

 2002 میں برازیل نے آئی ایم ایف سے قرض حاصل کیا تھا اور جلد ہی معیشت کو بہتر کر لیا۔ اسی طرح ارجنٹائن نے 2018 میں آئی ایم ایف سے 57 ارب ڈالر کا قرض حاصل کیا تھا جو اس وقت تاریخ کا سب سے بڑا قرض تھا اور اس کے نتیجے میں ارجنٹائن نے اپنی معیشت میں استحکام لایا۔

کا قرض پاکستان کی معیشت کی بحالی کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے لیکن اس کے اثرات پر ابھی تک واضح اختلافات ہیں
(فائل فوٹو)

پاکستان کی معیشت پر آئی ایم ایف کے قرض کے اثرات کی بات کریں تو یہاں بھی کامیاب مثالیں اور ناکامی کے واقعات دونوں موجود ہیں۔

 1990 کی دہائی میں جب پاکستان نے آئی ایم ایف سے قرض لیا تھا تو اس کے بعد معیشت میں اضافہ ہوا لیکن عوامی اخراجات میں کمی اور ٹیکس کے نفاذ نے عوام میں غم و غصہ پیدا کیا۔

دوسری جانب آئی ایم ایف کی شرائط پر اکثر تنقید کی جاتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے اصرار پر معاشی اصلاحات اتنی سخت ہوتی ہیں کہ وہ معاشرتی مشکلات پیدا کر دیتی ہیں۔

 2009 میں یونان میں آئی ایم ایف کی مداخلت کے بعد یونان نے معیشت میں اہم تبدیلیاں لائیں لیکن اس کے نتیجے میں ملک میں شدید معاشی مشکلات آئیں اور عوامی بغاوتیں ہوئیں۔

پاکستان میں بھی آئی ایم ایف کے قرض کی شرائط پر اختلافات ہیں۔ حکومتیں اور عوام اکثر اس بات پر متفق نہیں ہو پاتیں کہ آئی ایم ایف کی پالیسیوں کا اثر عوام کی زندگی پر کس طرح پڑے گا۔

اس کے باوجود اگر پاکستان آئی ایم ایف سے قرض نہ لے تو مالیاتی بحران میں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے ملک میں مزید معاشی عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔

آئی ایم ایف کا قرض پاکستان کے لیے ہمیشہ ایک متنازعہ موضوع رہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب پاکستان معاشی بحران سے دوچار ہوتا ہے تو آئی ایم ایف اس کا واحد قابل اعتماد سہارا بنتا ہے۔

قرض کے بدلے آئی ایم ایف کی پالیسیوں پر عملدرآمد کرنا ایک ضروری عمل ہے تاکہ پاکستان اپنے مالی بحران سے نکل سکے اور معیشت کو مستحکم کر سکے۔

تاہم، یہ قرض عوام کی زندگی پر اثرات ڈالنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی خودمختاری پر بھی سوالات اُٹھاتا ہے۔

پاکستان کے لیے یہ فیصلہ کرنا ایک مشکل عمل ہوتا ہے کہ آیا آئی ایم ایف کا قرض معاشی بہتری کا سبب بنے گا یا یہ ایک نیا بحران پیدا کرے گا۔ تاہم اس کے بغیر پاکستان کی معیشت کو بحران سے نکالنا ممکن نہیں۔

مزید پڑھیں: چین میں وزیر داخلہ محسن نقوی کی اہم ملاقات، پاکستان اور چین کے درمیان سکیورٹی اور ٹیکنالوجی پر اہم فیصلے

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس