پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان میں واقع دیامر بھاشا ڈیم کے متاثرین کا پانچ روز سے جاری دھرنا سوشل اور سیاسی حلقوں میں گہری تشویش کا باعث بن گیا ہے۔
یہ مظاہرین دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے باعث متاثر ہونے والے افراد ہیں، جنہوں نے اپنے بنیادی حقوق کے لیے حکومت سے وعدوں کی تکمیل کا مطالبہ کیا ہے۔
ان مظاہروں نے اس بات کو عیاں کر دیا ہے کہ جب حکومت اپنے وعدوں کو نظر انداز کرتی ہے تو عوامی ردعمل کی نوعیت کتنی شدید ہو سکتی ہے۔
دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر پر کام جاری ہے جو دریائے سندھ پر چلاس میں گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کی حدود میں بنایا جا رہا ہے۔
2029 تک مکمل ہونے والے اس منصوبے کی متوقع طاقت 18,097 گیگا واٹس ہے، جو سالانہ بجلی کی پیداوار میں اہم اضافہ کرے گا۔ تاہم، اس منصوبے کے لیے زمینوں کا حصول مقامی افراد کے لیے مشکلات کا باعث بن چکا ہے۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ انہیں 2007 میں ہونے والے سروے کے بعد حکومت نے معاوضے کا وعدہ کیا تھا مگر اس وعدے کو آج تک پورا نہیں کیا گیا۔
اس ڈیم کے لیے تقریبا 16,027 ایکڑ نجی زمین، 17,894 ایکڑ سرکاری زمین اور 464 ایکڑ زمین خیبر پختونخوا سے لی گئی ہے۔ ان تمام زمینوں کے مالکان کا مطالبہ ہے کہ انہیں مناسب معاوضے اور زمینیں دی جائیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مظاہرین نے حکومت سے ایک “چارٹر آف ڈیمانڈ” پیش کیا ہے جس میں ان کے مطالبات واضح ہیں۔
ان کے مطابق حکومت نے انہیں ایک کنال زمین یا 47 لاکھ روپے دینے کا وعدہ کیا تھا مگر ابھی تک اس پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوا۔
مظاہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت نے ہر گھرانے کو چھ کنال زرعی زمین دینے کا وعدہ کیا تھا مگر وہ بھی ابھی تک نہیں دی گئی۔ ان کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ حکومت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے تاکہ ان کے گھروں کی تقدیر محفوظ ہو سکے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ حکومت کا تجارتی گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفکیٹس کے خلاف کریک ڈاؤن
مظاہرین کو اس احتجاج میں نہ صرف مقامی عوامی تنظیموں بلکہ مختلف سیاسی جماعتوں کی بھی حمایت حاصل ہے۔ عوامی ایکشن کمیٹی سمیت کئی سول سوسائٹی گروپ اس تحریک میں شامل ہیں۔
مظاہرین نے وزیر اعظم کی زیر نگرانی ایک کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ان کے مطالبات کا حل نکالا جا سکے۔ دھرنے کے منتظمین نے واضح کیا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جائیں گے یہ احتجاج جاری رہے گا۔
حکومت نے اس صورت حال کا نوٹس لیتے ہوئے وفاقی وزیر برائے گلگت بلتستان و کشمیر امور، امیر مقام کی زیر صدارت ایک اجلاس منعقد کیا جس میں وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان گلبر خان، چیئرمین واپڈا اور دیگر حکام نے شرکت کی۔
اس اجلاس میں وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے کہا کہ “واپڈا کی غیر سنجیدگی اور فیصلوں پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے دیامر بھاشا ڈیم کے مظاہرین سڑکوں پر آ گئے ہیں۔”
امیر مقام نے یقین دہانی کرائی کہ مظاہرین کے مطالبات کو حل کرنے کے لیے اعلیٰ سطح کی وفاقی کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو گلگت بلتستان کا دورہ کرے گی اور وہاں موجود مسائل کا جائزہ لے گی۔
انہوں نے کہا کہ “کمیٹی مظاہرین کے ساتھ بیٹھ کر ان کے جائز مطالبات حل کرنے کے لیے جامع فیصلے کرے گی۔”
دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر پاکستان کے توانائی کے بحران کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی مگر اس کے ساتھ ہی مقامی افراد کی مشکلات بھی بڑھتی جا رہی ہیں۔
اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ حکومت کتنی جلدی اپنے وعدوں کو پورا کرتی ہے تاکہ لوگوں کی زندگیاں بہتر ہو سکیں۔ اگر حکومت فوری طور پر ان مسائل کو حل نہیں کرتی، تو یہ احتجاج مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، جو نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ پورے پاکستان میں ایک بڑی سیاسی و سماجی بحث کا باعث بنے گا۔
حکومت کے لیے یہ وقت ایک اہم امتحان ہے جہاں اسے نہ صرف دیامر بھاشا ڈیم کے منصوبے کی کامیاب تکمیل کے لیے اقدامات کرنا ہیں بلکہ متاثرین کی ضروریات اور مطالبات کو بھی فوری طور پر تسلیم کرنا ہوگا۔ اس معاملے میں جتنی جلدی حکومتی اقدامات ہوں گے، اتنی ہی جلدی اس سنگین بحران کا حل نکل سکے گا۔
مزید پڑھیں: پنجاب میں جتنے فیصد طلبا کو لیپ ٹاپ دیے ہیں ہم بھی اتنے فیصد کو دیں گے، علی امین گنڈاپور