بھارتی وزیراعطم نریندر مودی کے حالیہ دورہ امریکہ میں سب سے اہم یہ خبر سامنے آئی کہ امریکہ بھارت کو ایف پینتس (F-35) فائٹر طیارے سمیت دیگر جدید ترین اسلحہ دے سکتا ہے۔ اس خبر کی بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے بھی پزیرائی کی۔
کانگریس کے اہم رہنما اور معروف بھارتی مصنف، دانشور ششی تھرور کا بیان پڑھا، جس میں انہوں نے ایف پینتیس طیارے بھارت کو دئیے جانے کے اعلان کو سراہا۔ ادھر چین اور پاکستان نے اس خبر پر تنقید کرتے ہوئے اس کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے خطے میں اسلحے کی دوڑ شروع ہوجائے گی۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر بھارت کو ایف پینتیس طیارہ مل گیا تو اس کے کیا اثرات ہوں گے؟ بھارتی ائیرفورس کو کس قسم کی برتری مل جائے گی؟ اور پاکستان کے پاس اس کے لئے جوابی پلان کیا ہے؟
ایف پینتیس طیارہ کیوں اتنا اہم ہے؟
ایف پینتیس دراصل ففتھ جنریشن لڑاکا (فائٹر)طیارہ ہے، اس کا پورا نام ایف پینتیس لائٹننگ (F-35 Lightning II )ہے، اس کے تین ویرینٹس ہیں۔ ایف پینتیس اے، ایف پینتیس بی اور ایف پینتیس سی۔ ایف پینتیس کو جدید ترین ففتھ جنریشن لڑاکا طیاروں میں سب سے نمایاں سمجھا جاتا ہے۔
آگے جا کر ہم بتاتے ہیں کہ ففتھ جنریش طیارے سے کیا مراد ہے۔ سردست یہ سمجھ لیں کہ دنیا بھر میں فائٹر طیاروں کے شہزادے سمجھے جاتے ہیں۔ ایف پینتیس کو ولی عہد سمجھ لیں، اس کی ٹکر کا صرف چین ہی طیارہ بنا رہا ہے، اس کے بارے میں بھی ابھی مستند معلومات میسر نہیں۔
ایف 35 کا سی ویرینٹ دراصل امریکی نیوی استعمال کرتی ہے، یہ طیارہ بردار بحری جہازوں کے لئے ہیں جبکہ ایف پینتیس بی بہت چھوٹی جگہ پر لینڈ ہوسکتا ہے، یہ امریکی اٹیکنگ میرین فوج کے لئے خاص طور سے بنایا گیا ہے۔ ایف پینتیس اے نسبتاً سستا ورژن ہے اور امریکہ نے اپنے بعض اتحادی ممالک کو یہ طیارہ دیا ہے، برطانیہ، اسرائیل،آسٹریلیا، جاپان وغیرہ استعمال کر رہے ہیں۔ بھارت کو بھی اب صدر ٹرمپ نے یہ پیشکش کی ہے۔
فورتھ اور ففتھ جنریشن فائٹر طیارے
اس سے مراد طیارے کا جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ہونا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے وقت اور کچھ بعد میں سکینڈ جنریشن، تھرڈ جنریشن فائٹر طیارے استعمال ہوتے تھے۔ 70 کے عشرے سے لے کر 90 کے عشرے تک اور بعد میں بھی فورتھ جنریش طیارے بنائے گئے اور دنیا کی بیشتر ائیرفورس میں ابھی تک فورتھ جنریشن طیارے ہی چھائے ہیں۔ ایف سولہ (F-16) ان میں سب سے ممتاز ہے اور کئی حوالوں سے یہ بانی سمجھا جاتا ہے۔
فورتھ جنریشن طیاروں میں اصل فرق انجن، ہتھیاریعنی میزائل، کمپوزٹ میٹریل اور ایوانکس کا استعمال ہے۔ ایف سولہ کے بھی کئی ویرینٹس آ چکے ہیں، اسے مسلسل اپ گریڈ کیا جاتا رہا ہے۔ پاکستان کو جو ایف سولہ طیارے دئیے گئے تھے، اس کے بعد اس کے کئی اپ گریڈ آچکے ہیں۔
ایف سولہ تو امریکی طیارہ ہے، البتہ اس کے مقابلے میں فرانس نے میراج دو ہزار طیارہ، روس نے مگ انتیس (Mig 29) اور سخوئی ستائیس (Su 27)، چین کا جے آٹھ فائٹر طیارہ شامل ہیں۔
پاکستان اور چین کا مشترکہ تیار شدہ طیارہ جے سترہ تھنڈر بھی فورتھ جنریشن فائٹر طیارہ ہے، البتہ اس کا بلاک تھری مزید ایڈوانسڈ ہے اور اسے فور پلس جنریشن فائٹر کہہ سکتے ہیں۔
