درجنوں فلسطینی اسرائیلی جیلوں سے رہائی کے بعد رام اللہ پہنچ گئے ہیں اور مزید رہائی پانے والے افراد بھی جلد ہی وہاں پہنچنے کی توقع ہے۔
دوسری جانب امریکا کے محکمہ خارجہ نے اسرائیل کو 6.75 بلین ڈالر کے بموں، گائیڈنس کٹس اور فیوزز کے علاوہ 660 ملین ڈالر کے ہیلفائر میزائلوں کی فروخت کی منظوری دے دی ہے۔
غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے نتیجے میں 48,181 افراد کی ہلاکت اور 111,638 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے، جیسا کہ غزہ کی وزارت صحت نے رپورٹ کیا ہے۔
حکومتی میڈیا دفتر نے ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 61,709 افراد بتائی ہے، اور کہا ہے کہ ہزاروں افراد جو ملبے تلے دبے ہوئے تھے، اب وہ مرنے کے طور پر فرض کر لیے گئے ہیں۔
7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر ہونے والے حملوں میں کم از کم 1,139 افراد ہلاک ہوئے اور 200 سے زائد افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا۔
فلسطینی حکمران جماعت حماس نے تین اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کر دیا۔ جن میں 52 سالہ الیاہو ڈیٹسن یوسف شرابی، 34 سالہ ابراہیم لیشا لیوی اور 56 سالہ اوہد بن امی شامل ہیں۔
19 جنوری کو جنگ بندی شروع ہونے کے بعد سے اب تک 18 یرغمالیوں کو رہا کیا جا چکا ہے اور بدلے میں اسرائیل نے 383 قیدیوں کو رہا کیا ہے۔
اسرائیی فوج کی جانب سے فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جا رہا ہے۔ نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے 183 قیدیوں کو رہا کیا جا رہا ہے۔ تقریبا 33 یرغمالیوں اور 1900 قیدیوں کو تین ہفتوں میں جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے اختتام تک رہا کیا جائے گا۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ 33 میں سے 8 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
حماس نے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں 251 یرغمالیوں کو یرغمال بنایا گیا تھا اور تقریبا 1200 افراد کو ہلاک کیا گیا تھا۔
نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق اسرائیل کے حملوں میں کم از کم 61,709 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ غزہ کی تقریبا دو تہائی عمارتوں کو اسرائیل کے حملوں سے نقصان پہنچا ہے یا تباہ کر دیا گیا ہے۔
آج رہا ہونے والی یرغمالی کون ہیں؟
52 سالہ ایلی شرابی کو کبوتز بیری سے ان کے بھائی یوسی کے ساتھ لے جایا گیا تھا، جن کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے۔
اس حملے میں ایلی کی برطانوی نژاد بیوی لیانے اور دو بیٹیاں نویا اور یحل ہلاک ہو گئیں۔
56 سالہ احد بن امی کو بھی ان کی اہلیہ راز کے ساتھ کبوتز بیری سے اغوا کیا گیا تھا۔ راز کو حماس نے رہا کر دیا تھا۔
مغویوں کے خاندانوں کے فورم کے مطابق،احد بن امی، جو ایک اکاؤنٹنٹ ہیں، ‘اپنے اچھے فیصلے اور حس مزاح کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔’
تل ابیب کے جنوب میں واقع شہر ریشون لی زیون سے تعلق رکھنے والے 34 سالہ لیوی اپنی اہلیہ ایناو کے ساتھ نووا فیسٹیول میں شرکت کے لیے گئے تھے۔
لیوی کو یرغمال بنا لیا گیا تھا اور ایناو کی لاش ایک بموں سے محفوظ رہنے والی پناہ گاہ سے ملی تھی جہاں یہ جوڑا چھپا ہوا تھا۔
اسرائیلی وزیر اعظم بینامن نتن یاہو کے دفتر نے تصدیق کی ہے کہ حکام کو مغویوں کی فہرست مل گئی ہے اور ان کے اہل خانہ کو مطلع کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل جمعے کے روز یرغمالیوں اور لاپتہ خاندانوں کے فورم ہیڈکوارٹرز نے تین یرغمالیوں کی ‘متوقع رہائی کی خبر’ کا خیر مقدم کیا تھا۔
یرغمالیوں کے نام جاری کرنے سے چند گھنٹے قبل حماس نے اسرائیل پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ جنگ بندی معاہدے کے تحت غزہ میں انسانی امداد کی مقدار بڑھانے کے اپنے وعدے کی پاسداری کرنے میں ناکام رہا ہے۔
غزہ میں حماس کے میڈیا آفس کی سربراہ سلامہ ماروف نے غزہ سٹی میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا: کہ ‘اسرائیلی رکاوٹوں کی وجہ سے انسانی صورتحال تباہ کن ہے۔’
انھوں نے کہا کہ جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے متوقع 12,000 امدادی گاڑیوں میں سے صرف 8,500 غزہ میں داخل ہوئی ہیں اور طبی سازوسامان اور پناہ گاہوں کی فراہمی میں جان بوجھ کر تاخیر کی گئی ہے۔
یہ الزام اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ ٹام فلیچر کے بیان برعکس ہے جنہوں نے جمعرات کو کہا تھا کہ جنگ بندی کے آغاز کے بعد سے خوراک، ادویات اور خیموں کے ساتھ 10،000 گاڑیاں غزہ میں داخل ہو چکی ہیں۔
دریں اثنا 34 سالہ اسرائیلی یرغمالی یارڈن بیباس نے نتن یاہو سے براہ راست درخواست کی ہے کہ وہ ان کی بیوی اور بچوں کو واپس لائیں جو اب بھی قید میں ہیں۔
‘وزیر اعظم نتن یاہو، میں اب آپ کو اپنے الفاظ سے مخاطب کر رہا ہوں۔۔۔میرے خاندان ک واپس لائیں۔’
رہائی کے بعد اپنے پہلے عوامی بیان میں بیباس نے کہا کہ ‘میرے خاندان کو واپس لائیں، میرے دوستوں کو واپس لائیں، سب کو گھر لائیں۔’
حماس نے نومبر 2023 میں دعویٰ کیا تھا کہ بیباس کی اہلیہ شیری اور دو چھوٹے بیٹے اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہوئے ہیں۔ اسرائیل نے اس خبر کی تصدیق نہیں کی ہے۔