اپریل 5, 2025 5:03 شام

English / Urdu

Follw Us on:

کراچی میں ڈالا کلچر پر سختی کی ہے اور کریں گے، وزیرِ داخلہ سندھ

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک
دیوانی مقدمات کے سلسلے میں عوام کے لیے سہولتیں پیدا کی ہیں۔ (فوٹو: گوگل)

وزیرِ داخلہ سندھ ضیاء الحسن کا کہنا ہے کہ کراچی میں ڈالا کلچر، جس میں گن مین بیٹھے ہوتے ہیں اس پر سختی کی ہے اور کریں گے، کیونکہ ہم نہیں چاہتے ہمارے بچوں یا ہماری عوام کو خطرات لاحق ہوں۔

سندھ اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے ضیاء الحسن لنجار کا کہنا تھا کہ اسٹریٹ کرائمز میں نمایاں کمی کے لیے تمام تر سنجیدہ کاوشیں جاری ہیں اور وہ یہ بات دعوے سے کہتے ہیں کہ اسٹریٹ کرائمز میں 50 فیصد تک کمی سامنے آئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی کو درپیش چیلنجز اور مسائل سے پاک کرنے کے لیے شہر کو اسلحہ سے پاک کرنا اشد ضروری ہے، یہاں لوگ پرائیوٹ گارڈز کے ساتھ سفر کر رہے ہوتے ہیں، تاہم کوئی کتنا ہی بااثر یا طاقتور کیوں نہ ہو قانون کی پاسداری اسکے لیے بھی لازم ہے۔

وزیرِ داخلہ سندھ نے کہا کہ کراچی میں ڈالا کلچر، جس میں گن مین بیٹھے ہوتے ہیں اس پر سختی کی ہے اور کریں گے، کیونکہ ہم نہیں چاہتے ہمارے بچوں یا ہماری عوام کو خطرات لاحق ہوں۔ وہ خود بھی رات کو ان علاقوں میں جاتے ہیں، جہاں فیملیز بیٹھی ہوتی ہیں اور ایسےعلاقوں کو اسلحہ سے پاک کریں گے، تو لوگوں کو بہتر ماحول مل سکے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں ٹریفک حادثات بھی ایک مسئلہ ہے اور حکومت کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ ایسے مسائل کے حل کے لیے اپنی تمام تر سنجیدہ کاوشوں کو یقینی بنائے۔ اس حوالے سے میں بذات خود ٹریفک حادثات کو مانیٹرکر رہا ہوں اور میں اس ضمن میں ٹریفک پولیس نے اچھے افسران تعینات کیے ہیں۔

ضیاء الحسن نے کہا کہ کراچی میں پارکنگ کے مسئلے کے حل کے لیے بھی اقدامات کررہے ہیں اور اس ضمن میں پارکنگ مافیا کے خاتمے پر فوکس ہے اور انھیں ختم کر کے چھوڑیں گے۔

مزید پڑھیں: منفرد اندازِ بیاں اور گہری سوچ رکھنے والی شاعری کی خالق

وزیر داخلہ سندھ کا کہنا تھا کہ کراچی میں منشیات مافیا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے اور نیدر لینڈ کی سفیر نے ان سے پہلا سوال ہی منشیات مافیا کے حوالے سے کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے ملک کو بھی یہی مسئلہ درپیش ہے اور شاید یہیں سے منشیات ان کی طرف جا رہی ہے، جس پر انھیں بتایا گیا کہ یورپ سے ڈرگز ادھر آرہی ہیں اور اس ضمن میں انھیں ارمغان والے کیس میں ویسٹ سے ذریعہ کورئیر ویڈ کی منتقلی اور آن لائن ادائیگی کے بارے میں بھی آگاہی دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ نامی گرامی تعلیمی اداروں میں بچے منشیات استعمال کر رہے ہیں اور میرے خیال میں اسکولز انتظامیہ کی ملی بھگت کے بغیر منشیات کا اندر آنا ممکن ہی نہیں ہے، والدین سے گزارش ہے کہ اپنے بچوں کو منشیات جیسی لعنت سے بچائیں۔

ضیاء الحسن کا کہنا تھا کہ سیف سٹی پروجیکٹ کے تحت ابتک 1300 کیمرے نصب ہوچکے ہیں، جب کہ مجموعی طور 14000 ہزار کمیرے نصب کرنے ہیں، جب کہ نصب کردہ کیمروں کو بھی انٹیگریٹ کردیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب اور کے پی کے میں دہشت گردی کے واقعات ہوئے ہیں اور ان واقعات کے تناظر میں سندھ حکومت، پولیس، رینجرز اور قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے ہمہ وقت مستعد و تیار ہیں، وطن اور صوبے پر کسی کو بھی میلی آنکھ سے دیکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

وزیرِ داخلہ سندھ نے کہا کہ حکومتِ سندھ 09 بلین کی لاگت سے سندھ فارنزک لیب تعمیر کرنے جارہی ہے، جس میں ڈی این اے، فنگر پرنٹس، کیمیکل فارنزک وغیرہ جیسی سہولیات دستیاب ہوں گی اور اس لیب کے ڈی جی کے لیے بھی باقاعدہ اشتہار جاری کر چکے ہیں اور انشاءاللہ سال 2026 کے دسمبر تک اس کا افتتاح کردیا جائے گا، یہ لیب پاکستان کی ایک جدید اور سب سے بہتر لیب ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ کچے میں درپیش مسائل میں کمی آئی ہے، جب انہوں نے عہدے کا چارج سنبھالا تو اس وقت مغویان کی تعداد 35، جب کہ آج صرف تین ہے۔ اس وقت شکارپور میں کوئی مغوی نہیں ہے۔ پولیس نے اپنی بہترین حکمت عملی سے چھ سو شہریوں کو ہنی ٹریپ سے بچایا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: صدر مملکت کا یوم پاکستان اور عید الفطر پر قیدیوں کے لیے معافی کا اعلان

ضیاء الحسن نے کہا کہ وفاق سے گزارش ہے کہ ہمیں جدید اسلحہ اور بکتر بند گاڑیاں فراہم کی جائیں اور حزب اختلاف کے رہنماؤں سے بھی گزارش ہے کہ وہ آگے آئیں اور جرائم کے خلاف ہماری پالیسیوں اور اقدامات کو مذید تقویت دیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم سی ٹی ڈی کمپلیکس تعمیر کرنے جارہے ہیں، جس کی تعمیر کی رقم 2.5 ملین رقم جاری ہوچکی ہے، ہم نے ہائی وے پیٹرول پولیس کے لئے بھی بجٹ مختص کرنے کی سفارشات حکومت سندھ کو ارسال کردی ہیں، جب کہ تھانہ جات کے لیے مختص کردہ بجٹ آئی جی سندھ نے پہلے ہی سے ایس ایچ اوز کے ڈسپوزل پر رکھ دیا ہے۔ اس وقت دو ہزار آئی اوز کو تربیت دینے کا سلسلہ جاری ہے، تفتیش اچھی اور بہتر ہونے سے جرائم میں کمی آئی ہے۔ ہم نے سندھ میں آئینی بینچز بنائی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دیوانی مقدمات کے سلسلے میں عوام کے لیے سہولتیں پیدا کی ہیں اور اس ضمن میں دو سو نئے پراسیکیوٹر کی بھرتی کی جا رہی ہے۔ انھیں قوی امید ہے کہ اگلا سال اس قوم، صوبے و ملک کے لیے بہتر ہوگا۔

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس