پاکستان نے چین کے بینک (ICBC) کو ایک ارب ڈالر کا قرض واپس کر دیا ہے، جس کی وجہ سے ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو کر 10.6 بلین ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ حکومت امید کر رہی ہے کہ چین اس قرض کو دوبارہ فنانس کرے گا، لیکن ابھی تک شرح سود طے نہیں ہوئی۔
پاکستان نے یہ قرض دو قسطوں میں ادا کیا۔ پہلی قسط مارچ کے شروع میں اور دوسری قسط مارچ کے تیسرے ہفتے میں دی گئی۔ مزید 2.7 بلین ڈالر کے چینی قرضے اپریل سے جون 2024 کے درمیان واپس کرنے ہیں، جن میں 2.1 بلین ڈالر کے تین مختلف چینی کمرشل بینکوں کے قرض شامل ہیں۔
مرکزی بینک کے ذخائر میں کمی کے بعد حکومت نے مارکیٹ سے ڈالر خریدے اور کچھ غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعے اس کمی کو پورا کیا۔ اس سے قبل مرکزی بینک کے گورنر نے کہا تھا کہ 2024 میں زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے کے لیے 9 بلین ڈالر خریدے گئے تھے، ورنہ ذخائر دو بلین ڈالر سے بھی کم ہو سکتے تھے۔
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اس ہفتے معاہدہ طے پایا ہے، جس کے تحت پاکستان کو ایک بلین ڈالر کی قسط مل سکتی ہے، لیکن اس کی منظوری مئی یا جون میں متوقع ہے۔ اگر یہ اجلاس جون میں ہوا تو آئی ایم ایف پہلے مالی سال 2025-26 کے بجٹ کا جائزہ لینا چاہے گا۔
پاکستان نے چین سے 3.4 بلین ڈالر کے قرض کو دو سال کے لیے مؤخر کرنے کی درخواست بھی کر رکھی ہے تاکہ مالیاتی فرق کو پورا کیا جا سکے، لیکن ابھی تک اس پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ وزارت خزانہ کو آئی ایم ایف پروگرام کے تین سالہ عرصے کے دوران 5 بلین ڈالر کے بیرونی فنانسنگ ذرائع تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔
آئی ایم ایف نے تسلیم کیا ہے کہ پاکستان کا بیرونی شعبہ کچھ حد تک مستحکم ہوا ہے، لیکن اس میں اب بھی کمزوریاں موجود ہیں۔ ان مسائل کو سخت مالیاتی پالیسیوں اور شرح مبادلہ میں لچک کے ذریعے دور کیا جا سکتا ہے۔
پاکستانی روپے کی قدر حالیہ دنوں میں کم ہوئی ہے، اور ڈالر کے مقابلے میں 280.2 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ حکومت جائیداد، مشروبات اور تمباکو پر مزید ٹیکس عائد کرے تاکہ سرمایہ کاری کو پیداواری شعبے کی طرف منتقل کیا جا سکے۔
پاکستان ابھی بھی نئے غیر ملکی قرضوں اور پرانے قرضوں کی ری فنانسنگ پر انحصار کر رہا ہے۔ اگر حکومت بروقت مالی مدد حاصل نہ کر سکی تو زرمبادلہ کے ذخائر مزید کم ہو سکتے ہیں، جس سے معیشت کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