فور پلس یعنی فورتھ اور ففتھ جنریشن کے درمیان میں جو چند طیارے دنیا میں مشہور ہیں، ان میں ایف سولہ وائپر، فرانس کا رفال، روس کا سخوئی پینتیس، یورپ کے کئی ممالک کا مشترکہ تیار کردہ یوروفائٹر ٹائفون، چین کا جے ٹین سی، روس کا مِگ پینتیس، چین کا جے ٹین سی اور سوئیڈن کا گریفن ای شامل ہیں۔ بھارت نے فرانس کے رفال طیارے کو اپنی ائیرفورس میں شامل کر رکھا ہے جبکہ پاکستان نے چین سے جے ٹین سی طیارے لے رکھے ہیں۔
ففتھ جنریشن طیارہ سب سے جدید ہے اور ابھی تک صرف تین ممالک(امریکہ، روس، چین) کے پاس اس کی صلاحیت موجود ہے، جنوبی کوریا اور ترکی اس جانب پیش رفت کر رہے ہیں، مگر ابھی تک ان کے پاس یہ طیارہ تیار شدہ حالت میں نہیں۔
امریکہ کے پاس دو ففتھ جنریش فائٹر طیارے ہیں، ایف بائیس ریپٹر (F-22 Raptor) اور ایف پینتیس لائٹننگ جبکہ روس کے پاس سخوئی ستاون اور چین کے پاس بھی دو ففتھ جنریش فائٹر جے ٹوئنٹی اور جے پینتیس موجود ہیں۔
ساوتھ کوریا کا کے ایف اکیس بورام بھی کچھ حد تک ففتھ جنریشن طیارہ ہے جبکہ ترکی اپنے طور پر ففتھ جنریش طیارہ کان (TF-X Kaan) بنا رہا ہے جس کی ابھی فائنل پروڈکشن شروع نہیں ہوئی۔
ففتھ جنریش طیارے میں بہت سی خوبیاں ہیں، سب سے نمایاں اور اہم اس کا سٹیلتھ ہونا ہے، یعنی یہ ریڈار پر مشکل سے نظر آتا ہےا ور اسے ڈیٹکٹ کرنے میں مشکل ہوتی ہے۔ مکمل طور پر سٹیلتھ طیارہ بنانا اس وقت شائد ممکن نہیں مگر امریکی اور چینی طیاروں کو ریڈار پر پکڑنا آسان نہیں۔ اس کے قوی امکانات ہیں کہ انہیں تب ڈیٹکٹ، ٹریس اور نشانہ بنایا جائے جب یہ اپنا کام کر کے واپس جا رہے ہوں۔
سٹیلتھ طیاروں کا سب سے بڑا فائدہ یہی ہے کہ یہ فورتھ جنریش طیاروں کے ریڈار پر آئے بغیر لانگ رینج میزائلوں سے انہیں نشانہ بنا سکتے ہیں۔ ففتھ جنریش فائٹر طیارے کے سامنے فورتھ جنریش طیارہ نہیں ٹھہر سکتا ، یوں ففتھ جنریشن طیارے والی ائیر فورس کو واضح طور پر دوسروں پر سبقت حاصل ہوجائے گی۔
کیا بھارتی ائیرفورس کو سبقت حاصل ہوجائے گی؟
اس کا جواب ہاں میں دینا مشکل ہے، اس لیے کہ امریکی صدر نے بے شک ایف پینتیس طیارے بھارت کو دینے کا اعلان کیا ہے، مگر اس پراسیس میں تین چار سال لگ جانا عام بات ہے۔ پہلی بات یہ کہ امریکہ اپنے جدید ترین طیارے کو یوں ہی بھارت کے حوالے نہیں کرے گا، اس میں کچھ تبدیلیاں لازمی ہوں گی، بعض چیزیں امریکی کسی اتحادی تک کو نہیں دے رہے اور پھر خریدار کی ضروریات کے مطابق بھی تبدیلیاں ہوتی ہیں، یوں بھارتی ضرورت کے مطابق ایف پینتیس طیارے بننے میں ہی اڑھائی تین سال لگ سکتے ہیں۔ اس کے بعد ٹریننگ کا مرحلہ آئے گا۔ کم از کم بھی سال ڈیڈھ لگے گا بھارتی پائلٹوں کو یہ طیارہ چلانے اور مہارت حاصل کرنے میں۔ اس دوران پاکستان چینی ساختہ ففتھ جنریشن طیارہ حاصل کرنے میں پہل کر سکتا ہے۔
ایف پینتیس اور روسی ایس چار سو میزائل کا تنازع
بھارت نے روس سے جدید ترین ایس چار سو (S400) اینٹی میزائل لے رکھے ہیں۔ یہ اچھی دفاعی شیلڈ ہے مگر نقصان یہ ہے کہ امریکی اپنے جدید ترین طیارے کو روسی میزائل شیلڈ کے ساتھ نہیں رکھنے دیتے۔ اس سے امریکی انفارمیشن لیک ہوجانے کا خدشہ ہے۔
