اسرائیلی فورسز نے غزہ کے ایک اہم حصے سے انخلاء شروع کر دیا۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ”فلسطینی مزاحمتی گروہ حماس کے ساتھ ایک سخت جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیل آگے بڑھ رہا ہے لیکن دوسری جانب یہ معلوم نہیں کہ کیا اس بارے میں مزید بات چیت کی جا سکتی ہے”۔
اسرائیل نے جنگ بندی کے معاہدے کے تحت نیٹزارم کوریڈور سے اپنی افواج کو ہٹانے پر اتفاق کیا تھا۔ یہ وہ حصہ ہے جو شمالی غزہ کو جنوب سے الگ کرتی ہے جسے اسرائیل جنگ کے دوران ایک فوجی زون کے طور پر استعمال کرتا تھا۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی: حماس نے تین اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کر دیا
پچھلے مہینے جنگ بندی کے آغاز پر، اسرائیل نے فلسطینیوں کو جنگ زدہ شمال میں اپنے گھروں کو جانے کے لیے نیٹزارم کو عبور کرنے کی اجازت دینا شروع کی، جس سے سیکڑوں ہزاروں افراد کو پیدل اور کار کے ذریعے غزہ کے اس پار بھیج دیا گیا۔ علاقے سے افواج کا انخلا اس معاہدے کا ایک اور مرحلہ پورا کرے گا، جس نے 15 ماہ کی جنگ کو روک دیا تھا۔

لیکن ایسا لگتا ہے فریقین نے معاہدے کے دوسرے مرحلے پر بات چیت میں بہت کم پیش رفت کی ہے، جس کا مقصد جنگ بندی کو بڑھانا اور فلسطینی حکمران جماعت حماس کے زیر حراست مزید اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا باعث ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو ایک وفد قطر بھیج رہے تھے، جو فریقین کے درمیان بات چیت میں ایک اہم ثالث تھا، لیکن اس مشن میں نچلے درجے کے اہلکار شامل تھے، جس سے یہ قیاس آرائیاں ہو رہی تھیں کہ اس سے جنگ بندی کی توسیع میں کوئی پیش رفت نہیں ہو گی۔ اس معاہدے کے دوسرے مرحلے پر نیتن یاہو کی جانب سے رواں ہفتے کابینہ کے اہم وزراء کا اجلاس بلانے کی بھی توقع ہے۔