پاکستان میں رمضان المبارک کی آمد آمد ہے اور اس کے ساتھ ہی عوام کی معاشی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ عالمی سطح پر ہونے والے معاشی چیلنجز کے ساتھ، پاکستان کی عوام کی زندگیوں میں مہنگائی، بے روزگاری اور مالی عدم استحکام کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔
اس سلسلے میں ایک حالیہ سروے، جو آئی پی ایس او ایس پاکستان نے کیا ہے، انہوں نے ملک کے معاشی حالات اور عوامی مالی صورتحال پر ایک تلخ حقیقت کو سامنے رکھا ہے۔
سروے کے نتائج میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ 88 فیصد پاکستانیوں کے لیے روزمرہ اشیاء کی خریداری ایک پیچیدہ اور مشکل عمل بن چکا ہے۔
رمضان کے مہینے میں جب لوگوں کی ضروریات میں اضافے کا سامنا ہوتا ہے، ایسے میں اشیائے خوردونوش کی خریداری پاکستانی عوام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گئی ہے۔
اس سروے میں شامل 88 فیصد افراد نے کہا ہے کہ وہ مستقبل میں پیسے بچانے کے قابل نہیں ہوں گے، جب کہ 94 فیصد کا خیال ہے کہ گاڑی یا جائیداد خریدنا اب ان کے لیے تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔
یہ سروے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری کی جانب واضح اشارہ کرتا ہے۔ 81 فیصد پاکستانی عوام نے اپنے یا اپنے قریبی افراد کے کاروبار یا نوکریوں کے جانے کے خوف کا اظہار کیا ہے، جس سے معاشی عدم استحکام کی ایک اور گھنٹی بج رہی ہے۔
سروے کے مطابق، 70 فیصد افراد نے ملک کی موجودہ سمت کو غلط قرار دیا ہے۔ عوام کے لیے اس بات کا کھلا پیغام ہے کہ حکومت کے معاشی فیصلے عوام کی ضروریات کے مطابق نہیں ہیں۔
اس کے باوجود 69 فیصد پاکستانی مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ سمجھتے ہیں، جبکہ 61 فیصد بے روزگاری کو ملک کا سب سے بڑا چیلنج گردانتے ہیں۔ 63 فیصد افراد نے ملکی معیشت کو کمزور قرار دیا اور 40 فیصد کو خدشہ ہے کہ آئندہ چھ ماہ میں ملکی معیشت مزید بگڑ سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ:سڑک کنارے بم دھماکے سے راہگیروں سمیت 9 افراد زخمی
سروے کے نتائج میں یہ بھی شامل ہے کہ 60 فیصد پاکستانیوں کو اپنی ذاتی مالی صورتحال مزید بگڑنے کا اندیشہ ہے۔
اس سب کے باوجود سروے میں یہ بھی دیکھا گیا کہ کچھ اہم اشاریے جیسے کہ ملکی سمت اور گھریلو خریداری کا اعتماد، کچھ حد تک بہتر ہوئے ہیں، لیکن عوام کے درمیان مہنگائی اور روزگار کے تحفظ کے حوالے سے خدشات بدستور موجود ہیں۔
ایپسوس پاکستان کے ‘سی ای او عبدالستار بابر’ نے سروے کے نتائج پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ “اگرچہ اکثریت معیشت اور روزگار کے تحفظ کے حوالے سے خدشات رکھتی ہے، لیکن امید کی سطح میں اضافہ حکومت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر حکومت ایک مربوط اور مستحکم حکمت عملی اپنائے، تو عوامی اعتماد میں مزید بہتری آ سکتی ہے۔”
عالمی سطح پر پاکستانی صارفین کا اعتماد بھارت اور چین جیسے ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں کم ہے لیکن برازیل اور جنوبی افریقہ جیسے ممالک کے مقابلے میں پاکستان بہتر پوزیشن پر ہے۔
اس سب صورتحال سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان کو ابھی بھی کئی معاشی اور حکومتی چیلنجز کا سامنا ہے جن پر حکومت کو مسلسل توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
لازمی پڑھیں: ’وزیرڈبل سے پہلے سنگل ڈیکربس تو چلا کردکھائیں‘ حافظ نعیم کی سندھ حکومت پرکڑی تنقید
یہ سروے ایپسوس پاکستان نے مکمل طور پر آزادانہ طور پر کیا ہے، اور اس میں کسی بیرونی ادارے یا اسپانسر کا مالی یا تکنیکی تعاون شامل نہیں تھا، تاکہ نتائج مکمل طور پر غیر جانبدار اور شفاف ہوں۔ سروے 11 سے 18 فروری 2025 کے درمیان پاکستان کے چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے 1000 شہریوں سے حاصل کردہ ڈیٹا پر مبنی ہے۔
یہ سروے ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب رمضان المبارک کا آغاز ہونے والا ہے اور حکومت نے مہنگائی کو سنگل ڈیجٹ میں لانے اور معیشت کو مستحکم کرنے کے دعوے کیے ہیں۔ تاہم، عوام کی مایوسی اور خدشات اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ حکومت کے دعوے زمینی حقیقتوں سے میل نہیں کھا رہے ہیں۔
رمضان کی آمد میں جب عوام روزمرہ کی ضروریات کی خریداری کے لیے پریشان ہیں، تو حکومت کے لیے عوام کا اعتماد دوبارہ حاصل کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