امریکہ نے ایف پینتیس کی ترکی کے ساتھ پروڈکشن شروع کر رکھی تھی، اس کے بعض پرزے ترکیہ میں بننے تھے، ترکیہ نے روس سے ایس چار سو اینٹی میزائل سسٹم لے لیا، جس پر امریکی ناراض ہوگئے اور ترکیہ کو ایف پینتیس والی فہرست سے نکال دیا، ا س کے بعد ترکیہ نے اپنے طور پر اپنا ففتھ جنریش فائٹر طیارہ بنانا شروع کر رکھا ہے۔
ایس چار سو روس کا جدید ترین اینٹی میزائل سسٹم ہے، یہ زمین سے فضا میں مار کرتا ہے اور دشمن کے فائٹر طیارے، سٹیلتھ ، ڈرون، کروز میزائل اور حتیٰ کہ بیلسٹک میزائل تک کو ڈھونڈ کر تباہ کر دیتا ہے۔ یہ لانگ رینج سسٹم ہے اور کئی سو کلومیٹر تک مار کرتا اور بیک وقت درجنوں حملہ آور طیاروں، ڈرونز وغیرہ کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ انڈیا کو اس مسئلے کا حل نکالنا ہوگا، امریکی اپنے ایف پینتیس کو کسی بھی صورت میں روسی ایس چارسو کے قریب نہیں لانے دیں گے۔
پاکستانی ایئرفورس کی جوابی حکمت عملی
پاکستانی ائیرفورس کی انڈین ایئرفورس پر اچھی خاصی برتری رہی ہے۔ جنگ پینسٹھ میں پاکستانی طیاروں نے انڈین حملہ آور فائٹر طیاروں کو شدید نقصان پہنچایا۔ ابھیندن والا واقعہ تو ابھی چند سال پرانا ہے۔ پاکستانی طیاروں اور پائلٹس نے اپنی مہارت اور برتری کا لوہا منوایا۔ اس واقعے کے بعد ہی بھارت نے فرانس سے رافیل طیارے لئے۔ تاہم پاکستان نے اس کا بھی کائونٹر کر لیا۔
ففتھ جنریش طیاروں کے حوالے سے بھی انڈین دبائو میں ہیں کیونکہ پاکستان اشارہ دے چکا ہے کہ وہ چین کا سٹیلتھ ففتھ جنریش فائٹر طیارہ جے پینتیس خرید رہا ہے۔ چینی اپنے اتحادی پاکستان اور آذربائیجان کو یہ طیارہ دے سکتا ہے، معاملات چل رہے ہیں۔ جبکہ پاکستان ترکی کے ساتھ اس کے ففتھ جنریش فائٹر طیارے کان کے لئے بھی کام کر رہا ہے، بات چیت آگے بڑھ چکی ہے۔ اس طرح پاکستان کے پاس دو ففتھ جنریشن فائٹر طیارے آ سکتے ہیں۔
انڈین اس سے دبائو میں ہیں۔ انڈین ائیرفورس کے بعض ریٹائر افسران یوٹیوب پر پوڈکاسٹ وغیرہ میں اس کااظہار کر چکے ہیں۔ انڈیا کے پاس روس کا سخوئی ستاون طیارہ خریدنے کی آپشن موجود ہے، یہ طیارہ لے لیں تو اس کی روسی ایس چار سو اینٹی میزائل سسٹم سے اچھی ہم آہنگی ہوجائے گی۔ تاہم امریکی تب ناراض ہوجائیں گے، دوسرا روسی سخوئی ستاون بہرحال امریکی ایف پینتیس سےقدرے کم درجہ صلاحیت کا حامل ہے۔
انڈین طویل عرصے سے روسی ہتھیار اور طیارے استعمال کرتے رہے ہیں، امریکی اسلحے اور ٹیکنالوجی کی طرف وہ اب آ رہے ہیں۔ انہیں اب اپنے پورے سسٹم کو بدلنا ہوگا، جس میں کئی سال لگیں گے۔ یہ سب آسان نہیں، اربوں ڈالر اخراجات الگ سے ہیں۔
بہرحال اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت کے پاس ایف پینتیس آجانے کا مطلب ہے کہ پاکستان بھی لازمی طور پر ففتھ جنریش فائٹر طیارے حاصل کرے۔ پاکستان پہلے ہی اس پر کام کر رہا ہے، لیکن بھارتی ائیرفورس میں ففتھ جنریش فائٹرآنے سے اسلحے کی دوڑ تیز ہوجائے گی۔
عالمی ماہرین یہ بھی مانتے ہیں کہ پاکستان نے سمجھداری سے اپنی آپشنز استعمال کی ہیں اور کم خرچ متبادل آپشنز کو اچھے سے استعمال کیا۔ توقع ہے کہ ففتھ جنریش فائٹر طیاروں کے معاملے میں بھی بھارت کو منہ کی کھانی پڑے گی۔