گزشتہ دنوں مراکش اور لیبیا میں تارکین وطن کی کشتیاں الٹنے کی وجہ سے کئی پاکستانی اپنی جان کی بازی ہار گے،جس کے بعدپاکستان میں انسان دشمن اسمگلروں کے خلاف سخت کاروائی کی گئی اور کئی اسمگلروں کو حراست میں لیا گیا۔
وفاقی وزیر داخلہ کی ہدایت پر ایف آئی اے کا انسانی اسمگلروں کے خلاف کریک ڈاون کیا گیا،جس میں گزشتہ 2 ماہ کے دوران 458 انسانی اسمگلرز اور ایجنٹس کو گرفتار کر لیا گیا۔
گرفتار ملزمان میں ریڈ بک کے 8 انتہائی مطلوب انسانی اسمگلرز بھی شامل، گزشتہ 2 ماہ کے دوران یونان کشتی حادثہ 2023 کے 19 اشتہاری انسانی سمگلروں کو بھی گرفتار کر لیا ہے اوریونان کشتی حادثہ 2024 میں ملوث 18 انسانی اسمگلروں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
جبکہ گزشتہ دنوں مراکش کشتی حادثے 2025 میں ملوث 10 ایجنٹس بھی گرفتار کیے گے ہیں۔
گزشتہ 2 ماہ کے دوران ایف آئی اے نے انسانی سمگلنگ میں ملوث ملزمان کی 66 کروڑ روپے سے زائد مالیت ک

ی جائیدادیں ضبط کی گئی اور انسانی سمگلنگ میں ملوث عناصر کے زیر استعمال ساڑھے 73 کروڑ روپے کے بینک اکاؤنٹس بھی منجمد کیے گئے ہیں۔
انٹرپول کے ذریعے انسانی سمگلنگ میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لئے مجموعی طور پر 26 ریڈ نوٹسز جاری کیے گئے ہیں،کشتی حادثے میں ملوث ایجنٹوں کی گرفتاری کے لئے تمام تر وسائل کو بروئے کار لایا جارہا ہے۔
ملک کے تمام ائرپورٹس پر تعینات افسران انسانی سمگلنگ میں ملوث ایجنٹوں کے گرفتاری کے لئے کڑی نگرانی کر رہے ہیں،معصوم جانوں سے کھیلنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
انسانی اسمگلنگ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل جاری ہے، جس کے لیےایف آئی اے کی ٹیمیں انسانی سمگلنگ کے متاثرین سے مسلسل رابطے میں ہیں۔
گرفتار انسانی اسمگلروں کو قانون کے مطابق سخت سزائیں دلوائی جائیں گی،بین الاقوامی سطح پر انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورک کو جڑ سے ختم کیا جائے گا
دوسری جانب ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوششیں ناکام بنا دی اور 3 مسافر آف لوڈکر دیے۔
ملزمان کی شناخت محمد ابراہیم محمد شیراز اور حماد افراہیم کے نام سے ہوئی اور کا تعلق کرک، اپردیر اور راولپنڈی کے مختلف علاقوں سے ہے