پاکستان میں غیر قانونی بین الاقوامی سمز کے خلاف ایک بڑی کارروائی میں پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ نے مشترکہ چھاپے مارے، جس کے نتیجے میں 7,661 غیر قانونی سمز ضبط کی گئیں اور 11 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
یہ کارروائیاں ملتان، لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، راولپنڈی اور کراچی میں کی گئیں، جہاں غیر قانونی سمز کے ذریعے دھوکہ دہی، مجرمانہ سرگرمیوں اور غیر قانونی مواصلاتی نیٹ ورکس کے حوالے سے اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔
ملتان میں پانچ مختلف مقامات پر چھاپے مارے گئے ہیں جہاں سے 7,064 غیر قانونی سمز برآمد ہوئیں۔
یہ سمز بین الاقوامی فراڈ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں استعمال ہو رہی تھیں جبکہ آٹھ افراد کو گرفتار کیا گیا جو غیر قانونی طریقے سے یہ سمز فروخت کر رہے تھے۔
لاہور اور گوجرانوالہ میں مجموعی طور پر 252 غیر قانونی سمز برآمد ہوئیں۔ دونوں شہروں میں دکانوں کے مالکان کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا۔ یہ افراد غیر قانونی سمز فروخت کرنے کے علاوہ انہیں مجرمانہ مقاصد کے لیے استعمال کرنے والے گروہوں کو سپلائی کر رہے تھے۔
راولپنڈی میں کئی غیر قانونی سمز ضبط کی گئیں ہیں جن میں 335 برطانوی سمز بھی شامل تھیں۔
یہ سمز حالیہ آپریشن کے دوران برآمد کی گئیں اور انہیں غیر قانونی کال سینٹرز اور دیگر مجرمانہ سرگرمیوں میں استعمال کیا جا رہا تھا۔
اس کے علاوہ کراچی میں 10 غیر قانونی سمز برآمد کی گئیں اور دکان کے مالک کو حراست میں لے لیا گیا۔ یہ سمز بھی غیر قانونی سرگرمیوں میں استعمال ہو رہی تھیں۔
غیر قانونی بین الاقوامی سمز پاکستان میں ایک اہم مسئلہ بن چکی ہیں۔ یہ سمز اکثر غیر قانونی طریقوں سے بیرونِ ملک سے منگوائی جاتی ہیں اور بغیر کسی مستند تصدیق کے صارفین کو فروخت کی جاتی ہیں۔
ان سمز کو سائبر کرائم، مالی فراڈ، دہشت گردی، اور دیگر مجرمانہ سرگرمیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میو ہسپتال لاہور میں لفٹ گرنے سے 11 نرسز متاثر
یہ سمز عام طور پر غیر رجسٹرڈ یا جعلی شناختوں پر جاری کی جاتی ہیں۔ بعض اوقات یہ سمز بایومیٹرک تصدیق کے بغیر غیر قانونی طریقے سے ایکٹو کی جاتی ہیں یا کسی اور کے نام پر رجسٹرڈ کر کے بیچی جاتی ہیں۔
زیادہ تر یہ سمز غیر قانونی کال سینٹرز، آن لائن فراڈ، اور دیگر جرائم میں استعمال ہوتی ہیں، جن میں ہیکنگ، بلیک میلنگ، اور جعلسازی شامل ہیں۔
پاکستان میں سموں کے اجرا کے لیے بایومیٹرک ویری فکیشن سسٹم (BVS) متعارف کرایا گیا ہے جس کا مقصد ہر سم کو اس کے اصل صارف کے نام پر رجسٹرڈ کرنا ہے۔ تاہم کچھ عناصر اس نظام کو دھوکہ دے کر غیر قانونی طور پر سمز فروخت کرتے ہیں جس سے سائبر کرائم اور دیگر مجرمانہ سرگرمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
پی ٹی اے اور ایف آئی اے وقتاً فوقتاً غیر قانونی سم فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں کرتے رہے ہیں۔
ماضی میں بھی متعدد بار ایسے گروہوں کے خلاف چھاپے مارے گئے ہیں لیکن اس غیر قانونی کاروبار کے مکمل خاتمے کے لیے مسلسل نگرانی اور سخت قانونی اقدامات کی ضرورت ہے۔
پی ٹی اے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر وہ ایسی کسی بھی مشکوک سرگرمی سے آگاہ ہوں تو فوری طور پر پی ٹی اے کی ویب سائٹ [www.pta.gov.pk](http://www.pta.gov.pk) پر شکایت درج کرائیں۔ اس سے ایک محفوظ اور مستحکم ڈیجیٹل ماحول کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔
یہ کارروائیاں پاکستان میں غیر قانونی سمز کے خلاف جنگ کا ایک اہم قدم ہیں۔ تاہم اس مسئلے کے مکمل خاتمے کے لیے مزید سخت اقدامات اور عوامی بیداری کی ضرورت ہے۔
غیر قانونی سمز نہ صرف قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں بلکہ عام شہریوں کی زندگیوں کو بھی متاثر کر رہی ہیں۔ حکومت اور عوام کے مشترکہ اقدامات سے ہی اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی نے دشمنوں کے ایجنڈے پر چل کر ملک کو نقصان پہنچایا، وزیر اطلاعات عطا تارڑ