پاکستان کی جیلوں میں خواتین قیدیوں کے مسائل میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور یہ حقیقت نہ صرف ہمارے معاشرتی نظام پر سوالات اٹھاتی ہے بلکہ حکومت کی ذمہ داریوں کو بھی واضح کرتی ہے۔
پاکستان میں خواتین قیدیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور ان کی مشکلات کی نوعیت دن بہ دن پیچیدہ ہو رہی ہے۔ ایک طرف جیلوں کی حالت اور قوانین کا فقدان ہے، تو دوسری طرف ان خواتین کی زندگیوں میں بے شمار مشکلات اور چیلنجز ہیں۔
اس وقت پاکستان میں خواتین قیدیوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ 2000 سے اب تک عالمی سطح پر جیلوں میں خواتین کی تعداد میں 60 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو عالمی سطح پر جیلوں میں قیدیوں کی مجموعی تعداد کا 2.8 فیصد بنتا ہے۔
پاکستان میں خواتین کی جیل آبادی عالمی اوسط سے کم یعنی 1.6 فیصد ہے مگر گذشتہ دہائی میں اس میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
حکومت کی نظر میں یہ اضافہ تشویش کا باعث ہے مگر کئی ماہرین اور انسانی حقوق کے ادارے اس بارے میں آواز اٹھا رہے ہیں کہ خواتین قیدیوں کے لیے جیلوں کی حالت میں فوری بہتری کی ضرورت ہے۔
ان قیدیوں کو بہتر رہائش، غذائی سہولتیں، اور طبی امداد فراہم کی جانی چاہیے۔ یاسمین مغل، جو کوئٹہ ویمن پرزن سے وابستہ ہیں۔ ایک نجی چینل سے بات کرتے ہوئے انہوں نے ان جیلوں کی حالت اور وہاں کی سہولتوں کی کمی کی نشاندہی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین قیدیوں کو انسانیت کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے۔
پاکستان کی جیلوں میں خواتین قیدیوں کے لیے قوانین 1894 اور 1900 کے ہیں جو 1947 کے بعد چند ترامیم کے ساتھ آج بھی نافذ ہیں۔
یاسمین مغل کے مطابق ان قوانین میں اس قدر سادگی ہے کہ یہ خواتین قیدیوں کے حالات کے مطابق نہیں ہیں۔ جیلوں میں خواتین کے لیے علیحدہ جیلوں کی ضرورت ہے، تاکہ ان کی حفاظت اور صحت کے مسائل کو بہتر طریقے سے حل کیا جا سکے۔
لازمی پڑھیں: جیل میں قید مسلمانوں کی دہلی انتخاب میں شرکت، معصومیت کا دعویٰ
انڈیپنڈنٹ اردو کے مطابق، اس وقت زیادہ تر جیلوں میں خواتین قیدیوں کو مرد قیدیوں کے ساتھ ایک ہی جگہ رکھا جاتا ہے جس سے ان کے لیے ایک محفوظ ماحول پیدا کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔
ڈسٹرکٹ ہزارہ کے ضلعی پرزن آفیسر ڈی آئی جی ‘عمیر خان’ کا کہنا ہے کہ خواتین قیدیوں کے حوالے سے جیل کے قوانین سخت ہیں اور ان میں کافی بہتری کی گنجائش موجود ہے۔
جیل میں خواتین قیدیوں کے لیے عملہ زنانہ ہوتا ہے اور ان کے بچوں کی صحت کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ تاہم، عمیر خان نے تسلیم کیا کہ جیلوں میں بہتری کی ضرورت ہے۔
انڈیپنڈنٹ اردو کے مطابق ‘ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان’ (HRCP) کی رکن ‘فرح ضیا’ کے مطابق خواتین قیدیوں کے لیے علیحدہ جیلوں کی ضرورت ہے کیونکہ ایک ہی جیل میں ان کی حفاظت اور صحت کے مسائل مزید بڑھ جاتے ہیں۔
ان کے مطابق خواتین قیدیوں کے لیے جیل کے اندر مناسب طبی سہولتیں، تعلیم، اور نفسیاتی معاونت فراہم کی جانی چاہیے تاکہ وہ جیل کے دوران ذہنی اور جسمانی طور پر بہتر ہو سکیں۔
پاکستان کی کئی جیلوں میں خواتین قیدیوں کو حفظان صحت کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جاپان کی جیل بزرگ خواتین کی’پناہ گاہ‘بن گئی
اس کے علاوہ کوئٹہ جیل میں خواتین قیدیوں کو سردی اور گرمی کے موسم میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ ان کے لیے گرم پانی کی سہولت نہیں ہے، جس کے باعث قیدی خواتین اپنی جسمانی صفائی کا خیال نہیں رکھ پاتی ہیں۔
حال ہی میں قیدی خواتین ’ریبیز‘ کے شکار ہو چکی ہیں۔ اس پر انسانی حقوق کے اداروں نے آواز اٹھائی اور جیل حکام کو ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔
اس کے علاوہ خواتین قیدیوں کے لیے جیل میں بچوں کی رہائش کا انتظام بھی پیچیدہ مسئلہ ہے۔ خواتین قیدیوں کے ساتھ چھوٹے بچے بھی جیل میں رہتے ہیں اور ان کی تعلیم، خوراک، اور حفاظت کے مسائل علیحدہ ہیں۔
ان بچوں کی عمر تین سال تک ہوتی ہے اور اس کے بعد ان کے لیے کوئی ٹھوس منصوبہ بندی موجود نہیں ہے۔ فرح ضیا نے اس بات پر زور دیا کہ تین سال کے بعد ان بچوں کا کیا مستقبل ہوگا؟ اس سوال پر حکومت کو غور کرنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان کے جیل حکام نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ خواتین قیدیوں کے لیے بہتری کی گنجائش ہے۔
ضرور پڑھیں: غیر قانونی سمز کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن: 7,661 سمز ضبط، 11 افراد گرفتار
کوئٹہ جیل کے ڈی آئی جی ضیا ترین کے مطابق جیلوں میں خواتین قیدیوں کی ’’ری ہیبیلیٹیشن‘‘ کے لیے کئی اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن میں تعلیم، ہنر مندی، اور صحت کے اصولوں کی تربیت شامل ہے۔
اس کے علاوہ خواتین قیدیوں کے کام کی نمائش بھی کی جاتی ہے اور ان کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم ان قیدیوں کو دی جاتی ہے تاکہ وہ اپنے اہل خانہ کی مدد کر سکیں۔
اس کے علاوہ کراچی سینٹرل جیل کی ڈی آئی جی شیبا شاہ نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ جیل حکام قیدی خواتین کے معاملات میں ہر طرح کا خیال رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خواتین قیدیوں کے لیے نہ صرف خوراک کی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں، بلکہ ان کی تعلیم اور ہنر مندی کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ان کے مطابق حالیہ پرزن ایکٹ مرد و خواتین دونوں قیدیوں کی حمایت میں ہے اور اگر کسی قیدی کو نجی علاج کی ضرورت ہو تو وہ اس کی سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے۔
پاکستانی جیلوں میں خواتین قیدیوں کے مسائل پر غور و فکر کی ضرورت ہے۔ حکومت اور جیل حکام کو مل کر ان مسائل کا حل نکالنا ہوگا تاکہ خواتین قیدیوں کو بہتر زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کیے جا سکیں اور ان کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔
مزید پڑھیں: پارلیمنٹ کے اندر اور باہر انتشار پھیلانے والوں کے عزائم بے نقاب کرنا ہوں گے، نوازشریف